وکیل قتل کیس: پولیس کی ساری توجہ پمفلٹ پر

Image caption پولیس نے مقتول چوہدری ذوالفقار کے اہلخانہ سے محض اس بات پر بیان لیا ہے کہ اُن کی کسی سے کوئی دشمنی تو نہیں تھی

پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل اور ممبئی حملہ سازش کے اہم مقدمات کے سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار علی کے قتل کے مقدمے کی تحقیقاتی ٹیم محض اُس پمفلٹ پر ہی انحصار کیے ہوئے ہے جو جائے وقوعہ سے برآمد ہوا تھا۔

پولیس اہلکار کے بقول اس پمفلٹ پر عبارت دج تھی کہ’مجاہدینِ اسلام کو سزا دلوانے والوں کا ایسا ہی انجام ہوگا‘۔

اس کے بعد مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اس پمفلٹ کو لےکر ہی اس مقدمے کی تفتیش کو آگے بڑھا رہی ہے۔

اس تفتیشی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اس پمفلٹ کے ملنے کے بعد مختلف ٹیموں کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے علاوہ صوبہ خیبر پختونخوا کی جیلوں میں بھجوایا گیا ہے تاکہ وہاں پر قید اُن افراد سے پوچھ گچھ کی جائے گی جن کا تعلق کالعدم تنظیموں سے ہے۔

تفتیشی ٹیم کے اہلکار کے بقول جیلوں میں جانے والے پولیس اہلکاروں کو یہی ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ ان قیدیوں سے اس معاملے پر تفتیش کریں کہ چوہدری ذوالفقار کے قتل میں کون سا گروپ ملوث ہو سکتا ہے۔

اس مقدمے کی تحقیقات میں پولیس اتنی احتیاط سے کام لے رہی ہے کہ سرکاری وکیل کے قتل کے واقعہ کے عینی شاہدین نے ملزمان کا جو حلیہ بتایا تھا اُن کا ابھی تک تصویری خاکہ بھی جاری نہیں کیا جا سکا۔اس واقعہ میں ایک پولیس اہلکار بھی عینی شاہد ہے تاہم اُنہوں نے اس واقعہ کے دوران کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا۔

Image caption ملزمان کا تصویری خاکہ بھی جاری نہیں کیا جا سکا

پولیس ذرائع کے مطابق تفتیشی ٹیم کو جائے وقوعہ سے ملنے والے موبائل فون کا ریکارڈ بھی نہیں مل سکا جو کہ پولیس کے بقول یہ ملزمان کے زیر استعمال رہا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق موبائل کا ریکارڈ اُس وقت تک نہیں مل سکتا جب تک خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے کلیئرنس نہیں مل جاتی۔

پولیس نے مقتول چوہدری ذوالفقار کے اہلخانہ سے محض اس بات پر بیان لیا ہے کہ اُن کی کسی سے کوئی دشمنی تو نہیں تھی البتہ اُنہوں اُن دھمکیوں کے بارے میں نہیں پوچھا گیا جو مقتول کو گُزشتہ کچھ عرصے کے دوران مل رہی تھیں۔

ایس ایس پی رینک کے سابق پولیس افسر جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ چوہدری ذوالفقار کی ہلاکت میں بظاہر کوئی جرائم پیشہ افراد ملوث نہیں ہیں بلکہ یہ کارروائی کسی ماہر ٹاگٹ کلر ہے کیونکہ مقتول کو جتنی بھی گولیاں لگیں وہ سر اور جسم کے اوپر والے حصوں پر تھیں۔

پاکستان میں گُزشتہ چار سال کے دوران ٹارگٹ کلنگ کے 45 واقعات میں گیارہ واقعات ایسے ہیں جہاں پر ان واقعات میں ملوث ملزمان کی طرف سے مبینہ طور پر پمفلٹ پھینکے گئے جس میں کبھی کالعدم تنظیموں کے خلاف بیان دینے یا اُن کی کارروائیوں کی مذمت کرنے کی پاداش میں نشانہ بنایا گیا۔

اس کے علاوہ توہین مذہب کے قانون میں ترمیم سے متلعق اقدامات کرنے کی کوشش کرنے والوں کو نشانہ بنانے کے بعد وہاں پر پمفلٹ بھی پھینکے گئے۔

سنہ دو ہزار گیارہ میں اسلام آباد میں ہی پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر شہباز بھٹی کو قتل کیا گیا تو نامعلوم افراد کی طرف سے وہاں پر پمفلٹ چھوڑے گئے تھے جس میں یہ عبارت درج تھی کہ’توہین مذہب کے قانون میں ترمیم کرنے والوں کا یہی انجام ہوتا ہے‘۔

اس مقدمے میں اگرچہ پولیس نے چند ملزمان کو گرفتار کیا تھا تاہم عدم تبوت کی بنا پر متعلقہ عدالت سے بری کر دیا گیا۔ اس طرح نہ دوہزار نو میں شدت پسندوں پر تنقید کرنے والے مذہبی رہنما ممتاز عالم دین مولانا سرفراز نعیمی اور مولانا حسن جان کو نشانہ بنایا گیا تو وہاں پر بھی مقامی پولیس کے بقول کچھ ایسے پمفلٹ ملے تھے جن میں کالعدم تنظیموں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

ان واقعات کی تحقیقات کے لیے اگرچہ مشترکہ تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی تھی لیکن ان مقدمات میں ملوث ملزمان نہ ملنے کے بعد ان مقدمات کو داخل دفتر کردیا گیا ہے۔

اسی بارے میں