نواز شریف کی ترجیحات

پاکستان میں کئی لوگوں کے لیے اختتامِ ہفتہ مصروفیت اور خوشی لیکر آیا۔

پاکستان میں سنیچر کی صبح کروڑوں افراد نے آئندہ پانچ سال کے لیے اپنے پسند کے امیدواروں کو منتخب کرنے کے لیے ووٹ ڈالا۔

ان افراد نے سنیچر اور اتوار کی رات ملک بھر سے آنے والے انتخابی نتائج جاننے کے لیے ٹیلی ویژن کے سامنے گزاری۔

ووٹنگ کے دن پاکستان کی اپر اور اپر مڈل کلاس نے جو اس سے قبل انتخابی عمل سے عموماً دور ہی رہتی تھی، پولنگ سٹیشنوں کا رخ کیا اور گھنٹوں طویل قطاروں میں کھڑے ہو کر ووٹ ڈالا۔

متعدد افراد کا موقف تھا کہ وہ سابق کرکٹر اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو ووٹ ڈالنے کے لیے آئے ہیں جنھوں نے ’نیا پاکستان‘ بنانے کا وعدہ کیا ہے۔

پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم نے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب ٹیلی ویژن پر نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گیارہ مئی کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح تقریباً ساٹھ فیصد رہی جو سنہ 1970 کے بعد سب سے بڑی شرح ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف کے لیے بھی 11 مئی کی رات بڑی حیرانی لیکر آئی۔

مبصرین ان انتخابات میں مسلم لیگ نواز کی زیادہ نشستوں پر کامیابی کی امید کر رہے تھے تاہم غیر حتمی اور غیر سرکاری انتخابی نتائج کے مطابق مسلم لیگ نواز پاکستان کی قومی اور پنجاب اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی اور اس بات کی کسی نے بھی کوئی پیشنگوئی نہیں کی تھی۔

ان نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ نواز ابھی سادہ اکثریت سے دور ہے تاہم یہ فرق بہت کم ہے اور یہ فرق انتخابات میں کامیاب ہونے والے آزاد امیدواروں کو ساتھ ملا کے پورا کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے انتخابی قانون کے مطابق کوئی بھی آزاد امیدوار انتخابات میں کامیابی کے بعد اسمبلی کا سیشن شروع ہونے سے پہلے کسی بھی سیاسی جماعت میں شامل ہو سکتا ہے۔

اس بات میں اب کوئی شک نہیں کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف کو جو تیسری بار وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے جا رہے ہیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ انھیں کن مشکلات کا سامنا کرنا ہو گا۔

نواز شریف کی پہلی ترجیح ملک کی ابتر معیشت اور امن و امان کی خراب صورتِ حال کو فوری طور پر ٹھیک کرنا ہو گی۔

پاکستان نے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے قرضے لے رکھے ہیں اور اب ان قرضوں کو واپس کرنے کے لیے نواز شریف کو مالی مدد کی ضرورت ہو گی لیکن یہ مدد آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے ہی آ سکتی ہے اور ان اداروں پر امریکہ کا خاصا اثرو رسوخ ہے۔

پاکستان کے لیے عالمی اداروں سے فنڈز حاصل کرنا مشکل ہوگا اگر وہ اپنی سرزمین پر شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کرنے میں ٹال مٹول سے کام لیتا رہے گا۔

میاں نواز شریف جب حزبِ اختلاف میں تھے تو اس وقت وہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی بجائے ان سے بات چیت کے حق میں تھے اور چاہتے تھے کہ ملک کے قبائلی علاقوں جہاں شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں وہاں امریکی جاسوس طیاروں کے حملے بند کیے جائیں۔

اگر نواز شریف چاہتے ہیں کہ ان کی معاشی پالسیاں کامیاب ہوں تو اس کے لیے انہیں اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت پیش آئے گی۔

اس کے لیے انھیں نہ صرف ملک میں تقسیم سیاسی جماعتوں کی وسیع اتفاق رائے کی ضرورت پڑے گی، لیکن اس کے ساتھ انھیں ملک کی طاقتور فوج کا سامنا کرنا ہو گا، جو ہو سکتا ہے ابھی شدت پسندوں کو ختم کرنے میں دلچپسی نہ رکھتی ہو۔

نواز شریف کو ماضی میں فوج کی وجہ سے مسائل کا سامنا رہا ہے اور سنہ 1999 میں اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل مشرف نے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا تاہم اس بار لوگوں کے خیال میں وہ کامیاب رہیں گے اگر وہ اپنی حکمتِ عملی کے لیے خاصی حد تک سیاسی حمایت حاصل کر لیں۔

دوسری جانب عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کی ’سونامی‘ اگرچہ انتخابات جیتنے میں ناکام رہی تاہم وہ پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی۔

تحریک انصاف صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ تعداد سے کافی دور ہے اور اسے صوبے میں حکومت تشکیل دینے کے لیے ایک سے زیادہ گروپ کی حمایت درکار ہو گی۔

عمران خان کی جماعت نے انتخابات میں اچھی کارکردگی دکھائی ہے اور اب تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق مسلم لیگ نواز اور آزاد امیدواروں کے بعد وہ تیسرے نمبر پر ہے۔

پاکستان کے سابق حکمران اتحاد پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم کے لیے بھی یہ انتخابی نتائج حیران کن ہیں۔

ان غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی صوبہ پنجاب سے تقریباً ختم ہو گئی ہے تاہم صوبہ سندھ میں یہ سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔

گذشتہ حکومت میں پیپلز پارٹی کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کو قومی اسمبلی میں کچھ نشستیں ملی ہیں تاہم عوامی نیشنل پارٹی نے قومی و خیبر پختونخوا کی اسمبلبیوں کے لیے بہت ہی کم سیٹیں جیتی ہیں۔

اسی بارے میں