’مخلوط حکومت میں شمولیت کو رد نہیں کیا جا سکتا‘

Image caption صرف تحریکِ انصاف ہی طالبان سے مذاکرات کی بات کر رہی ہے: شاہ محمود قریشی

پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ انتخابات کے بعد تحریکِ انصاف کے کسی مخلوط حکومت میں شامل ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا اور کہا کہ سیاست میں راستے بند نہیں کیے جاتے۔

تحریکِ انصاف کے سینئر وائس چیئرمین سے بی بی سی اردو ٹی وی کے پروگرام میں جب پوچھا گیا کہ کیا تحریکِ انصاف نے کسی مخلوط حکومت میں شامل ہونے کا راستا کھلا رکھا ہے تو انھوں نے کہا، ’ظاہر ہے کہ سیاست میں راستے بند نہیں کیے جاتے۔‘

انھوں نے کہا کہ تحریکِ انصاف کا انتخابات کے اگلے روز اہم اجلاس ہو گا جس میں عوام سے کیے گئے وعدوں کو اور تحریکِ انصاف کے موقف کو مد نظر رکھتے ہوئے آئندہ لائحۂ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔

طالبان سے مذاکرات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صرف تحریکِ انصاف ہی طالبان سے مذاکرات کی بات کر رہی ہے جس کا مقصد افغانستان میں امن کا قیام ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ تحریک طالبان پاکستان کو جمہوریت ہی کی مخالف ہے اور ووٹ ڈالنے کے خلاف پوسٹر لگا رہی ہے تو انھوں نے کہا کہ طالبان کا اپنا نقطۂ نظر ہے اور پی ٹی آئی کا اپنا۔ انھوں نے کہا کہ ان کی نظر میں اسلام میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔

عمران خان کے ڈرون گرانے جانے کے بارے میں ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ تحریکِ انصاف ہی ڈرون حملوں کی مخالف نہیں ہے بلکہ اس بارے میں امریکہ، برطانیہ اور مغرب میں بھی مخالفت ہے اور انٹرنیشنل ہیومن رائٹس گروپ نےبھی اس کی مخالفت کی ہے۔

پاکستان فوج کے سربراہ کے دہشت گردی کے حوالے سے دیے گئے ایک بیان پر انھوں نے کہا کہ دنیا بھر مفاہمت کی بات کر رہی ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ تحریکِ انصاف دہشت گردی کے حق میں نہیں ہے اور ملک میں کسی کو دہشت گردی کی اجازت نہیں دیں گے۔

انھوں نے کہا کہ نہ ہی وہ کسی کو اس بات کی اجازت دیں گے کہ پاکستان کی سرزمین کو استعمال کرکے کسی دوسرے ملک پر حملے کریں۔

اسی بارے میں