کہاں کا انتخاب، کون سا الیکشن؟

Image caption انتخابات کی گہماگہمی کے دوران ایک بستی ایسی بھی ہے جس میں نہ کوئی انتخابی بینر، نہ کوئی پوسٹر، نہ جلسہ نہ جلوس

ملک کے طول و عرض میں الیکشن کی گہماگہمی عروج پر ہے اور آج انتخابی مہم کا آخری دن ہے۔

اسی طرح انتخابات اور اس کے بعد آنے والی حکومت کے بارے میں قیاس آرائیاں اور پیش گوئیاں بھی جاری ہیں جن کی شدت میں اب شاید مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

ووٹوں کا تو پتا نہیں لیکن مسلم لیگ ن اور تحریکِ انصاف کے درمیان جلسہ جلسہ کھیل دلچسپ مرحلے میں جا پہنچا ہے۔ عمران خان کا اچانک گر جانا اور میاں صاحب کا اس پر کمال فراخ دلی سے اپنی مہم کو آخری اور اہم دنوں میں روک دینا ایک نئی روایت ہے۔

انتخابات کے حوالے سے مختلف سرگرمیوں پر نظر رکھنا شاید صحافتی ذمہ داریوں کا حصہ ہی ہے تو اسی سلسلے میں قدیم شہر چنیوٹ سے گزر رہے تھے تو خان صاحب کا جلسہ دیکھا جس میں خان صاحب ایک مخصوص مذہبی گروہ سے لاتعلقی کا اعلان کر رہے تھے اور حاضرین کو بتا رہے تھے کہ ان کے خلاف سازش ہو رہی ہے کہ ان کا نام احمدیوں کی حمایت کے حوالے سے لیا جا رہا ہے۔

چنیوٹ سے دس کلومیٹر دور احمدیوں کی بستی ہے تو سوچا وہاں سے بھی ہوتے چلیں۔ دریائے چناب سے گزرے تو بے ساختہ سوہنی کا خیال آیا کہ اس کے پاس بھی کچے گھڑے کے سوا شاید کوئی انتخاب نہ تھا شاید وہ یہ بھی جانتی ہو کہ بیچ منجدھار کوئی اس کو نہ بچا پائے گا۔

انہی سوچوں میں غلطاں چناب نگر میں داخل ہوئے جو کبھی ربوہ کہلاتا تھا۔ اس بستی میں داخلے کے وقت لگا کہ شاید یہاں الیکشن برائے نام ہی ہو رہا ہے کیونکہ مسلم کالونی کے علاقے سے گزرتے ہوئے تو کچھ جھنڈے اور بینرز نظر آئے مگر جیسے ہی آگے بڑھے تو فرق ایسا تھا جیسا مشرقی برلن سے مغربی برلن کے درمیان ہوا کرتا تھا۔

حیرانی کا عالم یہ تھا کہ نہ کسی امیدوار کا بینر، نہ کسی پارٹی کا جھنڈا، اور ان حالات میں انتخابی دفتر کا سوچنا شاید جرم ہوتا۔

دیواروں پر نظر پڑی تو کچھ ڈھارس بندھی کیونکہ جگہ جگہ مختلف تحریریں تھیں مگر قریب ہو کر دیکھا تو سگریٹ نوشی کو صحت کا دشمن قرار دے کر اس سے دور رہنے کی نصیحتیں لکھی تھیں۔

ایک بزرگ کو روک کر پوچھا کہ آپ کس کو ووٹ دیں گے تو انھوں نے انکار میں سر ہلا دیا۔ خیال آیا کہ شاید اپنے گذشتہ نمائندے سے ناراض ہیں۔ جب اصرار کیا تو ان کا جواب سادہ سا تھا کہ جب میرے مذہبی عقائد کی بنا پر امتیازی سلوک ہو گا اور مجھے ووٹ دینے سے روکنے کے لیے روڑے اٹکائے جائیں گے تو پھر ووٹ کیسا اور کہاں کا انتخاب۔

ایک صاحب قریب ہی کھڑے تھے انہوں نے گفتگو میں شامل ہوتے ہوئے کہا کہ جناب ووٹ کا پیمانہ ایک ہے اور وہ ہے شناختی کارڈ تو پھر فلاں حلف نامہ اور فلاں فہرست کا مقصد کیا ہے؟ وہ بھی صرف ایک میرے فرقے کے لیے؟

انہوں نے الٹا سوال کر ڈالا کہ سارے پاکستانی خواہ وہ مسلمان ہوں یا سکھ، ہندو ہوں یا یہودی، مسیحی ہوں یا پارسی یا کسی بھی مذہب کا پیروکار تو ان کے لیے تو ایک فہرست ہے اور میرے لیے الگ فہرست؟ کیا میں اچھوت ہوں یا میں سوتیلا ہوں؟ کیا میں پاکستانی نہیں ہوں؟

اب اس کا جواب کیا دیا جاتا یہ آپ پر چھوڑتے ہیں مگر جواب سن کر آگے بڑھنے کو ہی تھے کہ بزرگ نے ہاتھ پکڑ کر کہا کہ ’یہ مٹی میری ماں ہے یہ جیسا بھی سلوک کرے مگر میرے دل سے اس مٹی کی محبت کم نہ ہو سکے گی‘۔

سارا شہر گھوم لیا، کئی خواتین و حضرات سے بات کی مگر سب کا ایک ہی جواب تھا کہ ’یہ تفریق ان کے ساتھ ہی کیوں؟‘

ربوہ اس ملک میں ایک جزیرہ سا لگا جہاں نہ تو انتخابات ہیں اور نہ ہی ووٹ دینے پر آمادہ شہری۔ ایسا کیوں ہے، اس کا جواب دینے کے لیے کوئی بھی راضی نہیں۔