’مانا صحافت ہمارا پیشہ ہے۔۔۔‘

آج اقوام متحدہ کے زیر اہتمام آزادی صحافت کا عالمی دن منایا جارہا ہے جس کا موضوع ہے تمام ذرائع ابلاغ میں اظہار رائے کی آزادی کا تحفظ یقینی بنایاجائے۔

ادھر پاکستان میں عام انتخابات چند ہی روز میں منعقد ہونے والے ہیں اور اس موقع پر تمام سیاسی جماعتوں کی سیاسی سرگرمیاں اور انتخابی مہمات، عوام کی دلچسپی کا خاص مرکز بنی ہوئی ہیں۔ لیکن صحافی ، شدت پسندوں کی جانب سے بلاواسطہ خطرے کے باوجود اپنے پیشہ ورانہ فرائض پورے کر رہے ہیں۔

کراچی میں ایک مقامی ٹی وی میں کام کرنے والے صحافی اسلم خان بتاتے ہیں کہ شدت پسند تنظیمیں، کسی بھی سیاسی جماعت کے کیمپ یا پولنگ بوتھ کو نشانہ بناتی ہیں تو ایسی صورت میں وہاں موجود صحافی کی جان کو خطرہ ہوگا۔

’کراچی میں انتخابات کے دوران تین ہزار سے زیادہ پولنگ سٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ اور ان پولنگ سٹیشنز پہ صحافی رپورٹنگ کی غرض سے ضرور جائیں گے۔ صحافیوں کو براہ راست خطرہ نہیں ہے لیکن بلاواسطہ طور پر یہ خطرہ بہرحال موجود ہے۔ ادارے تحفظ فراہم نہیں کرتے یہ کام اپنی مدد آپ کے تحت ہی کرنا پڑتا ہے۔‘

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے علاقے لنڈی کوتل سے فری لانس کام کرنے والے صحافی مُدثر شاہ بتاتے کا کہنا ہے ’صحافیوں کو شدت پسندوں، انٹیلیجنس ایجنسیاں اور عام لوگوں کی وجہ سے بھی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ الیکشن کے دوران شدت پسندوں کی جانب سے کھلے عام سیاسی جماعتوں کو نشانہ بنانے کی بات کی گئی ہے۔ اور صحافی ہمیشہ سیاسی جماعتوں کی کوریج کے لیے موقعے پر ہی موجود ہوتے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ اب تو صحافی دوست خود ایک دوسرے سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’مانا صحافت ہمارا پیشہ ہے اور دُرست صحافت ہمارا فرض ہے لیکن ایمانداری سے کام کرنے کی وجہ سے ہماری جانوں کو خطرہ ہوسکتا ہے اور اگر ہم نہ رہیں تو ہمارے بال بچوں کا کیا بنے گا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ غیر ملکی میڈیا انہیں شورش زدہ علاقوں میں کام کرنے تربیت دیتے ہیں لیکن جب انہیں یہ بات معلوم ہو کہ اس علاقے میں خطرہ موجود ہے تو وہ اس بات کی اجازت ہی نہیں دیتے کہ آپ رپورٹ کریں۔ ’لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں ہے کہ ہم رپورٹ ہی نہ کریں۔‘

الیکشن کے دوران صحافیوں کی جان کے تحفظ کے لیے صحافتی اداروں نے کیا تیاری کر رکھی ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل دُنیا ٹی وی کے بیورو چیف ضمیر حیدر کا کہنا ہے کہ انہوں نے فیلڈ میں جانے والے رپورٹرز کے لیے بُلٹ پروف جیکٹس کا بندوبست کیا ہے۔

’اطلاعات یہ ہیں کہ شدت پسند حملے کرنے سے باز نہیں آئیں گے۔ اسی لیے ہم اپنے صحافیوں کو اپنے تئیں تربیت دے رہے ہیں کہ وہ کس طرح اپنی حفاظت کو ممکن بناسکتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ رپورٹرز کو احکامات دے رکھے ہیں کہ اگر بہت ضروری نہیں ہے تو لیڈر کے قریب نہ جائیں۔ اس کے علاوہ پولنگ بوتھ پر رپورٹنگ کے دوران سکیورٹی کے دائرے میں ہی رہیں۔’الیکٹرانک میڈیا کی مجبوری ہے کہ اُس کے صحافی کو تمام سازوسامان اور عملے کے ساتھ موقع پر پہنچنا ہوتا ہے۔‘

صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے پاکستان یونین آف جرنلسٹ کے صدر پرویز شوکت نے موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن میں سیاست دانوں سے زیادہ ہمارے صحافیوں کے لیے خطرات موجود ہیں۔ ’صحافی انتہائی خطرناک حالات میں بھی گھروں میں نہیں بیٹھ سکتے جبکہ سیاست دان تو اپنی میٹنگز ملتوی بھی کر سکتے ہیں۔‘

پرویز شوکت کا کہنا تھا اکثر صحافی بریکنک نیوز کے رواج اورمقابلے کی دوڑ کی وجہ سے کسی حادثے کا نشانہ بنتے ہیں۔ ’وہ کوشش کرتے ہیں کہ جلد سے جلد جائے وقوعہ کی فوٹیج حاصل کی جائے جو ان کی جان کے لیے خطرناک ثابت ہوتا ہے۔‘

ساتھ ساتھ انہوں نے میڈیا مالکان کے اس رویے کی سختی سے مذمت کی کہ ان کے پاس کیمروں اور دیگر سامان کی انشورنس موجود ہے لیکن صحافی کی جان کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔

اسی بارے میں