مخدوم خاندان کو بنگلے سے باہر نکلنا پڑگیا

Image caption سیاسی مخالفین کا کہنا ہے کہ مخدوم امین فہیم نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ مٹیاری ضلع میں مخدوم خاندان کے علاوہ اور کوئی سیاسی قوت نہیں

یہ سنہ 1988 کی بات ہے جب پاکستان پیپلز پارٹی ایک طویل مارشل لاء کے بعد برسرِ اقتدار آئی تھی۔ انتخابات میں پی پی پی کے کئی سیاسی نغمے آئے لیکن کامیابی کے بعد اگر کسی کا گیت سننے کو ملا تو وہ مخدوم خاندان کا تھا جس کےمصرعے تھے ’ دیں مبارک باد ، جیت کر آئے ہالا کے سب سائیں‘۔

پاکستان کے انتخابات 2013: خصوصی ضمیمہ

2008 کے انتخابی نتائج کا نقشہ

ان انتخابات میں مخدوم خاندان نے چار نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ ایک قومی اور ایک صوبائی نشست پر مخدوم امین فہیم اور دو نشستوں پر ان کے بھائی مخدوم خلیق الزمان اور مخدو رفیق الزمان نے کامیابی حاصل کی تھی۔

انتخابات اور مخدوم خاندان کی کامیابی کا سلسلہ جاری رہا، حیدرآباد ضلع کو تقسیم کر کے مٹیاری ضلع بنایا گیا جس میں مخدوم خاندان کا حلقہ انتخاب بھی شامل ہوگیا۔ گذشتہ انتخابات میں ایک بار پھر مخدوم امین فہیم قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہوئے اور ان کے بیٹے جمیل الزمان کو صوبائی نشست پر کامیابی ملی۔

بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد مخدوم خاندان کئی ماہ تک سیاسی منظر سے پنہاں کردیا گیا اور بعد میں اعلیٰ قیادت کے خدشات اور تحفظات دور ہونے کے بعد مخدوم امین فہیم اور ان کے فرزند جمیل الزمان وزارتوں میں نظر آئے۔

حالیہ انتخابات کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹرین نے ٹکٹ تقسیم کیے جس کے سربراہ مخدوم امین فہیم ہیں، ٹکٹ کی تقسیم پر سندھ بھر میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور رہنماؤں کے اختلافات اور تحفظات سامنے آئے۔ مخدوم امین فہیم نے جب چار نشستیں اپنے خاندان کے لیے نکال کر رکھیں تو انہیں بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

مٹیاری ضلع میں ایک قومی اور دو صوبائی اسمبلی کی نشستیں ہیں جن میں قومی اسمبلی کے لیے مخدوم امین فہیم خود اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر ان کے سجادہ نشین مخدوم جمیل الزمان اور بھائی رفیق الزمان امیدوار ہیں۔ ایک بیٹے کے لیے انہوں نے تھرپارکر کی تحصیل ننگر پارکر سے صوبائی اسمبلی کی نشست حاصل کر لی ہے۔

سیاسی مخالفین کا کہنا ہے کہ مخدوم امین فہیم نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ مٹیاری ضلع میں مخدوم خاندان کے علاوہ اور کوئی سیاسی قوت نہیں۔ اس تاثر نے یہاں ان کے مخالفین کو ایک چھتری کے نیچے اکٹھا کر دیا ہے۔

مٹیاری ضلع میں میمن برادری اکثریت میں موجود ہے۔ صدر پاکستان آصف علی زرداری کے دوست نظیر راہو بھی یہاں رہتے ہیں جنہوں نے میمن برادری کے ساتھ مل کر عوامی اتحاد بنایا ہے، جس نے بعد میں مسلم لیگ فنکشنل میں شمولیت اختیار کر لی۔

مٹیاری میں راشدی خاندان اور مسلم لیگ فنکشنل کا ووٹ بینک موجود ہے، اس وقت مخدوم امین فہیم کے سامنے عبدالرزاق میمن، ان کے بیٹے جمیل الزمان کے سامنے نظیر راہو اور بھائی مخدوم رفیق الزمان کے سامنے محمد علی شاہ جاموٹ مد مقابل ہیں۔

پیپلز پارٹی کے ناراض حلقوں کو راضی کرنے کے لیے بلاول ہاؤس اور مخدوم ہاؤس دونوں کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں، اس سے پہلے مخدوم امین فہیم کو بلا مقابلہ لانے کی کوشش ہوتی تھی اور اگر مخالف دستبردار نہ ہوں تو بھاری اکثریت سے کامیابی یقینی بنائی جاتی تھی لیکن اس بار صورت حال ایسی نہیں ہے کہ مخدوم خاندان بے فکر ہو کر اٹھاس بنگلو میں آرام کریں۔

Image caption مخدوم امین فہیم سروری جماعت کے روحانی پیشوا بھی ہیں، جن کا شجرہ پہلے خلیفہ ابوبکر صدیق سے ملتا ہے

مخدوم ہاؤس کی دیواریں پینا فلیکس سے سجی ہوئی ہیں، جن پر پولنگ سٹیشنز اور ووٹروں کی تعداد درج ہے، صبح سے شام تک مقامی معززین کی آمد اور میٹنگوں کا طویل سلسلہ جاری ہے۔

سندھ میں سیاسی سرگرمیاں سکیورٹی وجوہات کی وجہ سے محدود ہیں لیکن ہالا میں دکانیں، بازار پیپلز پارٹی کے جھنڈوں سے سجے ہوئے ہیں، چنگچی رکشہ اور دکانوں پر پیپلز پارٹی کے سیاسی نغمے بھی سننے کو ملتے ہیں۔

مخدوم امین فہیم سروری جماعت کے روحانی پیشوا بھی ہیں۔ سروری جماعت کے مریدین اور عقیدت مند سندھ بھر میں موجود ہیں۔

مخدوم خاندان نے ہالا کو روحانی پہچان دی ہے، یہاں ان کے بزرگ مخدوم سرور نوح کا مزار بھی واقع ہے جہاں اسلامی مہینے رجب میں عرس منعقد ہوتا ہے جو کہ ہالا شہر کی معشیت کے پیے کی رفتار بڑھا دیتا ہے۔

مخدوم امین فہیم دو روز قبل ہی عمرکوٹ اور تھرپارکر کے دورے سے واپس آئے ہیں۔ تھرپاکر میں ان کے فرزند مخدوم نعمت اللہ امیدوار ہیں اور اس کے ساتھ تھر سے مخدوم شاہ محمود قریشی بھی قومی اسمبلی کا انتخاب لڑ رہے ہیں، جنہوں نے پھچلے دنوں اشارہ دیا تھا کہ مخدوم امین فہیم پیپلز پارٹی چھوڑ رہے ہیں۔

ٹھنڈے مزاج کے مالک مخدوم امین فہیم کہتے ہیں کہ شاہ محمود قریشی سب کو اپنے جیسا سمجھتے ہیں، وہ پیپلز پارٹی میں ہیں اور اس کے ساتھ رہیں گے۔

ہالا شہر میں سرکاری عمارتوں اور سکیموں پر مخدوم خاندان کا نام تحریر، کئی ادارے بھی ان کے نام سے منسوب ہیں، بعض ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز کے استعمال پر بھی کچھ لوگ ناراض ہیں، لیکن اس ساری صورت حال کے باوجود پیپلز پارٹی کی گرفت تھوڑی ڈھیلی ہوئی ہے۔

اسی بارے میں