پاکستان کے انتخابی حلقے:این اے 171 سے این اے 197 تک

پاکستان میں عام انتخابات کے تناظر میں بی بی سی اردو نے قومی اسمبلی کے 272 انتخابی حلقوں کا مختصراً جائزہ لیا ہے جسے سلسلہ وار پیش کیا جائے گا۔اس سلسلے کی گیارہویں قسط میں این اے 171 سے این اے 197 تک کےانتخابی حلقوں پر نظر ڈالی گئی ہے۔

قومی اسمبلی کے ان انتخابابی حلقوں میں ڈیرہ غازی خان ، راجن پور ،مظفر گڑھ ، لیہ، پہاولپور اور رحیم یار خان کے اضلاع شامل ہیں۔

ڈیرہ غازی خان

Image caption این اے 173 سے اویس احمد خان لغاری کا ہے جو بطور آزاد امیدوار میدان میں ہیں

ضلع ڈیرہ غازی خان میں قومی اسمبلی کے کل 3 حلقے ہیں۔ این اے 171 ڈیرہ غازی خان 1 میں 2008 میں مسلم لیگ ق کے خواجہ شیراز محمود نے کامیابی حاصل کی تھی لیکن اب وہ پی پی پی کے ٹکٹ پر اس نشست کا دفاع کریں گے۔ اس حلقے سے سابقہ آزاد امیدوار اور رنر اپ سردار محمد امجد فاروق خان کھوسہ اب ن لیگ کی جانب سے میدان میں ہیں۔

این اے 172 سابق صدر فاروق احمد خان لغاری نے ق لیگ کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تاہم ان کی وفات کے بعد ضمنی انتخابات میں ان کے بیٹے اویس خان لغاری کامیاب ہوئے تھے۔ انھوں نے اپنے بھائی جمال خان لغاری کے ساتھ تحریک انصاف میں شمولیت تو اختیار کی تاہم انھیں پارٹی قیادت کی جانب سے ٹکٹ نہیں دیا گیا جس کے باعث دونوں بھائیوں نے ق لیگ کے بعد پی ٹی آئی کو بھی خیر باد کہہ دیا۔ اس حلقے سے جمال خان لغاری آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں ہیں۔ پی ٹی آئی نے خاتون امیدوار محترمہ زرتاج گل اخوند کو دیا ہے۔ ق لیگ کا دفاع سردار مقصود خان لغاری جبکہ ن لیگ کا حافظ عبدالکریم کریں گے۔

مسلم لیگ ن کے سردار محمد سیف الدین خان کھوسہ نے 2008 این اے 173 میں کامیابی حاصل کی تھی لیکن اس بار وہ پی پی پی کے ٹکٹ پر میدان میں ہیں جبکہ تحریک انصاف نے مہر سجاد حسین چینہ کو ٹکٹ دیا ہے۔ اس حلقے کے امیدواروں میں اہم نام اویس احمد خان لغاری کا ہے جو بطور آزاد امیدوار میدان میں ہیں۔

راجن پور

ضلع راجن پور کے قومی اسمبلی کے دو حلقے ہیں۔ این اے 174 راجن پور 1 میں گزشتہ بار کامیاب ہونے والے مسلم لیگ ق کے سردار محمد جعفر خان لغاری اب ن لیگ کے ٹکٹ پر اس نشست کا دفاع کر رہے ہیں۔ ان کے مقابل اہم ناموں میں پی پی پی کے خواجہ کلیم الدین کوریجہ اور اور آزاد امیدوار سردار نوراللہ خان دریشک کا نام شامل ہے۔

این اے 175 میں 2008 میں پی پی پی کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کرنے والے میر دوست محمد مزاری اس بار آزاد حیثیت سے میدان میں ہیں۔ وہ مزاری قبیلے کے سابقہ سربراہ میر بلخ شیر مزاری کے پوتے ہیں۔ جنھوں نے 1993 میں نگراں وزیر اعظم کے فرائض سر انجام دیے تھے۔

ان کے مقابل ن لیگ نے ڈاکٹرحفیظ الرحمان خان دریشک کو، پی ٹی آئی نے خواجہ شریف محمد عامر کوریجہ کو جبکہ پی پی پی نے سردار جہانزیب خان دریشک کو ٹکٹ دیا ہے۔

مظفر گڑھ

قومی اسمبلی میں ضلع مظفر گڑھ کے کُل 5 حلقے ہیں گزشتہ بار ان تمام حلقوں میں پی پی پی کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کی تھی۔

این اے 176 مظفر گڑھ 1 سے پی پی پی کے ٹکٹ پر محمد محسن علی قریشی کامیاب ہوئے تھے تاہم اس بار پی پی پی نے میاں محمد ارشد عباس کو ٹکٹ دیا ہے جو گزشتہ بار اسی حلقے سے مسلم لیگ ن کے امیدوار تھے۔

مسلم لیگ ن نے اس بار الحاج ملک سلطان محمود کو چنا ہے۔

گزشتہ بار اس حلقے کے رنر اپ جماعت پ لیگ تھی تاہم پی پی پی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے تحت ق لیگ نے کوئی امیدوار میدان میں نھیں اتارا۔

این اے 177 میں گزشتہ بار سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے پی پی پی کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی۔ تاہم اس بار وہ اپنے والد غلام ربانی کھر کے لیے اپنے آبائی حلقے کی اس نشست سے دستبردار ہوئی ہیں۔ سابق ایم این اے غلام ربانی اس سے قبل مسلم لیگ ق اور مسلم لیگ ن سے منسلک رہ چکے ہیں۔ اس نشست کے لیے پی پی پی کے سابق ایم این اے جمشید احمد دستی بھی آزادا امیدوار کی یحثیت سے میدان میں ہیں۔

اس حلقے میں مسلم لیگ ن کے خالد احمد گورمانی سے ہے جو اس سے قبل مسلم لیگ ق کا حصہ تھے۔

این اے 178 میں جمشید احمد خان دستی نے کامیابی تو حاصل کی تھی تاہم جعلی ڈگری کیس کی وجہ سے انھوں نے قومی اسمبلی کی نشست چھوڑ دی تھی۔ ضمنی انتخابات میں وہ پھر کامیاب ہو گئے تھے۔ لیکن اب پارٹی سے شکایات کی وجہ سے انھوں نے این اے 177 اور این اے 178 میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

انھیں جعلی ڈگری کیس کے باعث ابتداً نااہل قرار دیا گیا تھا۔ انھیں تین سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی تاہم بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بینچ نے مقامی عدالت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے انھیں الیکشن میں حصے لینے کی اجازت دے دی۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے مسلم لیگ ق کے سابق رکن نواب زادہ افتخار احمد خان بابر، ن لیگ کے محمد عباد اور تحریک انصاف کے محمد ساجد نعیم قریشی میدان میں اتریں گے۔

2008 میں این اے 179 سے کامیابی حاصل کرنے والے محمد معظم علی خان جتوئی اس بار بھی پی پی پی کا دفاع کریں گے ان کا مقابلہ گزشتہ بار اس حلقے کے رنر اپ مخدوم زادہ سید باسط احمد سلطان بخاری سے ہو گا جو مسلم لیگ ق چھوڑ کر مسلم لیگ ن کا حصہ بن چکے ہیں۔

ضلع مظفر گڑھ سے قومی اسمبلی کی آخری نشست این اے 180 مظفر گڑھ 5 سے گزشتہ بار کامیاب ہونے والے عبدالقیوم خان جتوئی اب کی بار بھی پی پی پی کے ٹکٹ پر میدان میں ہیں تاہم اس حلقے سے مسلم لیگ ق کے سابقہ امیدوار مخدوم جمیل احمد حسین بخاری اب ن لیگ کے دفاع کے لیے میدان میں ہیں۔

لیہ

ضلع لیہ میں قومی اسمبلی کے دوحلقے ہیں۔ حلقہ این اے 181 لیہ 1 میں گزشتہ انتخابات میں مسلم لیگ ق کے سردار بہادر احمد خان نے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ اس بار وہ اسی نشست کا دفاع پی پی پی کے ٹکٹ پر کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی جانب سے اس میدان میں مضبوط امیدوار صاحبزادہ فیض الحسن ہیں۔

این اے 182 میں 2008 میں مسلم لیگ ن کے سید محمد ثقلین بخاری کامیاب ہوئے تھےوہ آئیندہ انتخابات کے لیے بھی ن لیگ کے ٹکٹ پر میدان میں ہیں اس حلقےمیں دوسرا اہم نام ملک نیاز احمد جکھڑ کا ہے لیکن ان کی وفاداریاں اب پی پی پی پی کے ساتھ منسلک ہو چکی ہیں۔

بہاولپور

Image caption سنہ 2008 میں چوہدری پرویز الٰہی کو مسلم لیگ ن کے چوہدری سعود مجید نے شکست دی تھی

ضلع بہاولپور میں قومی اسبلی کے کل 5 حلقے ہیں۔

2008 کے انتخابات میں این اے 183 بہاولپور 1 میں پی پی پی کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے عارف عزیز شیخ اس بار بھی میدان میں ہیں اس حلقے کے سابقہ رنر اپ سید سمیع الحسن نے مسلم لیگ ق سے علیحدگی اختیار کر لی ہے اور اب وہ ضلع بہاولپور کو صوبے کی حیثیت دینے کی تحریک کے لیے قائم جماعت پہاولپور نیشنل پارٹی میں شامل ہو چکے ہیں۔

این اے 184 میں گزشتہ بار آزاد امیدوار ملک عامر یار وارن کامیاب ہوئے تھے انھوں نے پی پی پی میں شمولیت اختیار کر لی تھی لیکن جعلی ڈگری کیس کے باعث انھیں نااہل کر دیا گیا تھا۔ ضمنی انتخاب میں ان کی اہلیہ خدیجہ عارف نے کامیابی حاصل کی تھی جو اس بار بھی اہم امیدوار ہیں۔ ن لیگ نے میاں نجیب الدین اویسی کو ٹکٹ دیا ہے۔

این اے 185 سے 2008 کا انتخاب جیتنے والے میر بلیغ الرحمان اس بار بھی مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر ہی میدان میں ہیں ان کا مقابلہ بہاولپور نیشنل پارٹی کے محمد فاروق اعظم ملک سے ہے جو گزشتہ بار پی پی پی کے ٹکٹ پر اس حلقے کے رنر اپ تھے۔ پی پی پی نے منور حیات عباسی کو ٹکٹ دیا ہے۔

این اے 186 گزشتہ بار مسلم لیگ ق کے حصے میں آیا تھا اس حلقے میں پی پی پی اور ق لیگ کے درمیان سیٹ ایڈجسمنٹ میں ق لیگ کو امیدوار کھڑا کرنے کی اجازت تو ملی ہے لیکن جیتنے والے میاں ریاض حسین پریزادہ اب مسلم لیگ ن کا دفاع کریں گے۔ ق لیگ کا ٹکٹ چوہدری طارق بشیر چیمہ کو دیا گیا ہے۔

ضلع بہاولپور سے قومی اسمبلی کے آخری حلقے میں گزشتہ بار مسلم لیگ ق کے رہنما اور سابق نائب وزیر اعظم چوہدری پرویز الٰہی کو مسلم لیگ ن کے چوہدری سعود مجید نے شکست دی تھی۔ وہ اس بار بھی نواز لیگ کی جانب سے اہم امیدوار ہیں تاہم مسلم لیگ ق کے چوہدری طاہر بشیر چیمہ کو ٹکٹ دیا ہے۔

بہاولنگر

Image caption مسلم لیگ (ض) کے اعجاز الحق اس نشست کے لیے بھی امیدواروں کی فہرست میں شامل ہیں

ضلع بہاولنگر سے قومی اسمبلی کے چار حلقے ہیں۔ حلقہ این اے 188 بہاولنگر 1 میں 2008 کا انتخاب مسلم لیگ ق کے محمد اختر خادم الیاس نے جیتا تھا۔ تاہم اس بار وہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر میدان میں ہیں۔ ق لیگ اور پی پی پی نے کسی امیدوار کو نامزد نھیں کیا۔ ان کے مقابل آزاد امیدوار سید محمد اصغر شاہ مضبوط حریف نظر آتے ہیں۔

این اے 198 میں پی پی پی کے امیدوار سید ممتاز عالم گیلانی کامیاب ہوئے تھے۔ اس بار اس نشست سے پی پی پی کا دفاع مسلم لیگ ن کو خیر باد کہنے والے میاں اختر علی لالیکا کریں گے۔ ن لیگ کے عالم داد لالیکا ان کا سامنا کریں گے۔

این اے 190 میں 2008 کا انتخاب پی پی پی کے عبدلغفور چوہدری نے جیتا تھا تاہم اس بار پی پی پی کا ٹکٹ ظفر اقبال چوہدری کو ملا ہے جبکہ ق لیگ کے سابقہ رنر اپ طاہر بشیر چیمہ اب ن لیگ کے لیے میدان میں ہیں۔ اس حلقے سے ایک اور اہم نام مسلم لیگ ضیا الحق کے سربراہ اعجازالحق کا ہے۔

بہاولنگر سے قومی اسمبلی کی آخری نشست میں گزشتہ بار پی پی پی کے حصے میں آئی تھی تاہم کامیاب ہونے والے محمد افضل سندھو کی وفاداریاں اب پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ وابستہ ہو چکی ہیں۔ پی پی پی نے ڈاکٹر مظہر اقبال جبکہ ن لیگ نے میاں عبدالرشید کو ٹکٹ دیا ہے۔ مسلم لیگ (ض) کے اعجاز الحق اس نشست کے لیے بھی امیدواروں کی فہرست میں شامل ہیں۔

رحیم یارخان

Image caption این اے 192 سے 2008 کا انتخاب پی پی پی کے راہنما اور سابق وفاقی وزیر برائے مذہبی امور حامد سعید کاظمی نے جیتا تھا

صوبہ پنجاب سے قومی اسمبلی کے حلقوں کا اختتام ضلع رحیم یار خان کے حلقوں سے ہوتا ہے۔۔مشتہ بار یہاں کی چھ میں سے تین نشستیں پیپلز پارٹی نے جیتی تھیں۔

این اے 192 سے 2008 کا انتخاب پی پی پی کے راہنما اور سابق وفاقی وزیر برائے مذہبی امور حامد سعید کاظمی نے جیتا تھا۔ حج کرپشن کیس میں انھیں جیل بھی جانا پڑا تھا تاہم اس بار پارٹی نے ان کے بجائے خواجہ غلام رسول کوریجہ کو دیا ہے جبکہ مسلم لیگ ن کا ٹکٹ ق لیگ سے علیحدگی اختیار کرنے والے مخدوم سید احمد عالم انور کو دیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کا ٹکٹ محمد آصف کو دیا گیا ہے۔

این اے 193 میں گزشتہ بار کامیاب ہونے والے پی پی پی کے میاں عبداستار اس بار بھی میدان میں ہیں جبکہ مسلم لیگ ن نے شیغ فیاض الدین کو دیا ہے جبکہ اس حلقے کے سابقہ آزاد امیدوار میاں غوث محمد تحریک انصاف کی جانب سے میدان میں ہیں۔

2008 میں این اے 194 سے پی پی پی کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے مخدوم شہاب الدین اس بار بھی پی پی پی کا دفاع کر رہے ہیں ان کے مدمقابل اہم نام میاں خسرو بختیار کا ہے تاہم وہ ق لیگ چھوڑ کر آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں ہیں۔ ن لیگ کا ٹکٹ مخدوم معین الدین علی ہاشمی کو دیا گیا ہے۔

گزشتہ بار این اے 195 میں مسلم لیگ فنگشنل کے ٹکٹ پر جہانگیر خا ن ترین نے کامیابی حاصل کی تھی جو اب پی ٹی آئی میں شامل ہو چکے ہیں تاہم اس حلقے میں پی ٹی آئی کا ٹکٹ مریم بتول کو دیا گیا ہے۔ مسلم لیگ ن نے اس نشست کے لیے کسی کو نامزد نھیں کیا جبکہ مسلم لیگ جونیجو گروپ سے سید صفدر علی اہم امیدوار ہیں۔

این اے 196 میں گزشتہ بار کامیابی حاصل کرنے والے جاوید اقبال وڑائچ اس بار بھی پی پی پی کا دفاع کر رہے ہیں اس حلقے سے اس بار بھی ان کے مضبوط حریف مسلم لیگ ن کے میاں امتیاز احمد ہیں جو گزشتہ بار آزاد حیثیت سے میدان میں تھے۔

صوبہ پنجاب سے قومی اسمبلی کے آخری حقلے ای اے 197 میں گزشتہ بار کامیاب ہونے والے مسلم لیگ ن کے سردار محمد ارشد خان لغاری اس بار بھی میدان میں ہیں۔ اس نشست کے لیے مخدوم سید مرتضی محمود کو پی پی پی کا ٹکٹ ملا ہے۔

اسی بارے میں