ابرارالحق کی گلوکاری نشانے پر

Image caption ابرار الحق تحریکِ انصاف کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں

پاکستان میں عام انتخابات کی گہماگہمی اب عروج پر پہنچ چکی ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدوار اپنے مخالفیں نیچا دکھانے کے لیے زورِ خطابت صرف کررہے ہیں۔ اس دوران بعض اوقات الیکشن کمیشن کے جاری کردہ ضابطۂ اخلاق کو بھی پسِ پشت رکھ دیا جاتا ہے۔

ملک کے معروف گلوکار ابرارالحق بھی سیاست کے اس کھیل میں مخالفین کی چوٹوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔

ابرارالحق پنجاب کے شہر نارووال سے قومی اسمبلی کے حلقہ117 سے امیدوار ہیں۔ وہ پہلی بار انتخابی سیاست میں حصہ لے رہے ہیں اور تحریکِ انصاف نے انھیں اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔

ابرارالحق کا کہنا ہے کہ ان کے مخالفین اپنی انتخابی مہم میں ان کی گائیگی کی وجہ سے انھیں تنقید کا ہدف بنا رہے ہیں اور ان کے گائے گانوں پر تنقید کر کے ان کے خلاف ووٹ مانگ رہے ہیں۔

اس حلقے میں ابرارالحق کا مقابلہ ن لیگ کے سینیئر رہنما احسن اقبال اور آزاد امیدوار رفعت جاوید کاہلوں سے ہے۔

ابرار الحق نے لیکچرار کے طور پر عملی زندگی کا سفر شروع کیا اور پھر شعبۂ موسیقی سے منسلک ہو کر نام کمایا۔

گلوکار ابرارالحق کے مطابق ’مخالفین انتخابی مہم میں یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ خود نیک سیرت اور پڑھے لکھے ہیں جبکہ ان کا مقابلہ ایک گانے والے کے ساتھ ہے جس کا کوئی کردار نہیں۔‘

تحریکِ انصاف کے امیدوار ابرارالحق کا کہنا ہے کہ انہوں نے مخالفیں کی اس مہم کے خلاف الیکشن کمیشن سے رجوع کیا ہے اور اس سلسلے میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے۔

ابرارالحق کے بقول درخواست میں نکتہ اٹھایا گیا کہ ان کے مخالفیں جس انداز میں ان کے خلاف انتخابی مہم چلارہے ہیں وہ انتخابی قوانین اور ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔

سینیئر صحافی اور ڈیلی ٹائمز کے ایڈیٹر راشد رحمان کا کہنا ہے کہ گلوکاری ایک پیشہ ہے اور لوگوں تک پیغام پہنچانے کا ذریعہ بھی۔ راشد رحمان کے مطابق یہ کسی طور بھی مناسب نہیں ہے کہ کسی اس لیے تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ گانے گاتا ہے۔

ان کے بقول گانے والا بھی اتنا ہی عزت دار ہے جتنا کوئی دوسرا شہری ہے اور انتخاب میں حصہ لینا اس کا حق ہے۔

راشد رحمان نے افسوس کا اظہار کیا کہ انتخابی مہم کے دوران ایسی ایسی باتیں کی جاتی ہیں کہ سن کر شرم سے سر جھک جاتا ہے۔

شوبز صحافی قاسم علی کے مطابق ابرارالحق سماجی کارکن بھی ہیں اور انھوں نے گانوں کے ذریعے جو شہرت کمائی اسے سماجی بھلائی کے کئی منصوبے کے لیے استعمال کیا ہے۔ اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

سیاسی مصبرین کا کہناہے کہ انتخابی مہم کے دوران پالیسی پر بات ہونی چاہیے، کسی ذات یا اس کے پیشے کو نشانہ بنا مناسب نہیں ہے۔

اسی بارے میں