خفیہ اداروں کے سربراہوں کونوٹس جاری

Image caption عدالت نے گم شدہ افراد کے کیس میں ایجنسیوں کے سربراہان کو بھی طلب کیا ہے

سپریم کورٹ نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے لاپتہ ہونے والے سات قیدیوں کو دس مئی کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے متعقلہ حکام سے اس بات کی وضاحت بھی طلب کرلی ہے کہ ان افراد کو کس قانون اور کس جرم کے تحت حراستی مراکز میں رکھا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے خفیہ اداروں کے سربراہوں کو بھی نوٹسز جاری کیے ہیں جبکہ اٹارنی جنرل کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ ان افراد کی عدالت میں حاضری کو یقینی بنائیں۔

سنہ دو ہزار دس میں فوجی تنصیبات پر حملوں کے الزام میں گرفتار ہونے والے گیارہ افراد کو عدم ثبوت کی بنا پر متعقلہ عدالتوں نے ان افراد کو رہا کردیا تھا تاہم ان افراد کو رہائی کے فوری بعد ہی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے اُنہیں اڈیالہ جیل کے باہر سے سے اغوا کرلیا تھا۔

ان گیارہ افراد کے اہلخانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ فوج کے زیر انتظام حراستی مراکز میں دوران تفتیش چار افراد تشدد کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔

ان افراد کو سنہ دوہزار سات میں اسلام آباد میں لال مسجد آپریشن کے بعد فوجی تنصیبات پر حملوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اڈیالہ جیل کے باہر سے زبردستی اغوا کیے جانے والے قیدیوں کے مقدمے کی سماعت کی تو ان قیدیوں کے وکیل طارق اسد نے کہا کہ گُزشتہ تین سال سے اُن کے موکلوں کو حراست میں رکھا ہوا ہے جبکہ اس ضمن میں فوج کے جج ایڈووکیٹ جنرل بھی عدالت میں بیان دے چکے ہیں کہ ان افراد کے خلاف فوجی قافلوں اور تنصیبات پرحملوں کے ثبوت نہیں ملے۔

اُنہوں نے کہا کہ متعقلہ عدالتوں نے عدم ثبوت کی بنا پر رہا کردیا گیا لیکن اس کے باوجود بھی اُنہیں حراست میں رکھا گیا ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کسی شخص کو بھی ایک لمحے کے لیے بھی غیر قانونی طور پر حراست میں نہیں رکھا جاسکتا۔

اُنہوں نے کہا کہ اگر یہ ثابت ہوگیا کہ ان افراد کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص یا ادارہ قانون سے بالاتر نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل کے بقول ان افراد کو فرنٹیئر کرائم ریگولیشن کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے اور اُن سمیت سات سو افراد اسی قانون کے تحت حراستی مراکز میں ہیں۔

بینچ میں موجود جسٹس شیخ عظمت سعید کا کہنا تھا کہ اس قانون کے تحت کسی بھی شخص کو بند کردیا جائے کہ وہ فوجی قافلوں پر حملوں میں ملوث ہے اور اُس کو قانون کے مطابق صفائی کا موقع بھی نہ دیا جائے تو یہ بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ان درخواستوں کی سماعت دس مئی تک ملتوی کردی گئی۔

اسی بارے میں