انتخابات سے قبل پرتشدد کارروائیاں جاری، نو ہلاک

Image caption ہلاک ہونے والوں میں ملک بہرام کے بیٹے اور ڈرائیور شامل ہیں

پاکستان میں عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم ختم ہونے میں ایک ہی دن باقی بچا ہے اور شدت پسندوں کی جانب سے انتخابی سرگرمیوں کو نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ بدھ کو بھی جاری رہا ہے۔

بدھ کو خیبر پختونخوا کے چار شہروں اور باجوڑ ایجنسی میں پرتشدد کارروائیوں میں تین پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم نو افراد ہلاک اور اڑتیس زخمی ہوئے ہیں۔

باجوڑ ایجنسی میں مقامی انتظامیہ کے مطابق خار سے 8 کلومیٹر دور امان کوٹ نامی قصبے میں عوامی نیشنل پارٹی کی انتخابی میٹنگ دھماکے کا نشانہ بنی۔

مقامی اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے مقامی عہدیدار عبدالمنان کے مکان میں جلسہ جاری تھا کہ مکان کے باہر نصب دھماکہ خیز مواد پھٹ گیا۔

اہلکار کے مطابق دھماکے میں 2 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں جنہیں خار کے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

اپر دیر

اس سے قبل بدھ کی صبح اپر دیر میں پولیس کے مطابق دھماکے میں جماعت اسلامی کے امیدوار کو نشانہ بنایا گیا جو خود بھی اس حملے میں زخمی ہوئے۔

ضلع سوات سے مقامی صحافی انور شاہ نے بتایا کہ اپر دیر میں جماعت کے نامزد امیدوار ملک بہرام کو خاگرام کے علاقے میں نشانہ بنایا گیا۔

اس دھماکے میں دو افراد ہلاک جبکہ ملک بہرام سمیت تین افراد زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ملک بہرام کے بیٹے اور ڈرائیور شامل ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے جب شدت پسندوں نے جماعت اسلامی کے امیدوار کو نشانہ بنایا ہے۔

بنوں

بدھ کی صبح ہی بنوں میں پولیس تھانہ ڈومیل کے قریب پولیس کے رہائشی مکانات پر ایک خودکش حملے میں تین افراد ہلاک اور بیس زخمی ہوگئے۔

پولیس افسر نبی شاہ نے ہمارے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا کہ صبح فجر کی نماز کے تھوڑی دیر بعد خودکش حملہ آور نے بارود سے لدی پک اپ پولیس کے رہائشی کوارٹرز سے ٹکرا دی۔

پولیس افسر کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک پولیس اہلکار، ایک خاتون اور ایک شہری شامل ہے۔

ادھر پشاور کے علاقے رشید گڑھ میں یکہ توت تھانے کی حدود میں ایک مکان میں چھپے مشتبہ افراد کے خلاف پولیس نے کارروائی کی اور دونوں جانب سے فائرنگ کے تبادلے میں دو پولیس اہلکار مارے گئے ہیں۔

ہنگو

ہنگو میں پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکا جانی چوک میں ہوا اور بم سبزی کی ایک ریڑھی میں نصب تھا۔

مقامی اہلکار نے بتایا کہ اس حملے میں ایک پولیس اہلکار اور چودہ شہری زخمی ہوئے ہیں۔

ہنگو میں ہی منگل کو جمیعت علمائے اسلام (ف) کے امیدوار مفتی جانان خان پر ایک خودکش حملہ ہوا تھا جس میں 8 افراد ہلاک اور 33 زخمی ہوئے تھے۔

انتخابات کے اعلان کے بعد سے پاکستان کے قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان علاقوں میں تشدد کے دو درجن سے زیادہ واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں کم سے کم ایک سو افراد ہلاک اور دو سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں