نیتنياہو کے طیارے میں آرمگاہ کا تنازعہ

Image caption نتنیاہو نے اس آرامگاہ کو سابق برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے جانے کے لیے تیار کروایا تھا

اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتنياہو اپنے خصوصی طیارے میں ایک بیڈروم بنانے پر فضول خرچی کرنے کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔

نیتنياہو کے دفتر کے مطابق اس معاملے پر پیدا ہوئے تنازعہ کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ نیتنياہو کے ہوائی دوروں میں ان کے آرام کے لئے اب سے کوئی متبادل نظام کی جائے گی۔

ایک اسرائیل چینل کے مطابق وزیر اعظم نیتنياہو کے لئے ایک طیارے میں خاص طور پر ایک آرام دہ اور پرسکون بیڈروم بنایا گیا جس پر تقریبا ایک لاکھ ستائیس ہزار ڈالر خرچ کئے گئے۔

نتنیاہو نے اس آرامگاہ کو سابق برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے جانے کے لیے تیار کروایا تھا۔

اقتصادی بہتری کے منصوبوں کے درمیان وزیر اعظم کی اس آرامگاہ پر کئے گئے اس خرچ کو لے کر اسرائیل کے لوگوں میں شدید غصہ ہے۔

ادھر نیتنياہو کے دفتر کا کہنا ہے کہ ان کے لئے بنے اس خاص کمرہ کے بارے میں وزیر اعظم کو پہلے سے معلومات نہیں تھی.

نیتنياہو کے لئے اسرائیل کی قومی ہوا بازی کی خدمت کے اس طیارے میں جو آرامگاہ بنائی گئی اس میں دو لوگوں کے سونے کا انتظام ہے۔ باقی طیارے میں 22 بزنس کلاس کی سیٹیں فراہم کی گئی تھی۔

یاد رہے کہ اسرائیل سے برطانیہ کی ہوائی سفر میں ساڑھے پانچ گھنٹے کا وقت لگتا ہے۔

اسرائیل کی میڈیا میں اس معاملے کو کافی اچھالا جا رہا ہے۔

ایک اسرائیلی اخبار نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ ’بی بی (نیتنياہو) ایک بادشاہ ہیں اور راج شاہی میں جب بادشاہ اور ملکہ دورے کرتے ہیں تو اخراجات نہیں دیکھیں جاتے‘۔

یہ خبر اس وقت آئی ہے جب اسرائیل میں اقتصادی سدھارو کا دور چل رہا ہے اور لوگوں کو مزید کر دینے پڑ رہے ہیں۔

گزشتہ سال بھی وزیر اعظم کے دفتر کی طرف سے کی گئی فضول خرچی کے ایک اور معاملے میں اسرائیل میں زبردست تنازع پیدا ہوا تھا۔

اس تنازعے میں وزیر اعظم کے دفتر کو ملنے والا تقریباً دو ہزار سات سو ڈالر کا بجٹ تھا جو ان کے دفتر کے لیے آئس کریم لانے میں استعمال ہوتا تھا۔ بعد میں یہ منسوخ کر دیا گیا۔

اسی بارے میں