صومالیہ: موغادیشو میں خودکش حملہ 8 ہلاک

صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں ایک سرکاری کارواں کے قریب ایک خود کش حملے کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک اور کئی کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

تفصیلات کے مطابق خود کش حملہ آور نے بارودی مواد سے لدی ایک کار ایک حکومتی گاڑی سے ٹکرا دی۔

عینی شاہدین کے مطابق اس حملے کا نشانہ غیر ملکی کارکن تھے جنہیں یہ گاڑی لے کر جا رہی تھی۔

یہ حملہ لندن میں صومالیہ کے مستقبل کے حوالے سے منعقد ہونے والی ایک کانفرنس سے چند دن قبل ہوا ہے۔

ابھی تک کسی بھی گروہ نے اس حملے کی زمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

صومالیہ کے اسلام پسند گروہ الشباب جو القائدہ کا حصہ ہے کو حکومت نے بڑے شہروں اور مراکز سے نکال باہر کیا ہے اور اب ان کا کنٹرول دیہی علاقوں اور چھوٹے قصبوں میں ہی ہے۔

موغادیشو میں بی بی سی کے نامہ نگار محمد ابراہیم کے مطابق زخمی ہونے والے افراد کی تعداد اب تک دس ہے۔

انہوں نے بتایا کہ موغادیشو شہر میں سنیچر کو ٹریفک دوبارہ شہر کی سڑکوں پر رواں دواں ہوا جس پر چار دن کے لیے پابندی عائد کی گئی تھی۔ اس پابندی کا مقصد اس طرح کے حملوں کی روک تھام تھا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے ایک فوٹوگرافر نے بتایا کہ انہیں تین لوگ جلتی ہوئی گاڑیوں کے نیچے بے حس و حرکت پڑے نظر آئے۔

لندن میں منعقد ہونے والی کانفرنس کا مقصد صومالیہ کے لیے عالمی امداد کے طریقوں پر غور کرنا ہے۔

اس کانفرنس میں پچاس سے زیادہ ممالک اور تنظیمیں شرکت کریں گیں جس کی صدارت مشترکہ طور پر صومالی صدر شیخ محمود اور برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کر رہے ہیں۔

برطانیہ نے حال ہی میں اپنا سفارت خانہ موغادیشو میں کھولا ہے۔

اسی بارے میں