پولنگ پُرامن اور ٹرن آؤٹ زیادہ رہا:الیکشن کمیشن

پاکستان الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ ملک بھر میں پولنگ پُرامن رہی اور زیادہ ٹرن آؤٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آٹھ بجے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا آغاز ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اندرون سندھ کے پولنگ سٹیشنز سے کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں تاہم صبح ہی کراچی کے دو حلقوں کے متعلق خبر ملی تھی کہ وہاں پولنگ کا عملہ اور سامان نہیں پہنچ سکا تھا اوراس کی وجہ کام کی زیادتی کے باعث ریٹرننگ افسران کی جانب سے پریزائیڈنگ افسران کو سامان بروقت مہیا نہ کیا جانا بتایا گیا۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد نے بتایا کہ دوپہر کے وقت کراچی کے چند حلقوں میں سیاسی جماعتوں کی طرف سے شکایات موصول ہوئیں کہ متعلقہ پولنگ سٹیشنز سے ان کے ورکرز کو نکالا جا رہا ہے اور وہاں غیر قانونی حرکتیں ہو رہی ہیں۔ تاہم وہاں تعینات فوجی انتظامیہ نے اس قسم کی کسی خبر کی تصدیق نہیں کی کیونکہ یہ معلوم نہیں کہ یہ دھمکیاں کون دے رہا ہے۔

اشتیاق احمد نے کہا کہ ریاست کے تمام اداروں کی مدد سے ملک میں پرامن انتخابات منعقد ہوئے۔ پنجاب جو تقریباً ساٹھ فیصد کے لگ بھگ ہے میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا اور بہت زیادہ ٹرن آؤٹ ریکارڈ کیا گیا۔ ان کے بقول صرف ناروال میں دو بیلٹ باکس اٹھا کر لے جانے کا واقعہ پیش آیا اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اگر اس حلقے میں نتائج میں کم فرق ہوا تو نتائج روک لیے جائیں گے۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ اور فاٹا میں پولنگ کا عمل پر امن طریقے سے جاری رہا۔ ایبٹ آباد اور ہزارہ کے دیگراضلاع میں ٹرن آؤٹ پچاس سے ساٹھ فیصد رہا جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی ٹرن آؤٹ اچھا رہا ہو گا۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ صوبہ بلوچستان میں صرف قلعہ عبداللہ میں دو فریقین کے درمیان تنازعے اور فائرنگ کی خبر موصول ہوئی لیکن مشکلات کے باوجود دیگر کسی علاقے سے کسی واقعے کی خبر نہیں ملی۔

انھوں نے بتایا کہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ کوئٹہ میں بھی بڑی تعداد میں ووٹرز باہر نکلے ہیں تاہم کشیدگی کے زیر اثر علاقوں میں ٹرن آؤٹ کا اندازہ نتائج سامنے آنے کے بعد ہو گا۔ ایک سوال کے جواب میں اشتیاق احمد نے کہا کہ صوبائی الیکشن کمیشن نے کسی امیدوار کا الیکشن سے بائیکاٹ کرنے کی تصدیق نہیں کی۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ ٹی وی چینلز کی جانب سے پولنگ کا وقت ختم ہونے سے قبل ہی انتخابی نتائج کے ٹکرز چلانے شروع کر دیے گئے تھے جس کی وجہ سے ان سے جوابدہی کی جائے گی۔

اسی بارے میں