کراچی میں مردان ہاؤس اور نائن زیرو کا فاصلہ

Image caption عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ گیارہ مئی 2007 کو ہوا تھا

کراچی میں مردان ہاؤس سے نائن زیرو کا فاصلہ کتنا ہے؟ اگر گوگل میپ میں دیکھا جائے تو یہ فاصلہ زیادہ سے زیادہ سولہ کلومیٹر بنتا ہے جہاں پہنچے کے لیے تیس منٹ درکار ہیں لیکن اگر سیاسی فاصلہ دیکھا جائے تو چھ سال کی شدید مخالفت، تنقید اور الزام بازیاں راستے میں نظر آتی ہیں۔

کراچی میں عوامی نیشنل پارٹی کا سیاسی دفتر باچا خان مرکز تو بنارس کے علاقے میں ہے مگر سکیورٹی خدشات کی وجہ سے تمام اہم نوعیت کے معاملات ملاقاتیں اور اجلاس مردان ہاؤس میں منعقد کیے جاتے ہیں، جو ڈیفنس میں واقع ہے اور عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر شاہی سید کا گھر ہے۔ شاہی سید کچھ عرصہ قبل تک ایم کیو ایم کی قیادت کے پاس انتہائی ناپسندیدہ شخصیت رہے ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ بارہ مئی 2007 کو ہوا تھا جب سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کراچی آئے تھے اور ان کے استقبال کے لیے جانے والے قافلوں پر حملے کیے گئے۔

دونوں جماعتوں کی مخالفت لسانی کشیدگی کا باعث بنی، اسی دوران 2008 کے انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی دو صوبائی نشستیں پر کامیاب ہوکر کراچی میں اپنے سیاسی حصہ منوانے میں کامیاب ہوگئی۔

اختلافات کے باوجود عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ سندھ میں اتحادی حکومت کا حصہ رہیں۔ دونوں جماعتوں میں کئی بار شدید کشیدگی پیدا ہوئی اور شہر میں لسانی بنیادوں پر ہلاکتوں کا ایک نیا باب رقم ہوا۔ پانچ سالوں میں سات ہزار سیاسی بنیادوں پر نشانہ بنایا گیا جن میں اکثریت پشتون کی تھی۔

اتحادی حکومت سے عوامی نیشنل پارٹی کی علیحدگی کی وجہ بھی متحدہ قومی موومنٹ ہی بنی تھی جب سندھ میں نئے بلدیاتی نظام کا نفاذ کیا، مسلم لیگ فنکشنل، نیشنل پیپلز پارٹی کے ساتھ عوامی نیشنل پارٹی بھی اپوزیشن نشستوں پر چلی گئی۔

متحدہ قومی موومنٹ کا گزشتہ چھ سالوں سے موقف رہا ہے کہ کراچی میں طالبانائزیشن میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن عوامی نیشنل پارٹی اس موقف کی مخالفت کرتی رہی۔ اے این پی کے بعض رہنماوں کا خیال تھا کہ اس الزام کا مقصد پشتون آبادی کو نشانہ بنانا ہے۔

کالعدم تحریک طالبان کی کارروائیوں نے متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کو حریف سے حلیف بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ دسمبر میں اے این پی کے رہنما بشیر بلور کی حملے میں ہلاکت پر ایم کیو ایم نے سوگ کا اعلان کیا، جس کے بعد کراچی میں رکن صوبائی اسمبلی منظر امام کے قتل پر عوامی نیشنل پارٹی کی مقامی نے نائن زیرو پہنچ کر تعزیت کا اظہار کیا۔ اس طرح برف پگھلنے لگی۔

الیکشن مہم کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی پر طالبان کے حملوں نے تینوں جماعتوں کے سربراہوں صدر آصف علی زرداری، الطاف حسین اور اسفندیار ولی کو رابطوں اور مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے پر مجبور کردیا۔

قیادت کے حکم پر مخالفت کی سرحدیں عبور کرکے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر سینیٹر شاہی ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پہنچ گئے، جہاں ملاقات اور پریس کانفرنس کے دوران وہ اپنی بے چینی ختم کرنے کے لیے چیونگم چباتے رہے۔

شاہی سید کا کہنا ہے کہ اس ملاقات اور مشترکہ پریس کانفرنس کا ان کے خیالات کے برعکس بہت مثبت رد عمل سامنے آیا اور عام لوگوں نے اس کا خیرمقدم کیا۔

کراچی میں سیاسی کشیدگی کی وجہ سے پشتون اور اردو آبادی میں لسانی کشیدگی پیدا ہوئی تھی، اب وہ سیاسی جماعتیں اس کو کم کرنے کی خواہشمند ہیں۔

شاہی سید کے پاس دوریاں کم کرنے کا ایک سیدھا سادھا فارمولا ہے۔ ان کے مطابق اردو آبادی میں اگر کوئی ٹیکسی یا رکشہ والا چھوڑنے جائے یا کوئی مزدور کام کرے تو معاوضے کے ساتھ اسے کچھ ٹپ دے دیں اور کہیں کہ خان صاحب شکریہ، سات میں چائے کی پیشکش کردیں تاکہ اسے اپناعیت کا احساس ہو۔

پشتون آبادی میں اگر اردو بولنے والے آتے ہیں یا کام کرتے ہیں تو پشتون اس سے بھی وہ ہی رویہ اختیار کریں اور بھائی صاحب کہہ کر مخاطب کریں تاکہ یہ دوریاں ختم ہوں۔

نائن زیرو، مردان ہاؤس، پیپلز ہاؤس میں سابق اتحادی جماعتوں کی طالبان کی دھمکیاں میں نہ آنے اور انتخابات میں شریک ہونے کے اعلانات کی پریس کانفرنس ہوچکی ہیں۔ اس کے علاوہ سینیٹ میں ایک دوسرے کے خلاف بائیکاٹ اور احتجاج کرنے والی جماعتیں اب مشترکہ احتجاج ریکارڈ کرائیں گی۔

صحافی اور تجزیہ نگار اعجاز شیخ کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ کی سیاسی ہم آہنگی اگر انتخابی اتحاد یا سیٹ ایڈجسمنٹ میں تبدیل ہوجاتی ہے تو پھر کراچی میں سیاسی منظرمیں بڑی تبدیلی آسکتی ہے اور ہر حلقے میں اس اتحاد کو برتری حاصل ہوگی۔

کراچی کی بیس قومی اور بیالیس صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر اس وقت سوائے تحریک انصاف کے تمام جماعتیں اتحاد کی صورت میں انتخابات میں شریک ہیں، جن میں دس جماعتی اتحاد اور متحدہ دینی محاذ شامل ہیں۔

پاکستان کے صدر اور پیپلز پارٹی کے سابق شریک چیئرمین آصف علی زرداری اپنی تقاریر میں یہ کئی بار کہتے رہے ہیں اتحادی جماعتیں مشترکہ طور پر انتخابات میں حصہ لیں گی لیکن اس پر عمل درآمد صرف پنجاب میں ہی ممکن ہوسکا، سندھ میں انہیں کامیابی نہیں ملی۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر شاہی سید کا کہنا ہے کہ انہوں نے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی قیادت کو یہ مشورہ دیا ہے کہ اگر مشترکہ طور پر انتخابات میں شریک ہوتے ہیں تو مخالفین اور طالبان دونوں کو شکست دیتے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ اس کی کوئی نہ کوئی شکل نکل آئے گی۔

اسی بارے میں