اسفندیار ولی، شاہ محمود اور بلور کی شکست

دو ہزار تیرہ کے انتخابات میں کئی اہم سیاسی شخصیات کو توقعات کے برعکس ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سابق وزیراعظم سمیت کابینہ کے اہم وزراء بھی اپنی نشستوں پر کامیابی حاصل نہ کر سکے ہیں جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر بھی ہار گئے۔

سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف قومی اسمبلی کے حلقہ 51 سے انتخابات میں حصہ لے رہے تھے لیکن انہیں مسلم لیگ نواز کے امیدوار راجہ محمد اخلاص کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہونا پڑا۔

سابقہ حکومت میں اتحادی جماعت عوامی نشینل پارٹی بھی انتخابی دنگل بری طرح ہاری ہے۔ قومی اسمبلی کے حلقہ 7 چارسدہ سے جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ کے امیدوار مولانا محمد گوہر شاہ نے عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی کو ہرا دیا۔ قومی اسمبلی کے حلقہ 1 پشاور سے تحریک انصاف کے چئرمین عمران خان نے عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار غلام احمد بلور کو شکست دی۔ لیکن قومی اسمبلی کے حلقہ 122 لاہور سے عمران خان کو شکست بھی ہوئی ہے۔

پنجاب میں قومی اسمبلی کے حلقہ 106 گجرات سے پیپلز پارٹی کے امیدوار اور سابق وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ کو مسلم لیگ نواز کے امیدوار چوہدری جعفر اقبال کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

قومی اسمبلی کے حلقہ 111 سیالکوٹ دو سے مسلم لیگ ن کی امیدوار ارمغان سبحانی نے پیپلز پارٹی کی رہنما اور سابق وزیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو ہرا دیا ہے۔ قومی اسمبلی کے حلقہ 105 گجرات دو سے مسلم لیگ ق کے امیدوار اور سابق نائب وزیراعظم چوہدری پرویز الہی نے پپیلز پارٹی کے امیدوار اور چوہدری احمد مختار کو شکست دی ہے۔ چوہدری احمد مختار سابق حکومت میں وزیر دفاع اور وزیر پانی و بجلی رہ چکے تھے۔

قومی اسمبلی کے حلقہ 109 منڈی بہاؤالدین دو سے پیپلز پارٹی کے امیدوار اور سابق کابینہ کے وزیر نذر محمد گوندل کو مسلم لیگ ن کے ناصر اقبال بوسال کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور ووٹو کو قومی اسمبلی کے حلقہ 147 سے مسلم لیگ ن امیدوار میاں معین خان وٹو نے ہرا دیا ہے۔ قومی اسمبلی حلقہ 145 اوکاڑہ سے پپیلز پارٹی کی کابینہ کے ایک اور اہم رکن صمصام بخاری کو شکست ہوئی ہے۔

سندھ میں قومی اسمبلی کے حلقہ 235 سانگھڑ کم میر پور خاص سے پیپلز پارٹی کی امیدوار شازیہ مری کو مسلم لیگ فکشنل کے سربراہ پیر پگارا سے شکست ہوئی ہے۔

انتخابات میں گیلانی خاندان کو بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی موسیٰ گیلانی قومی اسمبلی کے حلقہ 148 سے انتخابات لڑ رہے تھے جس پر انہیں مسلم لیگ ن کے عبدالغفار ڈوگر کے ہاتھوں شکست ہوئی ہے۔

ملتان کے اسی حلقے سے پیپلز پارٹی کے سابق رکن اور تحریک انصاف کے نائب صدر شاہ محمود قریشی بھی امیدوار تھے۔

پاکستان تحریک انصاف کے نائب صدر شاہ محمود قریشی قومی اسمبلی کے چار حلقوں سے انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔ لیکن قومی اسمبلی کے حلقہ 148 ملتان، حلقہ 150 ملتان تین اور حلقہ 228 عمر کوٹ سے شکست ہوئی ہے۔

قومی اسمبلی کے حلقہ 151 سے پیپلز پارٹی کے عبدالقادر گیلانی کو سکندر حیات بوسن نے شکست دی ہے جبکہ صوبائی اسمبلی کے حلقوں سے یوسف رضا گیلانی کے اغوا ہونے والے بیٹے علی حیدر گیلانی کو بھی کامیابی نہ مل سکی۔ صوبائی اسمبلی کے انتخاب میں علی مجتبیٰ گیلانی کو بھی شکست ہوئی ہے۔

قومی اسمبلی کے حلقہ 17 ابیٹ آباد سے مسلم لیگ ن کے امیدوار سردار مہتاب عباسی کو شکست ہوئی ہے۔ قومی اسمبلی کے حلقہ 56 روالپنڈی سے مسلم لیگ ن کے حنیف عباسی کو تحریک انصاف کے عمران خان سے شکست ہوئی۔ پاکستان مسلم لیگ کے صدر میاں نواز شریف کو قومی اسمبلی کے حلقہ 120 لاہور اور این اے 68 سرگودھا سے فتح ملی ہے۔