سیاسی کارکن پرچموں کی اہمیت سے ناآشنا

Image caption پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکن بھی اپنے پرچم کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے

پاکستان میں انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے ساتھ شروع ہونے والا سیاسی سرگرمیوں کا سلسلہ اب اپنے عروج پر ہے اور قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے مختلف حلقوں میں سیاسی جماعتوں کے اُمیدوار اپنی تشہیری مہم کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوششوں میں مُصروف ہیں۔

اُمیدواروں کی اس مہم سے ہر جانب سیاسی جماعتوں کے پرچموں اور بینرز کی بہار سے آئی ہوئی ہے اور شاید ہی کوئی بجلی کا کھمبا بچا ہو جس پر انتخابی بینر یا جھنڈا آویزاں نہ ہو۔

ویسے تو پرچم کا مطلب علامت یا نشان ہوتا ہے اور سب سے پہلے اس کا استعمال گروہوں کے مابین جنگوں میں فوجوں کی شناخت کے لیے کیا جاتا تھا لیکن اب یہ ہر ملک اور قوم کا شناختی نشان ہے۔

کسی بھی ملک کا پرچم اُس ملک کے نظریے کو بیان کرتا ہے اور ملکوں کی طرح سیاسی جماعتیں بھی نظریات کی بنیاد پر اپنا پرچم تشکیل دیتی ہیں ۔

ملک میں دائیں بازو کی مذہبی جماعت جماعتِ اسلامی کا جھنڈا نیلے، سفید اور ہرے رنگوں پر مشتمل ہے۔ جماعت کے امیر منور حسن کا کہنا ہے کہ ان کے جھنڈے میں سفید رنگ امن اور عالمگیریت کی علامت ہے۔

’ہم نے ہمیشہ اس ملک میں اقلیتوں کو مساوی حقوق کی بات کی ہے اور نیلا رنگ ہمارے نظریات اور کام کی وسعتوں کو ظاہر کرتا ہے کہ ہم تمام لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔‘

سابق حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی بنیاد تین اصولوں پر رکھی گئی جو کہ ’اسلام ہمارا دین، سوشلزم ہماری معشیت اور جمہوریت ہمارا نظام‘ ہیں۔ یہ اُصول جماعت کے تین رنگ کے جھنڈے میں بھی جھلکتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے رہنما تاج حیدر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پرچم کے بائیں جانب ہلال اور ستارہ ہے جو پیپلز پارٹی کو بائیں بازو کی جماعت ظاہر کرتے ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی سوشلزم کا نعرہ لگاتی ہے اور یہی نظریہ اس کے سرخ رنگ کے جھنڈے میں بھی نمایاں ہے جبکہ پاکستان میں مسلم لیگ کے مختلف دھڑے تو ضرور ہیں لیکن سب کے جھنڈے ایک ہی رنگ یعنی سبز رنگ پر مشتمل ہے جو کہ اسلام کا رنگ ہے۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کے جھنڈے یا ان سے مماثلت رکھتے پرچم جابجا دکھائی دے رہے ہیں اور جماعت کے کارکنوں نے بھی انہیں اپنی مکانات یا گاڑیوں پر نصب کیا ہے لیکن ان میں سے اکثر یہ نہیں جانتے کہ ان کی جماعت کے پرچم کا مطلب کیا ہے۔

اسلام آباد کے ایک رہائشی علاقے میں پپیلز پارٹی کے مقامی اُمیدوار کے بینر نصب کرنے میں مصروف عدنان احمد کہتے ہیں کہ ’جیسے ہر جماعت کا جھنڈا رنگین ہے ویسے ہی پیپلز پارٹی کے جھنڈے میں بھی رنگ ہیں۔ ان رنگوں کے مطلب کیا یہ میں کبھی نہیں سوچا‘۔

لیکن تاج حیدر کے خیال میں ان کی جماعت کا کارکن اپنے پرچم کی اہمیت سے آشنا ہے۔ ’اگر طالبان جانتے ہیں کہ ہم ترقی پسند ہیں تو پھر ہمارے کارکن بھی جانتے ہیں کہ ہمارا مقصد ملک میں جمہوریت ہے اور ہم اسلام کی ترقی پسند تشریح اور سوشلزم اور وسائل کی تقسیم چاہتے ہیں‘۔

بائیں بازو کی نسبتاً روشن خیال جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے پرچم میں بھی سرخ، سبز اور سفید رنگ کا خاص تناسب جماعت کے نظریات کو بیان کرتا ہے لیکن مضبوط تنظیمی ڈھانچے والی اس جماعت کے کارکن اپنی جماعت کے نظریات اور بنیاد سے قدرے واقف تو ہیں لیکن جھنڈے میں رنگوں کا تناسب انہیں معلوم نہیں۔

تنظیم کا گڑھ خیال کیے جانے والے سندھ کے علاقے میر پورخاص میں ایم کیو ایم کے مقامی کارکن شجاعت کا کہنا ہے کہ وہ تو یہ جانتے ہیں کہ ان کی جماعت جاگیردارنہ نظام کے خلاف ہے۔ ’ہماری جماعت عام آدمی کی جماعت ہے۔ ہم متوسط طبقے کی نمائندگی چاہتے ہیں لیکن پرچم میں رنگوں کا تناسب مجھے پتا نہیں‘۔

ملک کی ابھرتی ہوئی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود کہتے ہیں کہ اُن کی جماعت کا جھنڈا اسلامی فلاحی ریاست کے نظریے کو سامنے رکھ کر تشکیل دیا گیا ہے۔’جھنڈے میں سبز رنگ اسلام کے رنگ کو ظاہر کرتا ہے اور فلاح کا تعلق سوشل ازم کے ساتھ ہے اس لیے جھنڈے میں سرخ رنگ فلاحی ریاست کی نشاندہی کرتا ہے‘

Image caption جماعت جماعتِ اسلامی کا جھنڈا نیلے، سفید اور ہرے رنگوں پر مشتمل ہے

لیکن سماجی رابطوں کی ویب سائٹ کے توسط سے نواجوانوں میں مقبولیت حاصل کرنے والی جماعت کے کارکن بھی’ نیا پاکستان‘ بنانے کی بات کرنے کے علاوہ اپنے پرچم کے بارے میں کچھ کم ہی جانتے ہیں۔

پاکستان کی بیشتر سیاسی جماعتوں کے جھنڈوں میں سرخ اور سبز رنگ نمایاں ہے۔ سرخ رنگ سوشلزم کی علامت ہے اور ہر سیاسی جماعت ملک میں معاشی ہمواری کے نعرے ضرور بلند کرتی ہے لیکن اس کا عملی مظاہرہ پاکستان کی معشیت حالت دیکھ کر بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں سیاسی جماعتیں بلاشبہ نظریات پر قائم تو کی گئی لیکن فیصلہ سازی میں بنیادی نظریے کا عمل دخل کم دکھائی دتیا ہے۔

یہی سبب ہے کہ انتخابات کے دونوں میں سیاسی جماعتوں کے جھنڈوں کی اہمیت بھی منشور اور نعروں کی مانند ہوتی ہے جنہیں عوام کو فائدہ پہچانے کے بجائے انہیں متوجہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور انتخابات کے بعد اگلے الیکشن تک کے لیے سنبھال کر رکھ دیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں