الیکشن سے عام آدمی کیا چاہتا ہے؟

پاکستان میں 11 مئی کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل پرتشدد واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے لیکن سکیورٹی سے متعلق ان کے خدشات کے باوجود انتخابات میں سب سے اہم تو ووٹر ہی ہیں جو طے کریں گے کہ اگلی حکومت کون بنائے گا۔

بی بی سی کے شاہ زیب جیلانی نے کراچی میں کچھ ووٹروں سے جاننے کی کوشش کی کہ انتخابات میں ووٹ دیتے ہوئے ان کے لیے کون سی باتیں اہم ہوں گی۔

عبدالحافظ، 47 سال، دکاندار

میں 25 سال سے تصاویر کے فریم بنا کر بیچ رہا ہوں لیکن کبھی اتنا مشکل وقت نہیں دیکھا۔ ہمارے لیے بڑھتی ہوئی مہنگائی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

ہمارے خام مال کی قیمتیں بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں جبکہ گاہک سامان اسی پرانے نرخ پر خریدنا چاہتے ہیں۔ اس سے ہماری فروخت کم ہو رہی ہے اور نقصان ہو رہا ہے۔

میں پولنگ والے دن ووٹ ڈالنے نہیں جاؤں گا۔ ہمیں اپنی جان کی فکر ہے کیونکہ سیاسی پارٹیاں دھمکیاں دیتی ہیں۔

تو پھر، میں کیوں فکر کروں؟ سیاسی جماعتوں کو ہمارا ووٹ چاہیے تاکہ وہ الیکشن جیت سکیں اور بدعنوانی کر کے خود امیر ہوں۔ کسی کو ملک یا لوگوں کی فکر نہیں ہے.

مجھے انتخابی عمل پر کوئی یقین نہیں ہے۔ گزشتہ 65 سالوں میں تو حکمرانوں نے کچھ کیا نہیں ہے اور نہ ہی وہ اب کریں گے۔

میں اپنے اردگرد دیکھتا ہوں کہ امیر اور امیر ہو رہے ہیں جبکہ غریب مزید غریب ہوتے جا رہے ہیں۔

انزلہ خان، 21 سال، زیرِ تربیت ماہرِ امراض چشم

میں اس لیے یہ کورس کر رہی ہوں کیونکہ میں پاکستان کی مدد کرنا چاہتی ہوں۔ پاکستان جیسے ہمارے غریب ملک میں لوگ آنکھوں کا مہنگا علاج اکثر نہیں کروا پاتے ہیں۔

لیکن میری نسل کے لوگوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری ہے۔ مجھے نہیں پتہ کہ تربیت مکمل کرنے کے بعد مجھے نوکری ملے گی یا نہیں۔

میرے بہت سے سارے دوست ہیں جنہوں نے اچھی تعلیم اور ڈگریاں حاصل کی ہیں۔ میں امید کرتی ہوں کہ نئی حکومت روزگار کے مواقع بڑھانے اور سکیورٹی کو بہتر کرنے پر توجہ دے گی.

میں چاہتی ہوں کہ ہمارے لیڈر خود کش بم حملوں اور خاص کر کراچی میں ٹارگٹ کلنگ روکنے کے لیے قدم اٹھائیں۔

عابدہ ملک، 58 سال، خاتونِ خانہ

میں نے آج تک ووٹ نہیں ڈالا ہے لیکن اب میرے جیسے ہزاروں لوگوں نے گھر سے نکل کر ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب بہت ہو چکا ہے، ہمیں یہ تبدیل کرنا ہوگا۔

چیزیں بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہیں۔ لاقانونیت ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ہم لوگ گھر سے باہر نکلنے سے کتراتے ہیں۔

رات میں ہمیں گھر سے باہر جانے میں ڈر لگتا ہے۔ اپنے بچوں کو بھی ہم نہیں جانے دیتے۔ ہر وقت یہ خوف رہتا ہے کہ حملہ ہو جائے گا یا پھر لُوٹ لیے جائیں گے۔

لیکن جیسے تیسے کراچی کے لوگ حالات کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ ہم بہادر لوگ ہیں۔

جب میں چھوٹی تھی تو کراچی ایک خوبصورت شہر ہوا کرتا تھا۔ اسے پاکستان میں سب سے زیادہ روشن خیال اور محفوظ جگہ مانا جاتا تھا۔

ہم لوگ دیر رات تک باہر گھوما کرتے تھے. لیکن اب جب میں دیکھتی ہوں کہ حالات کتنے بدتر ہو گئے ہیں تو بہت افسوس ہوتا ہے۔

پھر بھی مجھے امید ہے. اگر ہم انتخابات میں ایسے لوگوں کو منتخب کریں جو ارادے کے پکے اور ایماندار ہوں تو حالات بدل سکتے ہیں۔

تو مجھے لگتا ہے کہ میرے ووٹ کی بہت اہمیت ہے، چاہے یہ سمندر میں ایک بوند کی طرح ہو لیکن اس سے تھوڑا تو فرق پڑے گا۔