پیپلز پارٹی کو کیا ہوا ؟

’تم ہمیں موت سے ڈراتے ہو۔ارے ہم تو وہ لوگ ہیں جو خود موت کا تعاقب کرتے ہیں‘ یہ تیور تھے آصف علی زرداری کے چار اپریل سنہ 2012 کے گڑھی خدا بخش میں۔ اور پھر بلاول کو اسی گڑھی خدا بخش میں باضابطہ طور پر پارٹی کے کراؤن پرنس کے طور پر مرکزی مقرر کا منصب دیا گیا، پھر نہ جانے کیا ہوا اور ہوتا چلا گیا۔

اب یہ حال ہے کہ سندھ کو چھوڑ کے ’تیر‘ اڑ تو رہا ہے مگر اندھیرے میں۔ پینتالیس سال پہلے پاکستان میں عوامی جلسہ کلچر کو متعارف کرانے والی پیپلز پارٹی کے جیالا بریگیڈ کے پاس ایسی فرصت کبھی نہ آئی تھی کہ وہ کسی انتخابی دفتر میں بیٹھنے کے بجائے ٹی وی پر اپنی جماعت کی اشتہاری مہم دیکھتا رہے اور سوچتا رہے کہ کچھ کام نکالو میری فرصت کے برابر۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کا دارالحکومت لاہور جس سے زوالفقار علی بھٹو کو لاڑکانہ جیسا لگاؤ تھا، جہاں بے نظیر بھٹو انتخابی مہم کا آخری جلسہ کرنے کی عادی تھیں، اسی لاہور میں کئی جیالے ایسے بھی ملے جنہیں انتخاب کے دنوں کی عدم مصروفیت اندر ہی اندر یوں کھائے جا رہی ہے جیسے نئی دلہن کو شوہر کی بے اعتنائی کھا جائے۔قیادت یا تو ویڈیو میں قید ہے یا اونچی دیواروں کے پیچھے یا پھر اپنی خاندانی دنیا میں۔

پہلے پیپلز پارٹی کے ہر دورِ حکومت میں یہ ہوتا تھا کہ کارکن بھلے خود کو اقتدار کے دنوں میں کتنا ہی نظرانداز محسوس کریں لیکن انتخابی موسم میں وہ سب کچھ بھلا کر ناراض بیٹوں کی طرح گھر لوٹ آتے تھے۔ کسی کا شکوہ گلے لگ کر دور ہوجاتا، کوئی حرفِ معذرت پر ہی راضی ہوجاتا، کوئی دو گالیاں دے کر خود کو ہلکا کرلیتا اور پھر دیوانوں کی طرح اپنی جماعت کی انتخابی مہم میں مصروف ہو جاتا۔

اب کی بار وہ ہُوا ہے جو پہلے نہیں ہُوا۔ جتنے بھی ٹکٹ بٹے ان میں سے اکثر خاندانوں میں بٹ گئے۔جیسے اوکاڑہ میں پیپلز پارٹی کا مطلب ہے وٹو خاندان۔ ملتان میں انتخابی فرنچائز گیلانیوں کے پاس ہے، سندھ میں مخدومین، مرزا اور زرداری خاندان نے ٹکٹوں کا سٹاک لے لیا، خیبر پختون خواہ میں سیف اللہ فیملی اور ان کے حواری ٹکٹوں ٹکٹ ہوگئے باقی ٹکٹ ارب پتی الیکٹ ایبلز لے اڑے ۔

یہاں تک ہُوا کہ کچھ الیکٹ ایبلز نے ایک شام ٹکٹ لے لیے اور اگلی شام کسی اور پارٹی سے اچھی ڈیل ہونے پر واپس کر دیے۔ پھر بھی جو ٹکٹ بچ گئے وہ کارکنوں کے لیے چھوڑ دیے گئے جیسے ساغر کی تہہ میں قطرہ چھوڑ دیا جائے، جیسے میز پر بچا ہوا کھانا ملازموں میں بانٹ دیا جائے۔ ایسے میں اگر کارکن غائب ہے تو حیرانی کیوں ؟

پیپلز پارٹی کی بالائی قیادت کہتی ہے کہ روائیتی جلسوں اور ریلیوں سے اس لیے گریز کیا جارہا ہے کیونکہ وہ اپنے کارکنوں اور لوگوں کی جان خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتی۔ لیکن پانچ سالہ دور میں اس نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، زرعی اجناس کی قیمتوں میں اضافے اور اٹھارویں ترمیم سمیت بعض ایسے بنیادی اقدامات کیے ہیں کہ عام آدمی ووٹ ڈالتے وقت انہیں ضرور پیشِ نظر رکھے گا۔

اگر یہ منطق درست ہے تو پھر بے نظیر بھٹو کو پاکستان آنا ہی نہیں چاہیے تھا۔سب ہی ووٹر جانتے تھے کہ وہ کس کی بیٹی ہے؟۔آمریت کے خلاف اس کی کتنی قربانیاں ہیں؟ اور پاکستان آمد پر بے نظیر بھٹو کو سٹیٹ اور نان سٹیٹ ایکٹرز کی جانب سے کس قدر شدید جانی خطرات لاحق ہیں۔اگر وہ آ بھی گئی تھیں تو 18 اکتوبر سنہ 2007 کو کارساز بم دھماکے کے اگلے دن انہیں دوبئی میں ہونا چاہیے تھا۔

جس خطرے کو بے نظیر بھٹو خاطر میں نہیں لائیں۔ آج اسی خطرے سے ان کی جماعت بھاگی پھر رہی ہے۔ یہ جانے بغیر کہ پسپا ہوتی فوج کا جانی نقصان کھڑی رہ جانے والی فوج سے دوگنا ہوتا ہے۔

آج کی پیپلز پارٹی ( احتیاطی گروپ ) سے بہتر تو عوامی نیشنل پارٹی ہے جس کے سیاسی حجم کے اعتبار سے اس کی جانی قربانیاں کسی بھی ملک گیر جماعت سے زیادہ ہیں۔

اس نے پانچ برس کی خام حکمرانی کے باوجود شدت پسندی کے خلاف جو موقف اپنایا اس پر آج تک ڈٹی ہوئی ہے ۔ اسے جتنی بھی گنجائش میسر ہے وہ اسے استعمال کرتے ہوئے ووٹر تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔حالانکہ کتنا آسان ہے اس کے لیے یہ کہنا کہ شدت پسندی کے خلاف ہمارا موقف اور قربانیاں سب پر عیاں ہیں لہذا ووٹر تک پہنچنے کی ضرورت نہیں ۔ووٹر سب جانتا ہے۔

مگر میں صرف پیپلز پارٹی کا نوحہ ہی کیوں پڑھ رہا ہوں ؟ اور بھی تو جماعتیں ہیں۔ بات یہ ہے کہ عوامی سیاست اور قربانیوں کا چار عشرے اونچا علم جب کسی وفاق پرست جماعت کے ہاتھ سے صرف اس لیے گر جائے کہ اپنی ہی تاریخ اور مذاج سے نابلد پارٹی قیادت نے دونوں ہاتھ ہوا میں اٹھا دیے ہوں تو بظاہر کچھ بھی نہیں ہوتا مگر ایک پورا مکتبِ فکر ڈھے جاتا ہے۔

یہی تو کسی کی فتح اور کسی کی شکست ہوتی ہے۔اب یہ فتح و شکست عارضی ہے کہ مستقل۔اس پر بحث کے لیے زندگی پڑی ہے۔

اسی بارے میں