کراچی میں سوگ، کاروبار بند، ٹرانسپورٹ غائب

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے یوم سوگ کے موقع پر شہر میں تمام کاروباری مراکز اور مارکیٹیں مکمل طور پر بند جبکہ پرائیوٹ اور پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب ہے۔

شہر میں تمام سی این جی سٹیشنز اور پیٹرول پمپ بھی بند ہیں۔

کراچی تاجر اتحاد نے گزشتہ رات کو ہونے والے بم دھماکوں کے خلاف اتوار کو کاروبار بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

کراچی میں اتوار کو شہر کے اکثر تجارتی مراکز بند رہتے ہیں لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے ہڑتالوں کی وجہ سے کئی بازار اور مارکیٹیں اتوار کو بھی کھولی جاتی ہیں۔

گزشتہ رات کراچی میں نائن زیرو کے قریب ہونے والے دو دھماکوں میں 3 افراد ہلاک اور 23 زخمی ہو گئے تھے۔ ہلاک ہونے والے تین افراد کی نمازِ جنازہ اتوار کی دوپہر ادا کی جائے گی۔

پاکستان میں انتخابات قریب آنے کے بعد کراچی میں سیاسی جماعتوں کے دفاتر اور جلسوں میں اس وقت تک سات بم دھماکے ہوچکے ہیں، جن میں پانچ متحدہ قومی موومنٹ، ایک عوامی نیشنل پارٹی اور ایک پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے میں ہوئے۔

ان حملوں کی ابتدا پیپلز کالونی سے ہوئی تھی جہاں متحدہ قومی موومنٹ کے انتخابی دفتر کو نشانہ بنایا گیا، اس حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے، جس کے بعد نصرت بھٹو کالونی میں ایم کیو ایم کے بند دفتر کے باہر دھماکہ ہوا جس میں چار افراد ہلاک ہوئےآ

جمعہ کی رات سائیٹ ایریا میں بسم اللہ کالونی میں عوامی نیشنل پارٹی کی کارنر میٹنگ میں حملہ کیا گیا، جس میں گیارہ افراد زندگی گنوا بیٹھے، اس پہلے صبح کو عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار عبدالرحمان پر لانڈھی میں حملہ کیا گیا تھا۔

گزشتہ ہفتے آج کے ہی قصبہ کالونی میں دو دھماکے ہوئے، جس میں ایک ایم کیو ایم کے دفتر کے عقب میں اور ایک پیپلزپارٹی کے جلسے میں کیا گیا، دونوں دھماکوں میں تین افراد ہلاک ہوئے۔

دو روز قبل برنس روڈ کے علاقے میں متحدہ قومی موومنٹ کے دفتر کے قریب بم دھماکہ ہوا تھا جس میں چھ افراد زخمی ہوئےتھے۔

اسی طرح اورنگی بلال کالونی میں جمعہ کو عوامی نیشنل پارٹی کے قومی اسمبلی کے امیدوار زمان خٹک کو چار سالہ بیٹے سمیت فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا۔

اسی بارے میں