الیکشن 2013 کیوں مختلف ہیں؟

Image caption پنجاب کے بہت سے حلقوں میں اب پی پی پی، پی ایم ایل ن اور پی ٹی آئی کے مابین مقابلہ ہوگا

پاکستان میں گیارہ مئی کو ہونے والے انتخابات ماضی میں ہونے والے انتخابات سے مختلف ہوں گے۔ یہ صرف اس وجہ سے نہیں کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ ایک منتخب حکومت اپنی مدت پوری کرکے ایک جمہوری طریقے سے نئے منتخب حکومت کو اقتدار سونپے گی۔

کئی دہائیوں تک پاکستان میں مارشل لاء کا راج رہا جس کے بیچ کے وقفوں میں دو سیاسی جماعتیں بھٹو خاندان کی پاکستان پیپلز پارٹی اور شریف خاندان کی پاکستان مسلم لیگ نواز حکومت کرتی رہی ہے۔

پاکستان کے لاکھوں لوگ بارہا شکایت کرتے رہے ہیں کہ پی پی پی اور پاکستان مسلم لیگ نواز صرف دو خاندانوں کی جاگیر کی حد تک بات نہیں بلکہ انہوں نے ملک کے امراء کے خاص طبقے کو دولت جمع کرنے کے مواقع فراہم کیے ہیں۔

لیکن گیارہ مئی کو ہونے والے انتخابات میں غیر متوقع عوامل شامل ہیں۔

عمران خان

Image caption تبدیلی لانے والے امیدوار کی حیثییت سے عمران خان کو مختلف گروپوں کی زبردست حمایت حاصل ہے

کرکٹ کے سابق کھلاڑی اور سیاستدان عمران خان جسے پہلے ناکام قرار دیا گیا تھا پرانی سیاسی پارٹیوں کے لیے ایک بڑے چیلنچ کے طور پر ابھرے ہیں۔ لاہور میں ایک جلسے کے دوران فورک لفٹر سے گر کر زخمی ہونے سے پہلے عمران خان دن میں تقریباً سات بڑے سیاسی جلسے کرتے تھے۔

نجی محفلوں میں سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ انہیں اندازہ ہے کہ عمران خان کی سیاسی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف انتخابات میں زیادہ سیٹیں جیتے گی۔

تبدیلی لانے والے امیدوار کی حیثییت سے عمران خان کو مختلف گروپوں کی زبردست حمایت حاصل ہے۔ نوجوان طبقہ ان کی زیادہ حمایت کرتا ہے جن میں اکثر نے اپنے والدین کی طرز پر ووٹ نہ دینے کا عہد کیا ہے۔

عمران خان آزاد خیال طبقے کو بھی اپنی جانب کھینچتا ہے کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کی آزاد خیالی اور اعلیٰ طرزِ زندگی گزارنے کے دن ابھی گئے نہیں۔ لیکن عمران خان کا درمیانے طبقے کے لوگوں کی توجہ اپنی طرف مرکوز کرنا بھی بہت اہم ہے کیونکہ یہ وہ طبقہ ہے جنہوں نے حالیہ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کو ترجیح دی ہے۔

یہ طبقہ ملک کی اپر کلاس سے ناخوش ہے جسے عمران خان نے بھی اپنی تقاریر میں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

نئے ووٹر

Image caption اب ملک میں تقریباً 86 ملین تصدیق شدہ ووٹرز ہیں

الیکشن کمیش نے نئی ووٹر لسٹ تیار کی ہے جو انتخابات کے غیر متوقع نتائج کا ایک دوسرا عنصر ہے۔

اب ملک میں تقریباً 86 ملین تصدیق شدہ ووٹرز ہیں۔ الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹوں سے 37 ملین بوگس ووٹ نکال دیے ہیں اور اس میں 36 ملین نئے ووٹرز کا اضافہ کیا ہے۔

لیکن دوسر طرف بے شک بعض چیزیں پہلے جیسی رہیں گی۔

اندرونی سندھ، بلوچستان، جنوبی پنجاب اور ملک کے بعض شمال مغربی حصوں میں روایتی جاگیر دارانہ نظام اپنی جگہ پر قائم ہے اور وہاں پر توقع ہے کہ ووٹر روایتی طریقے کے مطابق اپنے ووٹ کا استعمال کریں گے۔

اس کا مطلب ہے کہ ملک کے سب سے امیر صوبے پنجاب میں فیصلہ کن انتخابات ہوں گے۔ پنجاب کے بہت سے حلقوں میں اب پی پی پی، پی ایم ایل ن اور پی ٹی آئی کے مابین مقابلہ ہوگا۔

ادھر توقع کی جاتی ہے کہ گیارہ مئی کو ہونے والے انتخابات میں کوئی بھی سیاسی جماعت واضح اکثریت سے نہیں جیت پائے گی اور جو پارٹی زیادہ سیٹییں لےگی وہ دوسرے سیاسی جماعتوں سے مل کر اتحادی حکومت بنائے گی۔

طالبان کی طرف سے خطرہ

Image caption انتخابات سے جڑے ہوئے پْرتشدد واقعات میں سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں

اس انتخابات میں طالبان کی طرف سے خطرہ بہت زیادہ ہے جبکہ گذشتہ انتخابات میں انہوں نے جنگ بندی کی تھی۔

طالبان شدت پسند اس وقت زیادہ پُراعتماد ہیں اور کھلے عام جمہوری نظام کو ختم کرنے کا کہہ رہے ہیں اور ان سیاسی جماعتوں کو حملوں کا نشانہ بناتے ہیں جو ان پر تنقید کرتے ہیں۔

ابھی تک انتخابات سے جڑے ہوئے پُرتشدد واقعات میں سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

عدلیہ

ماضی میں پاکستانی عدلیہ حکومتِ وقت کی تابع ہونے کی طرف مائل ہوتی تھی۔

اگرچہ اب بھی ججوں کو شدت پسندوں کا خوف ہے لیکن وہ سیاستدانوں کا سامنا کرتے ہیں اور ایسے اشارے ملتے ہیں کہ وہ فوج کے خلاف بھی کھڑے ہونے کا عظم رکھتے ہیں۔

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی ملک واپسی پر فوجی سربراہان کو شدید مایوسی ہوئی ہے۔ وہ پریشان ہیں کہ پرویز مشرف کے مقدمے سے فوجی افسران پر سول عدالتوں مقدمات چلانے کی راہ بن جائے گی۔

اگر جج اس مقدمے میں اپنی پوزیشن پر قائم رہے تو وہ آئندہ ملک میں فوج کا اقتدار پر قبضے کرنے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ کھڑی کر دیں گے۔

میڈیا

Image caption میڈیا بھی ملک میں ایک بڑی قوت بن کر ابھری ہے

صرف جج ہی نہیں بلکہ منٹ منٹ کی خبر دینے والی میڈیا بھی ملک میں ایک بڑی قوت بن کر ابھری ہے۔

پاکستانی میڈیا ملک کے کونے کونے سے چھوٹے سے چھوٹے واقعے کو کور کرنے کے لیے صحافی اور کیمرے بھیجنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایسے میں یہ کسی کو انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہونے کو بڑا مشکل بنا دے گی۔

پاکستانی اب کسی بھی چھوٹے بڑے واقعے کو اپنے موبائل فون پر بھی ریکارڈ کرتے ہیں اور اسے سامنے لاتے ہیں۔

پاکستان کو کئی قسم کی مشکلات کا سامنا ہے۔ 2014 میں نیٹو کی افواج افغانستان سے نکل جائے گی جس کے بعد پاکستان کو اربوں ڈالر ملنی والی امداد بند ہو جائے گی۔

ملک میں بجلی کا بحران اتنا شدید ہے کہ کارخانے صحیح طریقے سے کام نہیں پاتے۔

جہادی عناصر جمہوریت کو نشانے بنائے ہوئے ، فرقہ وارانہ حملے کر رہے ہیں اور اقلیتیوں کو ٹارگٹ کرتے ہیں۔ شاید اقتصادی مسائل زیادہ ہونے کی وجہ سے بعض پاکستانی سمجھتے ہیں کہ تشدد کا مسئلہ افغانستان میں امریکی مداخلت کا ردِ عمل ہے۔

لیکن پاکستان میں بغص لوگ سمجھتے ہیں کہ شدت پسندی کو ختم کرنے کے لیے بیرونی امداد کی ضرورت ہے۔ ایک سرکاری اہلکار نے مجھے بتایا کہ’کیا حقیقت میں دنیا اس بات کی اجازت دے سکتی ہے کہ ایٹمی طاقت ملک کو شدت پسندوں کے ہاتھوں میں چلا جائے؟‘

اسی بارے میں