فوج پر حملوں کے منصوبے، 5 قیدیوں سے تفتیش

پاکستان کی خفیہ اداروں نے پانچ قیدیوں کو جیل کے اندر سے فوجی قافلوں پر حملوں اور اعلیٰ فوجی افسران کو اغوا کرنے کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں حراست میں لے کر تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔

حراست میں لیے گئے افراد گُزشتہ تین سال سے بہاولپور اور اڈیالہ کے جیلوں میں قید تھے اور ان کے میران شاہ اور کوہاٹ میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان اور اُس کی ہم خیال جماعت غازی فورس کے کارکنوں کے ساتھ قریبی روابط ہیں۔

بہاولپور جیل کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اُن کی جیل میں قید تین قیدیوں کو تین روز پہلے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔

سویلین خفیہ ادارے کے ذرائع کے مطابق ان قیدیوں کو جیل سے میران شاہ کوہاٹ اور پارا چنار میں اپنی جماعت کے کارکنوں کے ساتھ ٹیلیفونک رابطوں پر گرفتار کیا گیا ہے جن میں وہ ان علاقوں میں فوجی قافلوں کو نشانہ بنانے اور مطالبات کی منظوری کے لیے اعلیٰ فوجی افسران یا اُن کے اہلخانہ کو اغوا کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

ذرائع کے مطابق یہ قیدی کوہاٹ میں معظم اور میران شاہ میں کفیل خان اور جاوید مروت نامی افراد سے گفتگو کر رہے تھے اور اُنہیں مینہ طور پر فوج اور علاقے میں موجود پیرا ملٹری فورس کو نشانہ بنانے کے حوالے سے ہدایات جاری کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ وہ حساس اداروں کے افسران اُن کے اہلخانہ اور بلخصوص بچوں کو سکول سے جاتے یا واپسی پر اغوا کرنے سے متعلق بھی ہدایات دے رہے تھے۔

بہاولپور جیل سے حراست میں لیے جانے والے تین قیدیوں میں وحید اللہ اور توقیر بھی شامل ہیں جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اُنہیں حساس اداروں نے سنہ دوہزار نو میں قبائلی علاقوں میں فوجی قافلوں پر حملہ کرنے کے الزام میں حراست میں لیا تھا۔

پہلے ان قیدیوں کو اڈیالہ جیل میں رکھا گیا تھا بعدازاں اُنہیں بہاولپور جیل منتقل کردیا گیا تھا جہاں پر فوجی قافلوں پر حملوں میں ملوث دیگر ملزمان کو بھی رکھا گیا ہے۔ ان قیدیوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ دیسی ساختہ بم اور دیگر دھماکہ خیز مواد بنانے کے ماہر ہیں۔

ان تین قیدیوں سے پوچھ گچھ کے بعد راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے بھی دو قیدیوں کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔ اس ضمن میں جب اڈیالہ جیل کے حکام سے رابطہ کیا گیا تو اُنہوں نے اس پیش رفت سے متعلق کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا۔

حساس اداروں کے اہلکار ان قیدیوں سے اب تک ہونے والی تفتیش کی روشنی میں اُن افراد کو بھی تلاش کر رہے ہیں جن کے ساتھ ملزمان نے بات کی تھی اور اُنہیں حملوں اور کارروائیوں سے متعلق ہدایات دے رہے تھے۔

اسی بارے میں