پی پی پی صرف سندھ میں

بھٹو خاندان
Image caption بْھٹو خاندان کا کوئی بھی شخص مہم میں براہ راست حِصّہ نہ لے سکا

گیارہ مئی کے انتخابات پیپلز پارٹی کے لیے ایک بہت بڑا دھچکہ ثابت ہوئے ہیں، خیبرپختونخوا اور پنجاب سے ان کا صفایا ہوگیا ہے۔ لیکن سندھ میں انہیں واضح اکثریت حاصل ہے اور وہ صوبائی حکومت اکیلے بنانے کی پوزیشن میں ہے۔

پنجاب سے پیپلز پارٹی کی بری شکست کی دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ جو اہم اسباب ہیں اس میں کارکنوں کے بجائے ‘الیکٹیبل’ اور بینظیر انکم سپورٹ کارڈوں پر انحصار کرنا، فعال انتخابی مہم نہ چلانا، پرانے کارکنوں اور جیالوں کو نظر انداز کرنا، ’قاتل لیگ‘ سے نشستوں پر سمجھوتے کے چکر میں اپنے امیدواروں کو ناراض کرنا بتایا جاتا ہے۔

سندھ جو پیپلز پارٹی کا گھر ہے وہاں پیپلز پارٹی کی سندھی لوگوں نے ایک بار پھر جو حمایت کی ہے اس کی وجہ پیپلز پارٹی کی نظر میں تو شاید ان کی کارکردگی ہو۔ لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔

پیپلز پارٹی گزشتہ پانچ برسوں میں سندھ کے اندر کوئی بڑا منصوبہ نہیں دے سکی، حتیٰ کہ کراچی سے حیدرآباد تک موٹر وے بھی نہ بنا سکی۔ ذوالفقار آباد کے نام سے نئے شہر کی تعمیر ہو یا کراچی کے جزیروں پر نیا شہر آباد کرنے کے منصوبے، دونوں انتہائی متنازعہ بنے۔

سندھی لوگوں کے پاس وفاق اور سندھ میں نمائندگی کے لیے کوئی ’قابل بھروسہ‘ اور مؤثر متبادل سیاسی فورم موجود نہیں ہے۔ انیس سو ستانوے میں پہلی بار سندھ کے لوگوں نے مسلم لیگ (ن) کو مینڈیٹ دیا اور وہ وزیراعلیٰ بھی اپنا لائے لیکن تھر کول منصوبہ ختم کرنے اور کالا باغ ڈیم بنانے کے میاں نواز شریف کے اعلانات کے بعد لوگ ڈر گئے۔

خیبر پختونخواہ میں عوامی نیشنل پارٹی کا صفایا ہوگیا ہے اور عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف اکثریتی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ لیکن اب تک کے نتائج کے مطابق وہ اکیلے صوبائی حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں۔ جبکہ بلوچستان میں کسی جماعت کو اکثریت نہیں مل سکی۔ سب سے کم ووٹ پڑنے کی شرح بھی بلوچستان میں نظر آئی ہے۔

جبکہ فاٹا میں بھی ووٹنگ کی شرح کم رہی ہے اور حلقہ بیالیس سے جمیعت علماء اسلام کے محمد جمال الدین صرف تین ہزار تین سو چھپن ووٹ لے کر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ اس حلقہ میں گزشتہ برس انتخاب نہیں ہوا تھا کیونکہ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر انتخاب نہیں ہوا اور زیادہ تر لوگ نقل مکانی کرچکے ہیں۔ اس علاقے میں طالبان کمانڈر حکیم اللہ محسود کا اثر ہے۔

مسلم لیگ (ن) مرکز میں حکومت تو با آسانی بنا سکے گی لیکن انہیں مؤثر انداز میں حکومت چلانے کے لیے شاید پیپلز پارٹی کے تعاون کی ضرورت پڑے۔ کیونکہ پیپلز پارٹی کو ایوان بالا سینیٹ میں اکثریت حاصل ہے اور ان کے بنا شاید قانون سازی میں مسلم لیگ (ن) کو دشواری ہو۔

شاید یہی سبب ہے کہ میاں نواز شریف نے تمام جماعتوں کو مل بیٹھ کر ملکی مسائل حل کرنے کی دعوت دی ہے۔ کئی تجزیہ کار ان کی اس پیشکش کو ان کی فراخدلی سے تعبیر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک بڑے میچوئر لیڈر ہونے کا ثبوت دیا ہے۔

میاں نواز شریف پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ بھارت سے تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کریں گے اور کارگل کی لڑائی کی جانچ کرائیں گے۔ لیکن ملکی سطح پر دہشت گردی کا خاتمہ، امن و امان اور معیشت کی بحالی ، غربت، بے روزگاری میں کمی اور توانائی کے بحران کا خاتمہ ان کے لیے بڑے چیلینج ہوں گے۔

اسی بارے میں