پولنگ کی تیاریاں بھی، تشدد بھی، ہڑتال بھی

پاکستان میں سنیچر کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم ختم ہو چکی ہے اور تین ہفتوں کی اس پرتشدد مہم میں ایک سو سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد اب پاکستانی عوام گیارہ مئی کو اپنے نئے حکمرانوں کا انتخاب کریں گے۔

پولنگ کی تیاریاں مکمل

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے تمام پریذائیڈنگ افسران کو متعلقہ پولنگ سٹیشنوں کا چارج سنبھالنےکی ہدایت کی ہے اور پہلی مرتبہ تمام پریذائیڈنگ افسران کو تین دن کے لیے مجسٹریٹ کے اختیارات بھی دیے گئے ہیں۔

سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی نے پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے حوالے سے بتایا ہے کہ فوج کی نگرانی میں ملک بھر میں بیلٹ پیپروں کی ترسیل کا کام مکمل ہو گیا ہے اور سترہ کروڑ نوے لاکھ بیلٹ پیپر کی ترسیل کی گئی ہے۔

ہفتہ کو آٹھ کروڑ اکسٹھ لاکھ نواسی ہزار آٹھ سو دو افراد قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔ ان ووٹرز میں سے تین کروڑ پچھہتر لاکھ خواتین ووٹرز ہیں جبکہ مرد ووٹرز کی تعداد چار کروڑ چھیاسی لاکھ سے زائد ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق ملک بھر میں 69729 پولنگ سٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جن میں سے پندرہ ہزار چھ سو اکیاسی پولنگ سٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا ہے۔

پاکستانی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حساس پولنگ سٹیشنز کی سکیورٹی کو مزید موثر بنایا جائے گا۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فوج نے پولنگ والے دن کے حوالے سے اپنا سکیورٹی منصوبہ تبدیل کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ترمیم شدہ سکیورٹی پلان کے مطابق حساس پولنگ سٹیشنز کا تعین مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کیا جائے گا اور ان پولنگ سٹیشنز کی سکیورٹی مزید سخت کردی جائے گی۔

بیان کے مطابق حساس پولنگ سٹیشنز کے تعین میں انٹیلیجسن ایجنسیوں اور مقامی فوجی کمانڈرز سے بھی صلاح مشورہ کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ چیف الیکشن کمشنر نے جمعرات کو بّری فوج کے سربراہ جنرل کیانی کو ایک خط میں انتہائی حساس پولنگ سٹیشنز پر فوج کی تعیناتی کے لیے کہا تھا۔

پاکستان میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی چھ نشستوں پر سنیچر کو ہونے والے انتخابات امیدواروں کے انتقال کے باعث ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ان میں قومی اسمبلی کی دو جبکہ صوبائی اسمبلی کی چار نشستیں شامل ہیں۔

جن نشستوں پر انتخابات ملتوی ہوئے ہیں ان میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 83، این اے 254، پنجاب اسمبلی کے پی پی 51 اور پی پی 271، بلوچستان اسمبلی کا حلقہ بی پی 32 اور سندھ کا حلقہ پی ایس 64 شامل ہیں۔

پرتشدد کارروائیاں جاری

انتخابی مہم کے خاتمے کے باوجود ملک میں امیدواروں کے دفاتر اور الیکشن سے متعلقہ سرگرمیوں کو نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ جاری ہے اور جمعہ کو ایسے واقعات میں تین افراد ہلاک اور پینتیس زخمی ہوئے ہیں۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے حلقہ پی ایس 95 سے آزاد امیدوار شکیل احمد نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے ہیں۔ انہیں مہاجر قومی موومنٹ( ایم کیو ایم حقیقی) کی حمایت حاصل تھی۔

شکیل احمد لانڈھی میں واقع اپنے گھر سے مہاجر قومی موومنٹ کے دفتر جا رہے تھے کہ راستے میں بسم اللہ مارکیٹ کے قریب مسلح افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے۔ فائرنگ سے دو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

اس حلقے سے جماعت اسلامی کے امیدوار تاج محمد خان اور ایم کیو ایم کے احمد اعظم دستگیر انتخابی امیدوار ہیں جبکہ گزشتہ انتخاب میں اس حلقے سے ایم کیو ایم کے انور عالم نے کامیابی حاصل کی تھی۔

انتخابی قوانین کے مطابق کسی حلقے میں امیدوار کی ہلاکت کے بعد انتخابات ملتوی کر دیے جاتے ہیں۔

کراچی کے حلقہ پی ایس اورنگی پی ایس 125 سے پیپلزپارٹی کے امیدوار علامہ نصراللہ مدنی لاپتہ ہو گئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما لطیف مغل کے مطابق علامہ نصراللہ مدنی کا ٹیلی فون بند جا رہا ہے اور ان کا گھر والوں سے بھی کوئی رابط نہیں ہے۔

جمعہ کو تشدد کے سب سے زیادہ واقعات ملک کے شورش زدہ صوبے بلوچستان میں پیش آئے جہاں الیکشن کے خلاف دوسرے دن بھی سخت گیر قوم پرست جماعتوں کی کال پر صوبے کے بلوچ اکثریتی علاقوں میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال جاری رہی۔

بلوچستان میں جمعہ کو بھی چار پولنگ مراکز کو بم حملوں میں نشانہ بنایا گیا جبکہ دو انتخابی دفاتر پر بم حملوں میں کم از کم پندرہ افراد زخمی ہو گئے۔

کوئٹہ کے علاقے بروری روڑ پر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار اور سابق وفاقی وزیر سردار عمر گورگیج کے انتخابی دفتر میں دھماکے سے پانچ افراد زخمی ہو گئے۔ دھماکہ خیز مواد انتخابی دفتر کے چھت پر نصب کیا گیا تھا اور یہ اس وقت پھٹا جب کارکن دفتر کھلنے کے بعد وہاں جمع تھے۔

دوسرا دھماکہ ضلع جعفر آباد کے ہیڈ کوارٹر ڈیرہ اللہ یار کے ٹی چوک کے قریب صوبائی اسمبلی کی نشست پی بی 26سے آزاد امیدوار نعیم خان کھوسو کے انتخابی دفتر قریب ہوا۔دھماکے کے نتیجے میں دفتر اور قریبی ہوٹل پر بیٹھے ہوئے دس افراد زخمی ہوگئے۔

صوبے کے دو اضلاع ڈیرہ بگٹی اور پنجگور میں مزید چار پولنگ سٹیشنوں کو دھماکوں سے نقصان پہنچا۔

ضلع ڈیرہ بگٹی کی تحصیل سوئی میں لوپ میرانی ،سوری دربار اور کلی شیر محمد میں 3 مجوزہ پولنگ سٹیشنز کی عمارتوں کو نامعلوم افراد نے دھماکے کر کے نقصان پہنچایا۔ ان تینوں دھماکوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ان کارروائیوں کی ذمہ داری کالعدم بلوچ رپبلکن آرمی نے قبول کی ہے۔

دریں اثناء پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ کے خواجہ جان چوک میں موٹر سائیکل پر نصب بم کے دھماکے میں دو افراد ہلاک اور بیس زخمی ہو گئے۔

اس چوک میں عام انتخابات میں حصہ لینے والے چھ امیدواروں کے انتخابی دفاتر ہیں جن میں سے پانچ آزاد جبکہ ایک جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ کے امیدوار ہیں۔

صوبہ پنجاب کے ضلع میانوالی میں پاکستان تحریکِ انصاف کی امیدوار عائلہ ملک کے قافلے پر فائرنگ ہوئی ہے جس میں دو افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

جمعرات کو پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں انتخابی سرگرمیوں کے دوران اب تک تشدد کے 77 واقعات پیش آئے جن میں کم از کم 110 افراد ہلاک اور 370 سے زائد زخمی ہوئے۔

ادارے کے مطابق اپریل میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے 19، 19 واقعات، سندھ میں 11، فاٹا میں پانچ اور پنجاب میں دو واقعات رونما ہوئے جن میں 81 افراد کی جان گئی اور 348 زخمی ہوئے۔

ادارے نے خیبر پختونخوا، فاٹا اور کراچی میں ان واقعات کے لیے تحریکِ طالبان پاکستان جب کہ بلوچستان میں بلوچ مزاحمت کاروں کو ذمے دار ٹھہرایا ہے۔

انتخابی ٹیبل

اسی بارے میں