|ِدھر ہم اُدھر تم کے ’خالق‘ نہ رہے

Image caption عباس اطہر اپنی سرخیوں کی وجہ سے جانے جاتے تھے

معروف صحافی، کالم نگار اور شاعر عباس اطہر طویل علالت کے بعد لاہور میں انتقال کرگئے ۔ ان کی عمر پچھتر برس کے قریب تھی۔ وہ کینسر کے مرض میں مبتلا تھے۔

عباس اطہر کی نماز جنازہ پیر کی شام کو ادا کی گئی جس کے بعد انہیں مقامی قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا۔

عباس اطہر کچھ عرصے سے لاہور کے سی ایم ایچ ہسپتال میں زیر علاج تھے اور پیر کی صبح ان کا انتقال ہوگیا۔

عباس اطہر ایکسپریس اخبار کے گروپ ایڈیٹر تھے اور ’کنکریاں‘ کے عنوان سے ان کا کالم بھی شائع ہوتا تھا۔

سینئیرصحافی اور روزنامہ ایکسپریس کے ایڈیٹر ایاز خان کا کہنا ہے کہ شاہ جی (عباس اطہر) صحافت میں نئے آنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے اور نئے صحافیوں کے لیے ان سے بڑا استاد کوئی نہیں تھا۔

عباس اطہر تقسیم ہند سے قبل پنجاب کے علاقے جھنگ میں پیدا ہوئے اور صحافت سے منسلک ہونے سے پہلے وہ شاعر کے طور پر جانے جاتے تھے۔

عباس اطہر کو خبروں کی سرخیاں نکالنے پر ملکہ حاصل تھا اور ان اخباری سرخیوں تاریخی حیثیت کی حامل رہی ہیں۔

انیس سو ستر کے انتخابات کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کی تقریر کے حوالے سے انہوں نے روزنامہ آزاد میں ’ادھر ہم ادھر تم ` کی سرخی لگائی اور یہ سرخی بھی تاریخ کا حصہ بن گئی۔

انیس ساٹھ کے اوائل میں انہوں نے صحافتی سفر کا آغاز کراچی میں شوکت صدیقی کے ادارت میں شائع ہونے والے اخبار’انجام‘ سے کیا۔

شاہ جی کے نام سے مشہور عباس اطہر اپنے ملنے والوں کو ایک خاص انداز ’حضور کی حال اے‘ کہہ کر مخاطب کرتے تھے

کراچی سے لاہور آنے کے بعد عباس اطہر روزنامہ امرزور سے منسلک ہوگئے۔ پھر لاہور سے نئے شائع ہونے والے اخبار روزنامہ آزاد کے نیوز ایڈیٹر بن گئے ہیں۔

عباس اطہر اردو اخبار مساوات کے ایڈیٹر بھی رہے ۔ جنرل ضیاء الحق کی آمریت کے دوران انہوں نے جیل بھی کاٹی۔

شاہی قلعہ سے رہائی کے بعد عباس اطہر نے امریکہ میں جلاوطنی اختیار کرلی اور لگ بھگ آٹھ برس کے بعد ملک واپس لوٹے اور دوبارہ سے صحافت سے منسلک ہوگئے۔

عباس اطہر نے ایک طویل عرصہ روزنامہ نوائے وقت میں گزار ۔ شاہ جی نے روزنامہ صداقت کے نام سے اپنا اخبار بھی نکالا۔

جون دو ہزار چھ میں عباس اطہر روزنامہ ایکسپریس سے منسلک ہوئے اور آخری وقت اس کے گروپ ایڈیٹر رہے۔

عباس اطہر کی شاعری کے دو مجموعے شائع ہوچکے ہیں جبکہ ان کے گیتوں پر مبنی ایک کیسٹ بھی تیار کی گئی۔

شاہ جی کے ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی بیٹی بینظیر بھٹو کے بارے میں کالموں پر مشتمل ایک کتاب ’بینظیر کہانی‘ بھی شائع ہوئی۔

بینظیر بھٹو کی ہلاکت پر انہوں نے نظم ’بھٹو کی بیٹی آئی‘ لکھی جو بہت مقبول ہوئی۔

عباس اطہر کو ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں قومی اعزاز سے بھی نواز گیا۔