عمر کوٹ کے ہندوؤں کے گِلے

صوبہ سندھ کے شہر عمر کوٹ کے وسط میں موجود اکھاڑہ صاحب مندر صدیوں سے یہاں آباد ہندوؤں کی مرکزی عبادت گاہ ہے۔ مندر کے شیوا دھاری رتن ناتھ کہتے ہیں کہ ہندوؤں کے ساتھ ناروا سلوک کی خبریں ان کے لیے صرف کہانیاں تھیں لیکن کچھ عرصہ پہلے اکھاڑہ مندر کی زمین پر قبضے کی کوششوں نے انھیں جھنجوڑ کر رکھ دیا۔

رتن ناتھ کہتے ہیں ’یہ زمین آرائیں برادری سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے کرائے پر لی تھی لیکن پھر اس پر تعمیر شروع کردی اور یہ لوگ مندر آنے جانے والوں پر روک ٹوک کرنے لگے۔ جس پر ہمارے نوجوانوں نے احتجاج کیا اور تعمیر رکوانے کی کوششیں کی۔ اس دن یہاں آدھے پونے گھنٹے تک زبردست فائرنگ چلتی رہی دو لڑکوں پر تو سیدھا فائر کیا گیا اور وہ بہت زخمی ہوئے ایک معذور ہوگیا وہ چل نہیں سکتا اور دوسرے کی آنکھ کے پاس سے گولی اسے زخمی کرتے ہوئے گزرگئی۔‘

مول چند مالی مندر پر قبضے کی کوشش کے دوران معذور ہوئے تھے اور وہ گزشتہ اٹھارہ ماہ سے بستر پر ہیں۔ مول چند کے تین بچے ہیں وہ اپنے خاندان کےواحد کفیل ہیں۔ مسلسل بیماری نے ان کی نجی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے لیکن مول چند سمجھتے ہیں کہ سندھ میں ہندوؤں کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم کی وجہ صرف مذہبی ہی نہیں بلکہ سیاسی بھی ہے۔

’عمرکوٹ میں ہندؤ آبادی اکثریت میں ہے لیکن پارٹی کی ٹکٹ ہو یا قیادت اور سیاسی عمل میں شرکت کی بات ہمیں کوئی پوچھتا بھی نہیں۔ پیپلزپارٹی سمیت مختلف پارٹیوں کے لوگ آتے ہیں ووٹ لیتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔‘

پاکستان میں دوہزار دو کے بعد مشترکہ انتخاب کا طریقہ رائج ہے۔ یعنی اب اقلیتیوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانی ملک بھر میں کسی بھی نشست پر انتخابات میں حصہ لینے کے اہل ہیں۔ لیکن حالیہ انتخابات کے دوران بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے اقلیتی ارکان کو محض سندھ میں چند جنرل نشستوں پر ٹکٹ دیے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے اعداوشمار کے مطابق ضلع عمرکوٹ میں ہندو رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 49 فیصد ہے لیکن عام انتخابات کے دوران یہاں کسی بھی سیاسی جماعت کی جانب سے اقلیتی برادری کا کوئی نمائندہ براہ راست انتخابی میدان میں اترتا دکھائی نہیں دے رہا کیونکہ کسی جماعت نے انھیں ٹکٹ ہی نہیں دیا۔

علی مردان شاہ کا تعلق پیپلزپارٹی سے ہے وہ پہلے بھی عمرکوٹ سے صوبائی اسمبلی کے رکن رہے اور انھیں ماضی میں علاقے کے ہندوؤں کی سیاسی حمایت بھی حاصل رہی ہے۔ علی مردان شاہ اس مرتبہ بھی سندھ اسمبلی کی نشست پر انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ لیکن کیا انھیں ہندوؤں سے ووٹ مل سکیں گے؟

علی مردان شاہ کہتے ہیں ’ میرا ذہن اور ضمیر مطمئن ہے کہ میں نے سب کے لیے کام کیا ہے۔ اقلیتوں کے ووٹ 75 سے 80 فیصد تک پہلے بھی پیپلزپارٹی کے تھے اور آج بھی پیپلزپارٹی کے ساتھ ہیں۔ اقلیتوں کو ہم نے بہت سی نوکریاں دی ہیں۔ اقلیتوں کے لوگ زیادہ تر غریب ہیں اور ان کے پاس سرمایہ بھی نہیں کہ یہ براہ راست انتخابات میں حصہ لے سکیں۔‘

روایتی طور پر عمر کوٹ پیپلزپارٹی کا حلقہ رہا ہے اور یہاں سے ان کے امیدوار بہت آسانی سے جیتے رہے ہیں لیکن اس مرتبہ پیپلزپارٹی کے لیے یہاں مقابلہ بہت سخت رہے گا کیونکہ اس مرتبہ یہاں تحریک انصاف کے جھنڈے بھی خوب لہرا رہے ہیں۔

اور دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریک انصاف نے عمر کوٹ کے لعل مالی کو مخصوص نشستوں کی فہرست میں پہلے نمبر پر جگہ دی ہے۔ لعل خود بھی عام نشست پر تو ٹکٹ حاصل نہیں کرسکے لیکن شہر میں تحریک انصاف کے امیدواروں کی انتخابی مہم بھرپور اندازمیں چلا رہے ہیں۔

لال مالی کہتے ہیں’پارٹی کی حمایت کے بغیر آزاد نشست پر اقلیتی امیدواروں کا چناؤ کرنا مشکل ہے۔ اگر مجھے جنرل نسشت پر ٹکٹ ملتی تو یقین ہے میں کامیاب ہوتا۔ یہاں اقلیتوں کا بڑا ووٹ بینک ہے کوئی بڑی سیاسی جماعت اقلیتی امیدوراوں پر اعتماد نہیں کرتی۔ یہاں تو ٹکٹیں خاندانوں میں بٹتی ہیں کہیں باپ بیٹا تو کہیں ماما بھانجا۔‘

عمرکوٹ سے قومی اسمبلی کی نشست پر یہاں شاہ محمود قریشی تحریک انصاف کے امیدوار ہیں۔ اس حلقے میں ان کے بہت سے پیروکار موجود ہیں لیکن عمرکوٹ میں تحریک انصاف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی بڑی وجہ لعل مالی بھی ہیں جو شہر کی اکثریتی ہندوآبادی کے لیے تحریک انصاف کا چہرہ ہیں۔

اسی بارے میں