سونو کوہلی اور مرزا فارم ہاؤس کی الگ دنیائیں

Image caption بینا مائی گذشتہ تین برس سے اپنی مدد آپ کے تحت مرحلہ وار اپنے مکان کی تعمیر کر رہی ہے

زندگی کی سختیوں کی جھلک بینا مائی کے چہرے پر بھی دکھائی دیتی ہے۔ دھوپ میں مشقت کرتے کرتے اس کا پورا بدن جھلس چکا ہے اور اب تو وہ شاید دھوپ چھاؤں کے فرق سے بےپرواہ ہو چکی ہے۔

جب ہی تو مئی کی اس گرمی میں وہ صبح سے کئی کڑاہیاں گارا تالاب سے پاس سے اٹھا کر گاؤں پہنچا چکی ہے تاکہ تین سال پہلے سیلاب میں بہہ جانے والے اپنے مکان کا ایک اور کمرہ تیار کر سکے۔

پاکستان کے انتخابات 2013: بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

بینا کہتی ہیں ’جب سیلاب آیا تو ہمارا سب کچھ ڈوب گیا۔ ہم کئی دن بچوں کے ساتھ بغیر چھت کے بیٹھے رہے ۔ کئی دنوں کے بعد ایک خیمہ ملا اور کئی مہینوں کے بعد ہم نے خود اپنا مکان دوبارہ بنانا شروع کیا کسی نے ہمیں مڑ کر نہیں دیکھا۔‘

بینا کا گاؤں سونو کوہلی سندھ کے شہر بدین کے بالکل ساتھ جڑا ہے۔ دوہزار دس کے سیلاب کے میں جب پورا بدین ڈوبا تو سونو کوہلی کے مکین بھی بے گھر ہوگئے۔ یہاں ابھی بھی کسی گھر کی چھت نہیں تو کسی کی دیوار نہیں۔

بینا مائی اور اس کا شوہر رانا گذشتہ تین برس سے اپنی مدد آپ کے تحت مرحلہ وار اپنے مکان کی تعمیر کر رہے ہیں۔ سونو کوہلی کے لوگ روایتی طور پر پیپلزپارٹی کے ووٹر ہیں لیکن رانا کہتے ہیں کہ ان کے حلقے کے منتخب نمائندوں فہمیدہ مرزا اور ذوالفقار مرزا نے سیلاب کے بعد ان کی خبر تک نہیں لی۔

’مرزا کی گاڑی یہاں سڑک سے کئی بار گزرتے دیکھی۔ سیلاب کے بعد ہمارے گھر ڈوبے تو ہم بے آسرا ہو کر سڑک پر بیٹھ گئے لیکن کسی نے ہماری خبر نہ لی یہ نہ پوچھا کہ زندہ ہو یا مرگئے تمھیں کچھ کھانے کو ملا یا نہیں۔‘

بینا کے خاندان کی طرح قدرتی وسائل سے مالامال بدین کی آبادی کی اکثریت غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے جس کا اندازہ لاہور یا کراچی سے جانے والوں کو شہر کی حالت دیکھ کر آسانی سے ہو جاتا ہے۔

لیکن سونو کوہلی سے چند سو گز کے فاصلے پر مرزا فارم ہاؤس میں ایک اور ہی دنیا آباد ہے۔ مرزا فارم ہاؤس بدین میں ذوالفقار مرزا اور فہمیدہ مرزا کی رہائش گاہ ہے۔ ایکڑوں پر پھیلے اس فارم ہاؤس کے اندر داخلہ آسان نہیں۔ اسلحے سے لیس محافظوں کی فوج،گھوڑے،جدید گاڑیاں، واٹر سکوٹرز اور قیمتی پرندوں کے پنجرے باہر سے آنے والوں کو ایک عجیب شان و شوکت کا احساس دلاتے ہیں۔

فہمیدہ مرزا ماضی کی طرح اس بار بھی اسی حلقے سے پیپلزپارٹی کی قومی اسمبلی کی امیدوار ہیں لیکن ان کی رہائشگاہ پر انتخابات سے چند روز پہلے بھی عوامی رابطہ مہم کے آثار دکھائی نہیں دے رہے لگتا ایسا ہے کہ وہ اس بار بھی اپنی کامیابی کے لیے پر اعتماد ہیں اور انتخابی مہم ان کے لیے بہت اہم نہیں۔

فہمیدہ مرزا کے مقابلے پر بدین سے قومی اسمبلی کی نشست پر دو مزید خواتین انتخاب میں حصہ لے رہی ہیں جن میں سے ایک فنکشنل لیگ کی بی بی یاسمین شاہ بھی ہیں۔ یاسمین شاہ سمجھتی ہیں کہ اب بدین کے عوام میں بھی شعور بڑھا ہے اور وہ باربار آزمائے ہوؤں کو پھر نہیں آزمائیں گے ۔

’اب یہاں کے لوگوں نے ٹھیکہ تو نہیں لیا ہوا نہ چالیس سال سے پیپلزپارٹی کو ووٹ دینے کا۔ یا تو پیپلزپارٹی کے پاس کوئی پروگرام ہو روٹی کپڑا اور مکان کی جگہ انھوں نے دیا ہی کیا ہے۔ لوگوں کو ننگا کر دیا ہے لوگ خودکشیاں کر کے قبرستان پہنچ گئے ہیں۔ مکان ان کے پاس ہیں نہیں وہ سڑکوں پر بیٹھے ہیں۔‘

Image caption کچھ حد تک پیپلزپارٹی کے امیدوارں کو بدین کے شیعہ ووٹوں سے بھی ہاتھ دھونے پڑیں گے

یاسمین شاہ کے مقابلے کے ساتھ اس مرتبہ کچھ حد تک پیپلزپارٹی کے امیدوارں کو بدین کے شیعہ ووٹوں سے بھی ہاتھ دھونے پڑیں گے ۔ بدین میں شیعہ آبادی بڑی تعداد میں آباد ہے اور اس بار شیعہ تنظیم وحدت مسلمین نے یہاں سے اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں۔

بدین کے ایک شیعہ ووٹر اقبال احمد کہتے ہیں ’ہم اپنے فقہے کو ووٹ ڈالیں گے۔ جب تک ہم نے ان لوگوں کو ووٹ دیا انھوں نے ہمارے لیے کچھ نہیں کیا۔ اب ان کو بھی ایک موقعہ دے کر دیکھیں یہ کیا کرتے ہیں’۔

پہلے کی نسبت زیادہ سخت مقابلہ اور سیلاب متاثرین کا شکوہ اپنی جگہ اندرون سندھ کے اکثر علاقوں کی طرح بھٹو خاندان سے روایتی محبت کا شعلہ بدین کے عوام کے سینوں میں بھی بدستور موجود ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بینا مائی اور سونو کوہلی کے دوسرے مکینوں کو اس بات سے غرض نہیں کہ مرزا خاندان نے مصیبت کے وقت ان کے آنسو نہیں پونچھے وہ تو پہلے بھی ووٹ بھٹو خاندان کو ڈالتے تھے اور آج بھی ان کا ووٹ بےنظیر کی امانت ہے۔

بینا مائی کہتی ہیں ’بے نظیر نے ہمارے لیے جان دی ہے اور چاہے کچھ بھی ہو ہمارا ووٹ بےنظیر کے لیے ہی ہے۔‘

اسی بارے میں