انتخابی سرگرمیوں پر حملے جاری، 12 ہلاک

Image caption چوبیس گھنٹوں میں جمیعت علمائے اسلام (ف) کے کسی امیدوار پر یہ دوسرا حملہ ہے

پاکستان میں شدت پسندوں کی جانب سے انتخابی سرگرمیوں کو نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ جاری ہے اور منگل کو دو مختلف واقعات میں 12 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

منگل کی صبح ایک خودکش حملہ آور نے صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ہنگو میں جمیعت علمائے اسلام کے امیدوار کے قافلے کو نشانہ بنایا جبکہ دوپہر کو ضلع لوئر دیر میں پیپلز پارٹی کے اُمیدوار کے بھائی کی گاڑی بارودی سرنگ کا نشانہ بنی۔

ادھر بلوچستان کے ضلع کچ میں تحصیل مند میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے زبیدہ جلال کے گھر پر دستی بموں سے حملہ کیا جس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

واضح رہے کہ زبیدہ جلال قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 272 سے مسلم لیگ نون کی امیدوار ہیں۔

دریں اثناء کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان دیر میں ہونے والے بارودی سرنگ کے دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے جبکہ ہنگو بم دھماکے سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔

ہنگو پولیس نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ خودکش حملے کا نشانہ مفتی جانان خان کا قافلہ بنا اور اس میں 8 افراد ہلاک اور 33 زخمی ہوگئے۔

پولیس اہلکار احمد خان کے مطابق مفتی جانان خان انتخابی مہم پر دوآبہ سے ٹل جا رہے تھے جب دوآبہ بازار میں ایک موٹر سائیکل سوار خود کُش حملہ آور نے ان کے قافلے کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

اس دھماکے میں مُفتی جنان خان محفوظ رہے تاہم ان کے دو محافظ زخمی ہوئے ہیں۔

دھماکے کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ لاشوں اور زخمیوں کو سول ہسپتال منتقل کر دیاگیا جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ چوبیس گھنٹوں میں جمیعت علمائے اسلام (ف) کے کسی امیدوار پر یہ دوسرا حملہ ہے۔اس سے قبل پیر کو قبائلی علاقے کُرم ایجنسی میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے اُمیدوار منیر اورکزئی کے انتخابی جلسے میں بم دھماکا ہوا تھا جس میں 25 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

ادھر خیبر پختونخوا کے ایک اور ضلع لوئر دیر میں پیپلز پارٹی کے اُمیدوار کے بھائی کی گاڑی کے قریب دھماکے میں 4 افراد ہلاک ہو گئے۔

پولیس آفسر محتب خان نے بی بی سی کو بتایا کہ پیپلز پارٹی کے اُمیدوار محمد امین کے بھائی ظاہر شاہ انتخابی مُہم کے سلسلے میں اوڈیگرام سے باباگام جا رہے تھے کہ باباگام کے قریب ایک کچے راستے میں ان کی گاڑی ایک بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی

دھماکے سے ظاہر شاہ سمیت 4 افراد ہلاک ہو گئے اور ان کی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

ادھر بلوچستان کے ضلع کچ کی تحصیل مند میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال کے گھر پر دستی بموں سے حملہ کیا جس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

واضح رہے کہ زبیدہ جلال قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 272 سے مسلم لیگ نون کی امیدوار ہیں۔

انتخابات کے اعلان کے بعد سے پاکستان کے قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے ۔

اب تک عوامی نیشنل پارٹی سے وابستہ امیدواروں اور ان کے دفاتر پر سب سے زیادہ حملے ہوئے اور ان میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔

پشاور میں پمفلٹ کی تقسیم

ادھر پشاور کے مضافاتی علاقوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے ایک پمفلٹ تقسیم کیا ہے جن میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ گیارہ مئی کے انتخابات میں ووٹ نہ ڈالیں اور نہ ہی پولنگ سٹیشن پر جائیں ورنہ وہ حالات کے خود ذمہ دار ہوں گے۔

یہ پمفلٹ تحریک طالبان پاکستان درہ آدم خیل کی جانب سے ہے جو اردو زبان میں کمپیوٹر پر تیار کیاگیا ہے۔

پمفلٹ میں بتایاگیا ہے کہ دُنیا میں کُفر اور اسلام کے درمیان جو جنگ جاری ہے یہ بنیادی طور پر دو نظاموں یعنی شریعت اور جمہوریت کے درمیان ایک جنگ ہے۔

پمفلٹ میں ووٹروں کو سختی سے تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ اسلام اور کُفر کے درمیان جاری جنگ میں شرعی نظام کو لانے کے لئے ان کے ساتھ جانی و مالی تعاون کریں۔اور انتخابات کے لئے ہونے والی ہر قسم کے سرگرمیوں سے دور رہے۔

پمفلٹ میں اساتذہ اور دوسرے سرکاری مُلازمین کو بھی مُتنبہ کیا ہے کہ وہ اپنے ڈیوٹیوں کو ترک کردیں۔ اور عام شہری پولنگ سٹیشنوں سے دور رہے کیونکہ ان کو جب بھی موقع ملےگا۔ وہ ان جگہوں کو نشانہ بنائیں گے۔

بلوچستان کے ضلع کیچ میں تحصیل مند میں نامعلوم موٹر سائکل سواروں نے زبیدہ جلال کے گھر پر دستی بموں سے حملہ کیا ہے جس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ زبیدہ جلال این اے 272 سے مسملم لیگ ن کی امیدوار ہیں۔)

اسی بارے میں