لوئر دیر:’خواتین کے ووٹ ڈالنے پر پابندی‘

Image caption ان علاقوں میں خواتین کے ووٹ ڈالنے کی شرح ماضی میں بھی خاصی کم رہی ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر کے ایک علاقے میں عمائدین نے خواتین کے ووٹ ڈالنے پر غیر اعلانیہ پابندی عائد کر دی ہے۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق ان کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ پولنگ کے دن خواتین کو گھروں سے نکال کر پولنگ سٹیشنوں تک پہنچائیں۔

مالاکنڈ ڈویژن کے ضلع لوئر دیر سے ذرائع کے مطابق صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 97 میں مقامی عمائدین اور مشران نے خواتین کے ووٹ ڈالنے پر پابندی لگائی ہے اور اس کی وجہ سکیورٹی خدشات بتائے گئے ہیں۔

اس علاقے سے بائیں بازو کی جماعتیں پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار بھی میدان میں ہیں۔

دوسری جانب علاقوں میں حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم دیہی اجتماعی اور ترقیاتی سوشل ورکرز کونسل کے صدر اکبر خان کے مطابق دیر میں سنہ انیس سو ستر اور ستتر کے عام انتخابات میں آخری بار خواتین نے ووٹ ڈالا تھا تاہم اس کے بعد مذہب اور سخت گیر پشتون روایات کی وجہ خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

صحافی سید انور شاہ کے مطابق ان علاقوں کے لیے الیکشن کمیشن کے ایک اعلیٰ اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ الیکشن کمیشن کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے کہ خواتین کو پولنگ کے دن گھروں سے باہر نکالا کر پولنگ سٹیشنوں تک لایا جائے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملاکنڈ ڈویژن کی آبادی پچاس لاکھ کے قریب ہیں جس میں 53 فیصد آبادی خواتین کی ہے لیکن شانگلہ، دیر اپر، دیر لوئر ایسے اضلاع ہیں جہاں خواتین کے حق رائے دہی کے استعمال کو پختون یا علاقے کے روایات کے منافی سمجھا جاتا ہے۔

شانگلہ میں کچھ عرصہ قبل صوبائی حلقہ پی کے 87 میں منعقد ہونے والے ضمنی انتحابات میں بھی خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے اس علاقے میں ووٹرز کی رجسٹرڈ تعداد ایک لاکھ پینتالیس ہزار آٹھ سو چون تھی جبکہ اس میں خواتین ووٹرز کی تعداد 59 ہزار تھی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات میں بھی لوئر دیر، دیر اپر اور شانگلہ میں خواتین کی ووٹ ڈالنے پر پابندی کے باعث ان علاقوں میں خواتین کی اکثریت حق رائے دہی سے محروم رہی تھی جبکہ بونیر کے چند پولنگ سٹیشن پر کچھ خواتین نے ووٹ ڈالے تھے۔

اسی بارے میں