جماعت اسلامی، سنی تحریک اور جمہوری وطن پارٹی کا بائیکاٹ

پاکستان کے شہر کراچی میں جماعتِ اسلامی، مہاجر قومی موومنٹ اور سنی تحریک نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے وہ کراچی میں الیکشن کے نتائج تسلیم نہیں کرے گی۔

دوسری جانب بلوچستان میں جمہوری وطن پارٹی نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دھاندلی ہو رہی ہے اور ان کے ووٹرز کو ووٹ ڈالنے نہیں دیا جا رہا اور بندوق کی نوک پر صاف اور شفاف انتخابات نہیں ہو سکتے۔

کراچی میں انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والی سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ شہر کے پولنگ سٹیشنز پر ایم کیو ایم کے کارکنوں دھاندلی کر رہے ہیں۔

ملک کی دائیں بازوں کی مذہبی جماعت جماعتِ اسلامی نے کراچی اور حیدرآباد سے قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں سے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔جماعتِ اسلامی کے امیر منور حسن نے جماعت کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم ڈھکوسلے کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ کراچی کے تمام حلقوں سے اپنے اُمیدوار دستبردار کرتے ہیں۔

انھوں نے متحدہ قومی موومنٹ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے ہر حلقے میں دھاندلی ہو رہی ہے اور وہ ایسے انتخابات کو نہیں مانتے ہیں۔

جماعتِ اسلامی کراچی کے امیر محمد حسین محنتی کا کہنا ہے کہ ہم جمہوری لوگ ہیں اور ملک میں جمہوریت چلتی رہنی چاہیے لیکن ہم ایسے انتخابات کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا وہ آج شام صوبائی الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر احتجاجی دھرنا دیں گے۔

دوسری جانب قومی اسمبلی کے حلقہ 250 میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار عارف علوی نے پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم پر دھاندلی کا الزام لگایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے کارکنوں نے ان کے امیدواروں کا مارا پیٹا ہے۔ تحریک انصاف کے امیدوار نے کہا ہمارے مطالبے کے باوجود پولنگ سٹیشن پر فوج تعینعات نہیں کی گیی۔

تاہم ایم کیو ایم نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

جماعتِ اسلامی نے انتخابات میں دھاندلی کے احتجاج پر تیرہ مئی کو پرامن ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔جماعت اسلامی کے اُمیدوار ملک بھر سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔جبکہ جماعت اسلامی نے 2008 کے عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔

سنی تحریک اور مہاجر قومی موومنٹ نے بھی کراچی میں انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے۔ گزشتہ روز لانڈھی میں قومی اسمبلی کے حلقہ 241 سے آزاد امیدوار شکیل احمد کو فائرنگ کر کے ہلاک کردی گیا تھا۔ انھیں مہاجر قومی موومنٹ کی حمایت حاصل تھی۔