کارکردگی کی بجائے مظلومیت کا پرچار

جوں جوں ملک میں عام انتخابات کے انعقاد کا وقت قریب آتا جارہا ہے، مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے میڈیا اور بالخصوص ٹی وی چینلز پر چلنے والے اشتہارات میں تبدیلی آتی جارہی ہے۔

ان اشتہارات میں سیاسی جماعتیں لوگوں کو اپنے منشور سے متاثر کرنے کی بجائے اُنھیں جذباتی کرکے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

اب تو ایسا دکھائی دیتا ہے کہ جو سیاسی جماعت زیادہ مظلومیت کا پرچار کرے گی اُنھیں ووٹ زیادہ ملنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

سب سے پہلے ذکر پاکستان تحریک انصاف کا جن کے ذریعے پہلے تو نظام میں تبدیلی کے اشتہارات کو نجی ٹی وی چینلوں کی زینت بنایا جاتا رہا۔

Image caption عمران خان کے زخمی ہونے کے بعد ان کے لیے ہمدردی کی لہر نے اشتہارات کا رخ موڑ دیا ہے

سات مئی کو لاہور عمران خان کے زخمی ہونے کے واقعے کے بعد ان کے زخمی حالت میں لیے گئے بیان کو اشتہاری مہم کا حصہ بنایا گیا ہے۔ جس میں لوگوں کو اپنی جماعت کے انتخابی نشان بلے کو ووٹ دینے کو کہا گیا ہے۔

شروع میں تو اس بیان کو مقامی میڈیا نے بریکنگ نیوز کے طور پر چلایا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین کو ہوش آگیا ہے اور اُنھوں نے چینل کے ساتھ خصوصی گفتگو کی ہےT لیکن بعد میں میڈیا والوں کو احساس ہوا کہ یہ تو اشتہاری مہم ہے جس کے بعد اُنھوں نے اسے کمرشل بنیادوں پر چلانا شروع کردیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس بیان کے بعد عمران خان کے لیے ہمدردی کے ووٹ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

Image caption پیپلز پارٹی بے نظیر کو ہی مرکز میں رکھ کر اپنی مہم چلا رہی ہے

سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے شروع میں تو اپنی حکومت کے پانچ سالہ دور میں کیے جانے والے ترقیاتی کاموں کا ذکر کیا لیکن جب عوام میں اس کو پذیرائی نہ ملی تو اُنہوں نے بھٹو خاندان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور دسمبر سنہ 2007 میں بے نظیر بھٹو کے قتل کو بھی اپنی اشہتاری مہم کا حصہ بنایا اور لوگوں کو یاد دلایا کہ ان زیادتیوں کے ازالے کے لیے تیر پر مہر لگائی جائے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے اُمیدواروں نے بھی پارٹی کی میڈیا مہم چلانے والوں سے کہا کہ چونکہ اس پارٹی کے جیالے پارٹی کی کارکردگی کو نہیں بلکہ بھٹو خاندان کو ہی اپنا سب کچھ مانتے ہیں اس لیے کارکردگی کی بجائے بھٹو خاندان کو ہی فوکس کیا جائے۔

اس کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی اشتہاری مہم میں شریف برادران کو بھی فوکس کیا ہے جس میں اُنھوں نے پیپلز پارٹی کی جانب سے شروع کیے گئے ترقیاتی کاموں کو روکا تھا تاکہ اس کو دیکھ کر کم از کم پارٹی کا ورکر تو کسی حد تک اپنی پارٹی کے ساتھ رہے۔

Image caption نواز شریف کی پارٹی نے بھی ان پر ہوئے ستم کی داستان بیان کرنے میں پیچھے نہیں

تیسرے نمبر پر صوبہ پنجاب کی حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کا ذکر آتا ہے۔ یہ جماعت بھی شخصیات کے گرد ہی گھومتی ہے۔

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو جب سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے طیارہ اغوا کرنے کے مقدمے میں جیل میں ڈالا اور پھر اُنھیں ملک بدر کیا تو ان واقعات کو بھی اس جماعت نے اپنی اشتہاری مہم کا حصہ بنایا ہے تاکہ ووٹروں کو اس بات کا بھی احساس دلایا جاسکے کہ اُن کے ساتھ بھی زیادتی کی گئی ہے اس لیے ووٹ کی پرچی پر شیر کے نشان پر مہر لگائی جائے۔

باقی سیاسی جماعتوں کی طرف سے باقاعدگی کے ساتھ میڈیا پر اشتہاری مہم نہیں چلائی جا رہی۔

اسی بارے میں