سوات، دھمکیوں کے باوجود خواتین نے ووٹ ڈالے

Image caption ووٹرز نے طالبان کی دھمکیوں کو نظر انداز کر دیا

پاکستان میں دہشت گردی سے متاثرہ صوبہ خیبر پختو نخواہ اور ملحقہ قبائلی علاقوں میں پولنگ کے پر امن اختتام کے بعد غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔

خیبر پختونخواہ کے 35 قومی اور صوبائی اسمبلی کے 99 نشستوں کے لیے 1855 امیدواروں میدان میں تھے۔

بتایا جاتا ہے کہ ان سیٹوں کے لیے ایک کروڑ بیس لاکھ سے ذائد رائے دہندہگان نے ووٹ ڈالے جن کے روشنی میں اب تک پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخواہ میں ایک بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئی ہے

دہشتگردی کے شکار اس صوبے میں لوگوں کی بڑی تعداد طالبان کی دھمکیوں اور بم دھماکوں کی خوف کے باوجودانتخابات میں شریک ہوئی۔ صوبے بھر میں 2140 پولنگ سٹیشنوں کو حساس قرار دیا گیا تھا۔

طالبان کی طرف سے بعض علاقوں میں لوگوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی صورت میں خطرناک نتائج بگھتنے کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔

لیکن یہ دھمکیاں صرف پمفلٹس تک محدود رہیں اور خیبر پختونخواہ میں کوئی بڑا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا جس کی وجہ سےسیاسی مبصرین ان انتخابات کو تاریخی قرار دے رہے ہیں۔

طالبان کے زیر اثر رہنے والے ملاکنڈ ڈویژن میں 2008 کے الیکشن خوف اور دہشت کے سائے میں ہوئے تھے۔ لیکن کامیاب فوجی آپریشن کے نتیجے میں طالبان کی بے دخلی سے امن کے قیام کے بعد اس بار ایلکشن میں نہ صرف جوش وخروش دیکھا گیا بلکہ ٹرن آوٹ بھی کافی زیادہ رہا۔

بعض علاقوں میں پختون روایات اور مذ ہب کی آڑ میں جبکہ بعض مقامات پر طالبان کی طرف سے پمفلٹ کی تقسیم کی بعد سیکورٹی خدشات کو جواز بنا کر خواتین کی ووٹنگ پر پابندی عائد کی گئی۔

لیکن بعض اضلاع جیسے دیرلوئر، دیر اپر، شانگلہ اور بونیر کے بعض علاقوں میں چند خواتین نے کچھ پولنگ سٹیشنوں پر ووٹ ڈالے۔تاہم وادی سوات میں خواتین کے تمام پولنگ سٹیشنوں پر خواتین نے ووٹ پول کیے۔

اسی بارے میں