سینئیر افغان صحافی انتقال کرگئے

Image caption یعقوب شرافت نے سنہ 1982 میں افغان جہاد کے دوران افغان اسلامک پریس کے نام سے خبر رساں ادارے کی بنیاد ڈالی

پاکستان میں تقریباً تین دہائیوں سے صحافت کے پیشے سے منسلک سینئیر افغان صحافی، شاعر، مصنف اور افغان نیوز ایجنسی اے آئی پی کے ڈائریکٹر محمد یعقوب شرافت دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔ ان کی عمر 55 برس تھی۔

مرحوم کے صاحبزادے محمد حفیظ ستوری نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے والد کی طبعیت بالکل ٹھیک تھی لیکن جمعہ کی صبح جب ان کو فجر کی نماز کے لیے جگانے کی کوشش کی گئی تو معلوم ہوا کہ وہ رات کو ہی انتقال کر چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے والد کئی سالوں سے دل کے مرض میں مبتلا تھے جبکہ ان کے دل کا آپریشن بھی ہوچکا تھا۔

مرحوم کی نماز جنازہ جمعے کی صبح پشاور میں ادا کی گئی جس کے بعد ان کی میت کو افغانستان روانہ کیا گیا جہاں جلال آباد میں انہیں ان کے آْبائی قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

محمد یعقوب شرافت پشاور میں افغان صحافیوں کے بانی کے طور پر جانے جاتے تھے۔ انہوں نے اپنی صحافتی کیریئر کا آغاز افغان جہاد کے دوران کیا۔

وہ روس کے خلاف سرگرم مشہور جہادی کمانڈر اور حزب اسلامی افغانستان (خالص) کے سربراہ مرحوم مولوی محمد یونس خالص کے بھتیجے تھے۔ وہ جہاد کے دنوں میں حزب اسلامی کے نشر و اشاعت کے شعبے سے منسلک رہے اور یہاں سے ہی وہ پھر صحافت کے میدان میں بھی آئے۔

یعقوب شرافت نے سنہ 1982 میں افغان جہاد کے دوران افغان اسلامک پریس (اے آئی پی) کے نام سے ایک خبر رساں ادارے کی بنیاد ڈالی۔

ابتدائی دنوں میں اس نیوز ایجنسی کو کوئی خاص شہرت حاصل نہیں ہوئی بلکہ یہ ادارہ بڑی بڑی بین الاقوامی نیوز ایجنسیوں اور اخبارات کو مفت خبریں بھیجا کرتا تھا۔ تاہم نوے کی دہائی میں روس افغانستان سے نکل گیا اور مجاہدین کی حکومت قائم ہوئی تو اس وقت اے آئی پی نے افغانستان سے بعض مستند خبریں سب سے پہلے بریک کرکے بین الاقوامی نیوز اداروں کی توجہ حاصل کی۔

اس خبررساں ادارے کو عالمی شہرت اس وقت ملی جب سنہ 1996 میں طالبان نے افغانستان پر قبضہ کر لیا۔ ان دنوں افغان اسلامک پریس افغانستان میں پوری دنیا کے لیے واحد آزاد اور مستند ذریعہ تھا جو افغانستان سے خبریں جاری کرتا تھا۔

اے آئی پی تین زبانوں پشتو، اردو اور انگریزی میں خبریں جاری کرتا ہے جسے پوری دنیا میں آزاد اور مستند اطلاعات جاری کرنے پر مقبولیت حاصل ہے۔

محمد یقعوب شرافت پچھلے تقریباً 30 سالوں سے پشاور میں فیملی سمیت مقیم تھے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم افغانستان کے شہر جلال آباد کے دینی مدارس سے حاصل کی۔ انہوں نے پشاور یونیورسٹی سے اسلامیات اور عربی کے مضامین میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کی۔ مرحوم کو چار زبانوں پشتو، اردو، عربی اور فارسی پر عبور حاصل تھا۔

پشاور میں یقعوب شرافت کے قریبی ساتھی اور سحنئیر صحافی حافظ ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ مرحوم انتہائی ذہین، نڈر اور محنتی صحافی تھے۔ ’انہوں نے ہمیشہ قلم کے ذریعے سے پاک افغان تعلقات کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کیا اور حقیقی صحافت کو فروغ دیا‘۔

انہوں نے کہا کہ یقعوب شرافت نے کبھی صحافتی اصولوں پر سودا بازی نہیں کی اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی کئی بڑے بڑے صحافتی اور خبر رساں ادارے اے آئی پی کے خبریں استعمال کرتے ہیں۔ ان کے مطابق بین الاقوامی صحافتی دنیا میں آج بھی مستند خبریں دینے پر افغان اسلامک پریس کا اپنا ایک نام برقرار ہے۔

محمد یعقوب شرافت صحافی کے ساتھ شاعر اور مصنف بھی تھے۔ مرحوم نے اپنی زندگی میں چار کتابیں تحریر کیں جن میں شاعری کی کتاب ’آبِ حیات‘، افغان جہاد پر مبنی تاریخی کتاب ’سپیزلے پاثون‘ اور مناسک حج کے متعلق کتاب شامل ہے جبکہ حال ہی میں انہوں نے سیرت البنی پر بھی ایک کتاب مکمل کی ہے جو ابھی مارکیٹ میں نہیں پہنچی۔

انہوں نے افغان جہاد کے دوران پشتو، عربی اور انگریزی زبانوں کے دو رسالوں ’جہاد افغانستان اور النور‘ کی بنیاد رکھی اور مدیر کے فرائض بھی سرانجام دیے۔ وہ کئی بین الاقوامی ریڈیو چینلز وائس آف امریکہ، ریڈیو فری یورپ اور ریڈیو پاکستان کےلیے بھی کام کرتے رہے ہیں۔

محمد یعقوب شرافت افغان جہاد کے دوران ریڈیو پاکستان کے ایک مشہور پشتو پروگرام ’ ہندارہ‘ کےلیے دس سال تک سکرپٹ لکھنے کا کام بھی کرتے رہے۔ مرحوم نے اپنے پیچھے نو بیٹے بیٹیاں سوگوار چھوڑی ہیں۔

اسی بارے میں