پاکستان کے انتخابی حلقے

پاکستان میں عام انتخابات کے تناظر میں بی بی سی اردو نے قومی اسمبلی کے 272 انتخابی حلقوں کا مختصراً جائزہ لیا ہے جسے سلسلہ وار پیش کیا جائے گا۔اس سلسلے کی بارہویں قسط میں این اے 198 سے این اے 217 تک کےانتخابی حلقوں پر نظر ڈالی گئی ہے۔

صوبے سندھ میں قومی اسمبلی کے کل 61 حلقے ہیں۔ آج کی قسط میں سکھر، گھوٹکی ، شکار پور ،لاڑکانہ ،قمبر شہداد کوٹ، جیکب آباد، کشمور، نوشہرو فیروز، کشمور، بینظیر بھٹو شہید اور خیر پور کے اضلاع شامل ہیں۔

سکھر

Image caption سید خورشید احمد شاہ اس بار بھی ایک مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں

ضلع سکھر میں قومی اسمبلی کے 2 حلقے ہیں۔ این اے 198 سکھر کم شکار پور میں گزشتہ بار پیپلز پارٹی کے نعمان اسلام شیخ کامیاب ہوئے تھے۔اس بار ان کے مقابل 15 کی بجائے 43 امیدوار میدان میں ہیں۔ ایم کیو ایم نے منور علی چوہان، سندھ ترقی پسند پارٹی نے عبدالوحید، جماعت اسلامی نے حزب اللہ ہکڑو جبکہ جمعیت علمائے اسلام نے آغا سید محمد ایوب کو ٹکٹ دیا ہے۔مسلم لیگ نون نے اس حلقے سے کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا جبکہ مسلم لیگ قاف نے اس حلقے میں پی پی پی سے سیٹ ایڈجسمنٹ نہیں کی اور لیاقت علی قریشی کو نامزد کیا ہے۔

گزشتہ بار پی پی پی کے سینیئر راہنما اور سابق وفاقی وزیر سید خورشید احمد شاہ نے این اے 199 سے کامیابی حاصل کی تھی۔ وہ اس بار بھی اس نشست کے مضبوط امیدوار ہیں۔ مسلم لیگ قاف کے علاوہ نون لیگ نے بھی اس حلقے سے کوئی امیدوار کھڑا نھیں کیا جبکہ پی ٹی آئی کا دفاع کرنے کے لیے رب نواز کلوڑ شکیل، ایم کیو ایم نے ظہیر احمد جبکہ مسلم لیگ فنکشنل نے عنایت اللہ کو میدان میں اتارا ہے۔

گھوٹکی

ضلع گھوٹکی میں قومی اسمبلی کے دو حلقے ہیں۔ این اے 200 گھوٹکی 1 سے میاں عبادالحق الیاس میاں مٹھو پی پی پی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے تاہم اس بار وہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے اس نشست کا دفاع کر رہے ہیں۔ پی پی پی نے علی گوہر خان مہر کو ٹکٹ دیا ہے۔ سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے عبدالوہاب شر، اے این پی کے قلندر بخش، ایم کیو ایم کے سید ندیم حیدر اور جماعت اسلامی کے شکیل احمد صدیقی بھی میدان میں ہیں۔

گزشتہ بار این اے 201 سے کامیاب ہونے والے آزاد امیدوار علی محمد خان مہر اس بار پی پی پی کے کی جانب سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ مسلم لیگ نون نے سید عطا اللہ شاہ بخاری، ایم کیو ایم نے نیاز محمد سومرو کو جبکہ جماعت اسلامی نے محراب علی گڈانی کو ٹکٹ دیا ہے۔

شکار پور

Image caption پی پی پی کے آفتاب شعبان میرانی

ضلع شکار پور میں قومی اسمبلی کے دو حلقے ہیں۔2008 میں این اے 202 شکار پور میں پی پی پی کے آفتاب شعبان میرانی نے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ اس بار ان کے مقابل امیدواروں میں پی ٹی آئی کے افتخار سومرو، مسلم لیگ نون کے آغا محمد منور، ایم کیو ایم کے سخی داد مری جبکہ جے یو آئی (ف) کے مولانا عبدل پہوڑ شامل ہیں۔

این اے 203 شکار پور کم سکھر کی نشست گزشتہ بار مسلم لیگ قاف کے غوث بخش خان مہر نے حاصل کی تھی تاہم اب انھوں نے قاف لیگ سے علیحدگی اختیار کر لی ہے اور وہ مسلم لیگ فنکشنل کے امیدوار کی حیثیت سے میدان میں ہیں۔

پی پی پی نے ان کے مقابل سردار واحد بخش بہیو کو کھڑا کیا ہے جے یو آئی (ف ) نے مولانہ محمد یعقوب مہر کو جبکہ ایم کیو ایم نے عبدالستار جتوئی کو ٹکٹ دیا ہے۔

لاڑکانہ

Image caption 204 سے پی پی پی شہید بھٹو گروپ کی سربراہ بھی انتخابی میدان میں ہیں

ضلع لاڑکانہ میں قومی اسمبلی کے دو حلقے ہیں۔ گزشتہ بار ان دونوں حلقوں میں پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کی تھی۔

این اے 204 لاڑکانہ کی نشست پی پی پی کے شاہد حسین بھٹو نے کامیابی حاصل کی تھی تاہم اس بار وہ اس نشست کا دفاع آزاد امیدوار کی حیثیت سے کر رہے ہیں۔ پی پی پی نے اس نشست کے لیے محمد ایاز سومرو کو نامزد کیا ہے۔ اس نشست کے امیدواروں میں پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو گروپ کی سربراہ غنویٰ بھٹو کا نام بھی شامل ہے۔

این اے 205 میں پی پی پی کے نزیر احمد بگھیو کامیاب ہوئے تھے اس بار بھی وہ اس نشست کادفاع کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی شہید بھٹو گروپ کے رجب علی، ایم کیو ایم کے علی محمد میمن اور پی ٹی آیی کے سخاوت علی بھی میدان میں ہیں۔

قمبر شہداد کوٹ

Image caption گزشتہ انتخاب میں فریال تالپور بلامقابلہ کامیاب ہو گئی تھیں

قمبر شہداد کوٹ میں قومی اسمبلی کے دو حلقے ہیں۔گزشتہ انتخابات میں این اے 206 میں پی پی پی کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے نوابزادہ میر عامر علی خان مگسی اس بار بھی میدان میں ہیں۔ ایم کیو ایم نے امتیاز علی لاکھو کو،جماعت اسلامی نے عبدالرؤف کو جبکہ سندھ یونائیٹڈ پارٹی نے اصغر شاہ راشدی کو ٹکٹ دیا ہے۔

2008 میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 207 کے امیدواروں کی فہرست میں سب سے اہم نام سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کا تھا تاہم ان کی وفات کے باعث اس حلقے میں انتخاب ملتوی کر دیا گیا تھا۔ بعد میں کسی جماعت نے اس حلقے میں پی پی پی کی امیدوار فریال تالپور کے مقابلے میں امیدوار کھڑا نہیں کیا تھا جس کے بعد فریال تالپور بلامقابلہ کامیاب ہو گئی تھیں۔فریال تالپور صدر آصف علی زرداری کی بہن ہیں۔ تاہم اس بار اس حلقے میں ان کے مقابل 36 امیدوار ہیں۔ پیپلز پارٹی شہید بھٹو گروپ سے غنویٰ بھٹو، پی ٹی آئی سے سید علی حیدر زیدی، سندھ یونائیٹڈ پارٹی کےسرفراز احمد مستوئی، ایم کیو ایم سے عبیداللہ جبکہ جے یو آئی (ف) سےڈاکٹر خالد محمود سومرو کو میدان میں ہیں۔

جیکب آباد

Image caption سابق وفاقی وزیر میر ہزار خان بجارانی کی بجائے پی پی پی نے اس مرتبہ ان کے بیٹے میر شبیر علی بجارانی کو ٹکٹ دیا ہے

قومی اسمبلی سے ضلع جیکب آباد کے دونوں حلقوں میں 2008 میں پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کی تھی۔ این اے 208 میں سابق وفاقی وزیر برائے پورٹ اینڈ شپینگ میر اعجاز حسین جاکھرانی نے کامیاب ہوئے تھے وہ اس بار بھی اس نشست کا دفاع کر رہے ہیں۔ ان کے مدمقابل 17 امیدواروں میں مسلم لیگ قاف کے میر ذیشان علی پنھور، ایم کیو ایم کے محمد عارف بروھی، پی ٹی آئی نے سید علی حیدر زیدی، مسلم لیگ نون نے الہی بخش سومرو جبکہ پیپلز پارٹی بھٹو شہید گروپ نے احمد علی کھوسہ کو ٹکٹ دیا ہے۔

گزشتہ بار این اے 209 کی نشست پر کامیابی حاصل کرنے والے سابق وفاقی وزیر میر ہزار خان بجارانی کی بجائے پی پی پی نے اس مرتبہ ان کے بیٹے میر شبیر علی بجارانی کو ٹکٹ دیا ہے۔ ان کے مقابلے میں جماعت اسلامی نےحافظ نصر اللہ کو، مسلم لیگ فنکشنل نے میر حسن خان کھوسو کو جبکہ ایم کیو ایم نے منیر احمد پٹھان کو نامزد کیا ہے۔

کشمور

ضلع کشمور میں این اے 210 کی نشست پر 2008 میں مسل لیگ قاف کے امیدوار نصراللہ بجارانی نے کامیابی حاصل کی تھی تاہم ان کی جانب سے نشست خالی ہونے پر ضمنی انتخاب میں یہاں پی پی پی کے گل محمد جاکھرانی نے کامیابی حاصل کی تھی۔اس بار مسلم لیگ قاف نے اس نشست پر کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا۔ یہاں سے 25 امیدواروں کی فہرست میں پی پی پی کے احسان الرحمان مزاری، پی ٹی آئی کےممتاز علی جاکھرانی، مسلم لیگ فنکشنل کے سردار میر حاکم علی خان سندرانی کا نام بھی شامل ہے۔

نوشہرو فیروز

ضلع نوشہرو فیروز میں قومی اسمبلی کے دو حلقے ہیں۔ این اے 211 میں گزشتہ بار نیشنل پارٹی کے غلام مرتضیٰ خان جتوئی کا میاب ہوئے تھے۔ اس بار بھی وہ اس نشست کا دفاع کر رہے ہیں۔ ان کا سامنا کرنے کے لیے پیپلز پارٹی شہید بھٹو گروپ نے راشد علی جبکہ پیپلز پارٹی نے ذولفقار علی بھن کو ٹکٹ دیا ہے۔ ایم کیو ایم نے آفتاب احمد راجپوت کو ٹکٹ دیا ہے تاہم نون لیگ، قاف لیگ، ایم کیو ایم اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کا کوئی امیدوار متعلقہ فہرست میں شامل نہیں۔

2008 میں حلقے این اے 212 میں پی پی پی کے سید ظفر علی شاہ کامیاب ہوئے تھے تاہم وہ اس بار پیپلز پارٹی کو خیرباد کہہ کر مسلم لیگ نون کے ٹکٹ پر میدان میں ہیں۔ پی پی پی نے اسی حلقے کے سابقہ آزاد امیدوار اصغر علی شاہ کو پی ٹی آئی نے حمزہ خان کو، پیپلز پارٹی شہید بھٹو گروپ نے خلیل الرحمان سھتو کو ٹکٹ دیا ہے۔

بینظیر بھٹو شہید (نواب شاہ)

ضلع نواب شاہ میں 2008 کے انتخابات میں دونوں نشستیں پی پی پی نے جیتی تھیں۔

این اے 213 کی نشست پر گزشتہ بار کامیابی حاصل کرنے والی ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو اس بار بھی اہم امیدوار ہیں۔ ان کا سامنا کرنے والے 30 امیدواروں میں پی ٹی آئی کے گل محمد کیرو، ایم کیو ایم کے عنایت علی رند، مسلم لیگ فنگشنل کے سید زاہد حسین شاہ، سندھ ترقی پسند پارٹی کے سید اطہر حسین شاہ شاہ شامل ہیں۔

این اے 214 میں گزشتہ بار کامیاب ہونے والے سید غلام مصطفیٰ شاہ سمیت اس بار کل 16 امیدوار میدان میں ہیں۔ مسلم لیگ نون نے علی اصغر رند، جے یو آئی نے حافظ عبدالرزاق، ایم کیو ایم نے سکندر علی کیریو جبکہ سندھ ترقی پسند پارٹی نے نثار علی کیریو کو ٹکٹ دیا ہے۔

خیر پور

Image caption گزشتہ انتخاب میں 217 سے پیپلز پارٹی کے پیر سید فضل علی شاہ جیلانی نے کامیابی حاصل کی تھی

ضلع خیر پور قومی اسمبلی کے 3 حلقوں پر مشتمل ہے۔ این اے 215 میں گزشتہ بار پی پی پی کے نواب علی وسان نے کامیابی حاصل کی تھی جو اب بھی میدان میں ہیں۔اس حلقے کے کل 18 امیدواروں میں اہم نام مسلم لیگ نون کے امیدوار سید غوث علی شاہ کا ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے نیک محمد پنھیار، ایم کیو ایم کے غلام اصغر رند جبکہ سندھ ترقی پسند پارٹی نے حسین بھیو کو ٹکٹ دیا ہے۔

این اے 216 سے گزشتہ بارمسلم لیگ فنکشنل کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کرنے والے پیر سید صدرالدین شاہ اس بار بھی مضبوط امیدوار ہیں۔ ایم کیو ایم نے اس نشست کے لیے پیر سید فرزند علی شاہ، پی پی پی نے ساجد علی بانبھن،جبکہ جماعت اسلامی نے ممتاز حسین سہتو کو ٹکٹ دیا ہے۔

گزشتہ بار ضلع خیر پور سے قومی اسمبلی کی آخری نشست این اے 217 پیپلز پارٹی کے پیر سید فضل علی شاہ جیلانی نے جیتی تھی تاہم اس بار پی پی پی کی جانب سے سید جاوید علی شاہ جیلانی میدان میں ہیں۔ ایم کیو ایم نے زاہد علی اجن، مسلم لیگ فنکشنل کے سید کاظم علی شاہ جبکہ سندھ یونائیٹڈ پارٹی نے احمد سومرو کو ٹکٹ دیا ہے۔