’آخر کچھ تو قربانی دینی ہوگی‘

Image caption آخر نئے پاکستان کے لئے قوم کو کچھ تو قربانی دینی پڑے گی

سب کچھ ہی ہورہا ہے۔ تشدد، جرات، ہیجان، بائیکاٹ، دھاندلی، ولولہ، امید اور ابہام۔ نئے انتخابات مبارک ہوں۔ اور نئے پاکستان سے ذرا دیر پہلے اور پرانے پاکستان سے ذرا دیر بعد کا منجھلا دن بھی مبارک ہو۔

اِس دن توقع کے عین مطابق، صبح کچھ بم پھٹے ہیں اور معصوم لوگوں نے اپنی رائے دینے کے حق کے استعمال میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ شاید شدت پسندوں کے من کو اس سے سکون نہ ملے اور وہ اس منجھلے دن میں کچھ مزید دھماکے کریں اور بے قصوروں کا خون بہائیں۔ لیکن پاکستان کے بیشتر علاقوں میں لوگوں نے انتہائی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے خوف کو مسترد کردیا ہے۔

کراچی میں جو جو پارٹی جہاں جہاں سے نہیں جیت رہی وہاں وہاں دھاندلی کا الزام لگا رہی ہے۔ جماعت اسلامی اور مہاجر قومی موومنٹ نے دھاندلی اور اپنے کارکنوں اور پولنگ ایجنٹوں کے اغوا کے الزامات لگا کر کراچی میں الیکشن عمل کا بائیکاٹ کردیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے بھی عملے کے اغوا کی شکایات موصول ہونے کی تصدیق کی ہے لیکن اس پر کیا ایکشن ہوگا؟ یہ کوئی نہیں جانتا۔

اندرون سندھ میں پی پی پی، فنکشنل، مسلم لیگ نون اور اکا دُکا قوم پرست ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ سندھ کے ریگستانی علاقوں میں ہندو ووٹروں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ مسلمان جمہوریت سے دور رہیں ورنہ ان کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ سیاسی جماعتیں اُف تک نہیں کر رہیں۔

خیبر پختونخواہ میں اے این پی نے اپنے خون سے جمہوریت کی آبیاری کی ہے اور اپنے تقریباً سات سو کارکنان اور رہنماؤں کی لاشیں اٹھائی ہیں۔ شدت پسندی کے خلاف لڑائی میں کھڑے رہنے کی سزا کے طور پر صوبے کے عوام ان کو لال جھنڈی دکھاتے ہوئے نئے پاکستان کی تعمیر کر رہے ہیں۔

اور بلوچستان؟ جی آپ سب تو شاید انتخابی چمک دمک اور ٹی وی سکرینوں پر جاری تفریحی پروگراموں میں ایسے کھو گئے کہ یہ بھی بھول گئے کہ بلوچستان بھی پاکستان کا حصہ ہے۔ یہ بہت پہلے نہیں تھا جب نہتے ہزارہ شیعہ شہریوں پر کئی قیامتیں گزر گئیں۔ یاد ہے کتنے بے گناہوں کا خون بہایا گیا اور لاشیں سڑکوں پر سڑتی رہیں؟

اور بقیہ بلوچستان کہ جس کے بارے میں بات کرنا قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے اور جہاں کے ویرانوں اور بازاروں سے نوجوان بلوچوں کی لاشیں ملتی رہیں ہیں؟ جہاں کئی سیکیورٹی اہلکار اور متعدد آباد کار بھی قتل ہوچکے۔

بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں تاریخ کا شاید سب سے کم ٹرن آؤٹ رہنے کا امکان ہے۔ امیدواروں اور ووٹروں کو طالبان شدت پسندوں، فرقہ پرست قاتلوں، بلوچ عسکریت پسندوں اور سرکاری اہلکاروں، سب سے ہی خطرہ ہے۔ ووٹر جان بھی جوکھم میں ڈالے مگر اس کو اب تک یقین نہیں کہ نیا پاکستان اس کو دے گا کیا؟ اب تک نعروں کے علاوہ اس نے اپنے دکھوں کے مداوے سے متعلق تو کچھ سنا نہیں۔

بس پنجاب ہی جیوے جیوے۔۔ اصلی تے وڈا پاکستان۔ بڑے سکون سے میاں صاحبان اور خان صاحب نے الیکشن مہم چلائی۔ شاندار جلسے کئے، بھنگڑے بھی پڑے لڈیاں بھی ڈالی گئیں۔ فیصلہ بھی بس یہیں ہوگا۔ خان صاحب کے گرنے پر سب نے بڑے پن کا مظاہرہ بھی کیا۔

اب کیا ہوا جو یوسف رضا گیلانی کا بیٹا اغوا ہوا؟ سینکڑوں شیعاؤں کو قتل کیا گیا، بلوچوں کی مسخ شدہ لاشیں ملیں، سندھ میں ہندوؤں کو شٹ اپ کال ملی، عیسائی اپنے گھروں میں جان کی پناہ مانگتے رہے، احمدیوں کے ووٹ کا حق معطل رہا؟ آخر نئے پاکستان کے لئے قوم کو کچھ تو قربانی دینی پڑے گی۔

اسی بارے میں