کراچی اور پشاور میں دھماکے، 10 ہلاک

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان میں انتخابات کے روز بھی پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اور کراچی اور پشاور میں دو دھماکوں میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔

کراچی میں پولیس کے مطابق پولنگ کے آغاز کے چند گھنٹے بعد قائد آباد کے علاقے داؤد چورنگی میں اے این پی کے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس 28 کے امیدوار امان اللہ محسود کے دفتر کے باہردھماکا ہوا۔

دھماکے کے وقت امان اللہ محسود بھی جائے وقوع پر موجود تھے اور وہ بھی زخمیوں میں شامل ہیں۔

جناح ہسپتال کے شعبۂ ہنگامی امداد کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ہسپتال میں 10 افراد کی لاشیں لائی گئی ہیں جن میں ایک چند ماہ کا بچہ بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ دھماکے میں 36 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

کراچی پولیس کے افسرمظہر نواز شیخ کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش سے لگتا ہے کہ بم ایک رکشے میں نصب کیا گیا تھا جو کہ دفتر کے قریب کھڑا تھا۔

دھماکے والی جگہ ایک رکشہ کا ڈھانچہ موجود ہے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ بم اسی میں نصب کیا گیا تھا۔

دھماکے کے باعث عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار امان اللہ محسود کی گاڑی اور آس پاس کی دکانیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ واقعے کے بعد پولیس اہلکار جیسے ہی وہاں پہنچے تو انہیں مشتعل افراد کا سامنا کرنا پڑا، اس موقعے پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔

اس دھماکے میں مظفر خان کے بھانجا ہلاک ہوئے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وہ ووٹ دیکر آئے تھے اور گھر میں موجود تھے کہ دھماکہ ہوا، باہر جیسے ہی نکلے تو زخمی اور لاشیں بکھری ہوئی تھیں، جنہیں لیکر ہم ہسپتال کی طرف دوڑ پڑے، وہاں کوئی پولیس یا ایمبولینس نہیں تھی۔

عوامی نینشل پارٹی کے کارکن عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ امان اللہ محسود اور علاقے کے صدر کارکنوں کے ساتھ موجود تھے، وہ جیسے ہی نکلنے والے تھے گاڑی میں بیٹھے کہ بم دھماکہ ہوا، جس میں بچے میں زخمی ہوگئے جو دکان پر کچھ لینے آئے تھے۔

پشاور دھماکے

خیبر پختونخوا کے شہر پشاور کے مضافات میں پولنگ سٹیشن کے باہر دھماکے اور بڈھ بیر میں پولیس کی موبائل پر بم حملے میں پانچ پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد زخمی ہوئے ہیں۔

پہلا دھماکا پشاور کے شمال مشرق میں چارسدہ روڈ پر گورنمنٹ ہائی سکول لڑمہ کے باہر اس وقت ہوا ہے جب لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ سٹیشن آ رہے تھے۔

دھماکے کے وقت خزانے پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او اپنی نفری کے ہمراہ موجود تھے جنہیں معمولی زخم آئے۔

دھماکے کے بعد پولنگ روک دی گئی تھی۔ پولیس کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ یہ دھماکہ خوف و ہراس پھیلانے کے لیے کیا گیا ہے۔

خزانہ کا یہ علاقہ پشاور کے مضافات میں چارسدہ روڈ پر واقع ہے۔ اسی علاقے میں چند روز پہلے بھی دھماکہ ہوا تھا جس میں پانچ افراد زخمی ہو گئے تھے۔

دوسرا دھماکا سنیچر کی شام بڈھ بیر میں ہوا جس میں ایک پولیس وین نشانہ بنی۔ اس حملے میں چار اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے دو کی حالت نازک ہے۔

پشاور اور خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں دوپہر بارہ بجے تک پولنگ معمول سے جاری تھی بعض مقامات پر مخالف جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان تلخ کلامی یا جھڑپیں ہوئی ہیں لیکن ان میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے ۔

پشاور کے اکثر پولنگ سٹیشنز پر فوج اور پولیس کے اہلکار تعینات ہیں۔ حیات آباد میں ایک پرائمری سکول میں قائم پولنگ سٹیشن کے باہر فوج کی تین گاڑیاں اور کوئی ایک درجن سے زیادہ فوجی اہلکار تعینات تھے۔

ادھر پشاور کے جمرود روڈ پر تعلیمی بورڈ میں قائم پولنگ سٹینش کے باہر ایک دو پولیس اہلکاروں کے علاوہ کوئی سکیورٹی اہلکار نظر نہیں آئے ہیں۔ یونیورسٹی روڈ پر قائم کسٹم ہاؤس میں قائم پولنگ سٹیشن پر بھی کوئی زیادہ سیکیورٹی نظر نہیں آئی ہے۔

دیر میں طالبان کے پمفلٹ

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع اپر دیر میں گزشتہ رات طالبان کی طرف سے دھمکی آمیز پمفلٹ تقسیم کیےگئے ہیں۔

پمفلٹ میں مقامی لوگوں کے مطابق خواتین کوووٹ نہ ڈالنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جس کے بعد علاقے کے لوگوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

مقامی رہنما نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ووٹ ڈالنے کو مذہب اور پختوں روایات کے منافی سمھجتے ہیں۔

اس سے پہلے بھی لوئر دیر میں مقامی عمائدین اور مشران نے عورتوں کو ووٹ ڈالنے پر پابندی عائد کی تھی اور انھوں نے اس پابندی کو وجہ سکیورٹی خدشات کو قرار دیا ہے۔

اس علاقے میں کئی سال سے خواتین کے ووٹ ڈالنے پر پابندی عائد ہے لیکن اس بار خیال کیا جارہا تھا کہ بعض علاقوں میں خواتین انتخابات کے دن اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں گی۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے دھمکی آمیز مواد کی تقسیم علاقے کی خواتین کی ووٹنگ میں شرکت شکوک و شبہات کا شکار ہوگئی ہے۔