’پہلی ترجیح بھی معیشت، دوسری بھی معیشت، تیسری بھی معیشت‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان میں عام انتخابات کے بعد اکثریت حاصل کرنے والی جماعت مسلم لیگ نواز کے سربراہ میاں نواز شریف کا کہنا ہے کہ حکومت بنانے کے بعد ان کی اولین ترجیح ملک کی معیشت کی بحالی پر ہوگی۔

لاہور میں بی بی سی اردو کے شفیع نقی جامعی سے خصوصی بات چیت میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ جب ملک کی معیشت درست ہوگی تو نہ چور بازاری رہے گی اور نہ بے روزگاری۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی اقتصادی حالت کی بحالی ہی وہ واحد نسخہ ہے جو سب مسائل کے لیے کارگر ثابت ہوگا۔

نواز شریف نے کہا کہ معیشت کو بہتر بنا ہی کر احساسِ محرومی ختم کیا جا سکتا ہے اور جب محرومی کا احساس ختم ہوگا تو شکایتیں کم ہوں گی اور دہشت گردی اور بدعنوانی پر قابو پایا جا سکےگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’معیشت ٹھیک کر لیں تو یہ سارے مسائل ٹھیک ہو جائیں گے۔ اکانومی ٹھیک کرتے ہیں تو اس سے پاکستان کے اندر تشدد ختم ہو جائے گا، بدامنی ختم ہو گی، دہشتگردی ختم ہو گی ، بے روزگاری ختم ہو گی ، غربت ختم ہو گی ، جہالت ختم ہو گی تو اور کیا چاہیے اس لیے سب سے زیادہ توجہ معیشت پر ہی ہوگی۔‘

اس سوال پر کہ اکثریت ملنے کے بعد اب ان کی پالیسی کیا ہوگی، نواز شریف نے کہا کہ ’جب انتخابات میں نیت صحیح رکھی ہے تو الیکشن کے بعد نیت خراب کیوں کریں گے۔ میں نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ ہم سب کے ساتھ مل کر چلنا چاہتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سب کو ساتھ دعوت دیں گے کہ آؤ اکھٹے چلیں اور اب اکثریت آ گئی ہے، ہم اس وقت بھی یہی کہیں گے کہ نواز شریف کا وزیراعظم بننا یا نہ بننا معنی نہیں رکھتا، اصل معاملہ ہے کہ پاکستان کو آگے چلنا چاہیے۔‘

انہوں نے کہا کہ الیکشن میں جس جماعت کو جس صوبے میں مینڈیٹ ملا ہے اسے وہاں حکومت بنانے کا حق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس کا جہاں پر مینڈیٹ ہے اس کا احترام کیا جائےگا۔ جیسے سندھ میں پی پی پی کو مینڈیٹ ملا ہے اور انہیں اپنے مینڈیٹ کے استعمال کا حق ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ عمران خان کو موقع دیں گے کہ وہ خیبر پختونخوا میں حکومت بنائیں، تو ان کا کہنا تھا کہ ’وہ اگر بنا سکتے ہیں تو بسم اللہ ، ہمیں اس میں کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔‘

شدت پسندی پر قابو پانے کے بارے میں سوال پر ان کا کہنا تھا کہ طالبان سے بات چیت کے معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور یہ معاملہ بات چیت سے ہی حل ہو سکتا ہے۔

’بجائے اس کے کہ آپ اس (طالبان کی مذاکرات کی پیشکش) کو سابقہ حکومت کی طرح ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں میرا خیال ہے کہ اس میں سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے اور ہم سب مل کر بیٹھ کر مشورہ کر کے کوئی مثبت ردعمل کا مظاہرہ کریں تو مثبت بات ہوگی۔‘

بلوچستان کے حالات اور وہاں کے عوام میں پائے جانے والی ناراضگی پر انہوں نے کہا ’ملک ہمارا ہے لوگ بھی ہمارے ہیں۔غلطیاں بھی ہوتی ہیں،ناراضگیاں بھی ہوتی ہیں۔کوئی ناراضگی ہے تو اسے دور کرنا چاہیے اور اگر کوئی غلطی ہے تو اس سے سبق سیکھنا چاہیے۔‘

انہوں نے کہا کہ معاملے کے حل کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک ہی سوچ کا حامل ہونا چاہیے۔’بڑے بڑے معاملات دنیا میں حل ہوتے رہے ہیں اور آئندہ بھی حل ہوں گے۔ اگر میز پر بیٹھ کر معاملے کو حل کر لیا جائے تو اس سے کیا اچھی بات ہوگی۔‘

بھارت کے ساتھ تعلقات کے بارے میں میاں نواز شریف نے کہا کہ ’بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات بہتر ہوں گے۔ ہم ان کے ساتھ ہر متنازع معاملے پر بات کریں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ بھارت کے دورے کے بارے میں انا کی کوئی بات نہیں اور کوئی بھی پہلے آئے ’بہرحال بات چیت ہماری جاری رہے گی۔‘

امریکہ کے بارے میں میاں نواز شریف نے کہا کہ ’امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات ہمیشہ سے اچھے ہیں رہے ہیں اور وہ رہیں گے تاہم ان تعلقات میں یقیناً بہت اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے کیوں آیا اس کو دیکھنے کی ضرورت ہے ـ

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’ڈرون حملوں کے بارے میں ہماری پالیسی بالکل واضح ہے کہ یہ ڈرون حملے نہیں ہونے چاہییں۔‘

اس سوال پر کہ اگر امریکہ نہ مانا تو وہ کیا کریں گے، نواز شریف نے کہا کہ ’نہیں اس سے منوایا جا سکتا ہے اور اس پر بات ہو سکتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو کوشش کرنی چاہییے کہ وہ ہماری بات غور سے سنے اور ہم جو سمجھتے ہیں کہ ہماری آزادی اور خود مختاری پہ ایک ضرب لگتی ہے تو میرا خیال ہے کہ اس سلسے میں انھیں توجہ دینی چاہیے۔

اسی بارے میں