مشرف بتائیں کہ ان کا وکیل کون ہے:سپریم کورٹ

Image caption اعلی عدلیہ کے ججز سمیت ان فوجی حکام کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے جنہوں نے جنرل مشرف کے احکامات مانے: وکیل

سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے غداری کا مقدمہ درج کرنے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی درخواستوں پر اپنے وکلاء کو مزید دلائل دینے سے روک دیا ہے۔

ادھر ان درخواستوں کی پیروی کرنے والے وکلاء کے بیانات میں تضاد کے بعد سپریم کورٹ نے پرویز مشرف سے کہا ہے کہ وہ عدالت کو تحریری طور پر بتائیں کہ کونسا وکیل ان درخواستوں میں اُن کی نمائندگی کرر ہا ہے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی تین رکنی بینچ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔

ان درخواستوں میں پرویز مشرف کی پیروی کرنے والے تین رکنی وکلاء پینل میں شامل ابراہیم ستی نے عدالت کو بتایا کہ اُنہوں نے سات مئی کی شام کو پرویز مشرف سے سب جیل میں ملاقات کی تھی اور اُنہیں اپنے موکل (پرویز مشرف) کی طرف سے ہدایت ملی ہے کہ ان درخواستوں پر مذید دلائل نہ دیے جائیں۔

ابراہیم ستی نے کہا کہ ان درخواستوں کی مد میں اُنہوں نے جو دلائل دیے ہیں صرف عدالت اُن کو ہی حقیقی دلائل تصور کرے اور اگر مزید دلائل دینے کی ضرورت پیش آئی تو تحریری طور پر دلائل دیے جائیں گے۔

اُنہوں نے کہا کہ ان درخواستوں کی مد میں وکلاء پینل میں شامل احمد رضا قصوری کی جانب سے دیے گئے دلائل کو ایسے تصور کیا جائے جیسے وہ کبھی دیے ہی نہیں گئے۔

ابراہیم ستی کا کہنا تھا کہ اُن کے موکل کا کہنا ہے کہ اُن سمیت کسی بھی شخص کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت غداری کا مقدمہ نہیں چلایا جانا چاہیے۔

اس دوران احمد رضا قصوری کھڑے ہوگئے اور اُنہوں نے کہا کہ سات مئی کو رات گئے پرویز مشرف کی طرف سے ہدایات ملی ہیں کہ وہ اپنے دلائل جاری رکھیں اس لیے وہ اپنے دلائل جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کا یہ بیان بھی اُن کے دلائل کی تائید کرتا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اعلی عدلیہ کے اُن ججز اور فوجی اور سویلین حکام کے خلاف بھی کارروائی کی جائے جنہوں نے جنرل پرویز مشرف کے بطور آرمی چیف تین نومبر کو ملک میں لگائی جانے والی ایمرجنسی کے بعد اُن کے احکامات تسلیم کیے تھے۔

ابراہیم ستی کا کہنا تھا کہ احمد رضا قصوری کا بیان ان کا اپنا ہے اور اُنہوں نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا۔ بینچ میں موجود جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ اُنہوں نے اپنی سروس کے دوران ایسی مثال نہیں دیکھی کہ ایک ہی موکل کے وکلاء متضاد بیان دے رہے ہوں۔

عدالت نے پرویز مشرف کو حکم دیا ہے کہ وہ بتائیں کہ ان درخواستوں کی سماعت میں کونسا وکیل اُن کی نمائندگی کررہا ہے۔ بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو اس ضمن میں عدالت میں طلب بھی کیا جاسکتا ہے۔

عدالت نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو حکم دیا کہ وہ آج ہی عدالتی حکم پرویز مشرف کو پہنچائیں۔ ان درخواستوں کی سماعت نو مئی تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔