بلوچستان: الیکشن کے دن پرتشدد واقعات میں 8 ہلاک

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں پولنگ کے دن بھی پرتشدد کارروائیاں جاری ہیں اور مختلف علاقوں میں راکٹ اور دستی بم کے حملوں اور مخالف گروپوں میں لڑائیوں میں 8 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

ہلاکتوں کا سب سے بڑا واقعہ ضلع نصیر آباد میں پیش آیا جہاں صوبائی حلقے پی بی 28 سے آزاد امیدوار خادم حسین کے حامیوں پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے چار افراد ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔

بلوچستان کے سیکرٹری داخلہ اکبر درانی نے بی بی سی کو بتایا کہ امیدوار کے حامی ووٹ ڈالنے کے بعد واپس جا رہے تھے کہ ان پر چھتر کے علاقے میں مسلح افراد نے حملہ کر دیا۔

پاکستان افغان سرحد کے قریب چمن میں قومی اسمبلی کے حلقہ 262 میں بھی دو گرہوں کے مابین تصادم ہوا ہے۔ ایک مقامی صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ لڑائی میں 3 افراد ہلاک اور 2 زخمی ہوگئے۔

اس کے علاوہ خاران شہر کے ہندو محلے میں قائم پولنگ سٹیشن پر حملے میں ایک شخص دستی بم کا نشانہ بنا۔ اس سے قبل کوئٹہ کے علاقے کلی شابو میں ایک اور پولنگ سٹیشن پر بھی دستی بم پھینکا گیا جس میں چار خواتین زخمی ہوئی ہیں۔

کوئٹہ میں ہی سریاب روڈ پر ہوٹل کے باہر دھماکہ ہوا ہے تاہم اس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق بلوچستان کے ضلع بارکھان کے علاقے وٹا کلی میں ایک ہائی سکول میں بنائے گئے پولنگ سٹیشن پر تین راکٹ داغے گئے۔ اس حملے میں پولنگ سٹیشن تباہ ہو گیا ہے۔

نوشکی اور مچھ میں بھی بالترتیب پانچ اور تین راکٹ حملے ہوئے ہیں تاہم ان حملوں میں کوئی بھی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ بلوچستان میں شدت پسندوں نے اب تک تیس کے لگ بھگ پولنگ سٹیشن کو نقصان پہنچایا ہے۔

کوئٹہ سے 30 کلو میٹر شمال میں کچلاک کے علاقے میں عوامی نیشنل پارٹی کے انتخابی دفتر پر دستی بم سے حملہ ہوا جس میں چھ افراد زخمی ہو گئے۔

انتخابات کے روز بلوچستان میں بلوچ آبادی والے علاقوں میں تیسرے روز بھی ہڑتال جاری ہے۔ گوادر پسنی، نوشکی، خاران، پنجگور اور نوشکی سمیت بلوچ اکثریت والے کئی علاقوں میں گہما گہمی نہ ہونے کے برابر رہی۔

تین روزہ ہڑتال کا اعلان بلوچ قوم پرست تنظیموں کے اتحاد ’ بلوچ نیشنل فرنٹ‘ نے کیا تھا۔

مقامی صحافی محمد کاظم کا کہنا ہے کہ گوادر، پسنی، وارشک سمیت دیگر علاقوں کے مختلف پولنگ سٹیشن میں عملہ تو موجود تھا لیکن ووٹرز نہیں۔ شہر میں ہڑتال کے باعث سڑکیں سُنسان رہیں اور ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھا۔

وراشک سے صوبائی اسمبلی کے حلقے 47 سے آزاد اُمیدوار مجیت الرحمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اُن کے حلقے میں 50 پولنگ سٹیشن پر پولنگ عملہ نہیں پہنچ سکا ہے۔ ’ان پولنگ سٹیشنوں پر عملے کے بجائے بلوچستان کانسٹیبلری اور لیویز کے اہلکار کام کر رہے تھے۔‘