مسلم لیگ قاف کی خوشی

Image caption چودھری پرویز الٰہی کا مقابلہ جہاں اپنے ہی اتحادی اور کابینہ کے سینیئر رکن احمد مختار سے تھا

پاکستان میں گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات میں جہاں مسلم لیگ نون کے حامی اپنی جماعت کی کامیابی پر جشن منارہے ہیں وہیں مسلم لیگ قاف کے حامی اسی بات پر خوش ہیں کہ سابق نائب وزیر اعظم چودھری پرویز الٰہی گجرات سے اپنی آبائی سیٹ جیت گئے ہیں۔

مسلم لیگ قاف کے حامیوں کا کہنا ہے کہ سابق نائب وزیر اعظم چودھری پرویز الٰہی کی انتخابات میں جیت سے عزت بچ گئی ہے۔

چودھری پرویز الٰہی کا مقابلہ جہاں اپنے ہی اتحادی اور کابینہ کے سینیئر رکن احمد مختار سے تھا وہیں ان کے قریبی رشتہ دار چودھری مبشر ان کے مدِمقابل تھے۔

مسلم لیگ قاف حکومت میں پیپلز پارٹی کی اتحادی تھی اور دونوں جماعتوں کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوئی تھی تاہم گجرات کے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو پانچ میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ قاف میں کسی سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا اسی وجہ سے پرویز الٰہی اور چودھری احمد مختار آمنے سامنے تھے۔

مسلم لیگ قاف کے ایک بڑے حامی جہانگیر وڑائچ کو اس بات کا رنج ہے کہ عام انتخابات میں مسلم لیگ نون کامیاب ہوگئی ہے تاہم انہیں اس بات پر خوشی ہے کہ پرویز الٰہی جیت گئے ہیں۔

جہانگیر وڑائچ کے بقول خدا کا شکر ہے کہ عزت بچ گئی کیونکہ یہ عزت بے عزتی کا معاملہ تھا۔

گجرات کا حلقہ ایک سو پانچ میں یہ روجحان بھی حیران کن تھا کہ ووٹرز نے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر ایک ہی جماعت سے امیدواروں کو ووٹ نہیں ڈالے۔

کسی نے قومی کی نشست پر مسلم لیگ قاف تو کسی نے مسلم لیگ نون کو ووٹ ڈالا البتہ صوبائی اسمبلی کی نشست پر تحریک انصاف کے امیدوار کو ووٹ ملے۔

گجرات میں سابق حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے حامیوں کی رائے تھی کہ احمد مختار کو بھی پیپلز پارٹی کے رہنما غضنفر گل کی طرح خود انتخابات میں حصہ نہیں لینا چاہیے تھا بلکہ اپنے بھائی اور بیٹے کو انتخاب لڑانا چاہیے تھا۔

چودھری احمد مختار کے بھائی چودھری احمد سعید مسلم لیگ نون کے رہنما ہیں تاہم انہوں نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔

نوابزادہ غضنفر گل کے بھائی مظہر علی خان نے اپنے مدِمقابل چودھری وجاہت حسین کو شکست دی جو گزشتہ انتخابات میں اسی حلقہ سے کامیاب ہوئے تھے۔

پیپلزپارٹی نے اس بار غضنفر گل کو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے وجہ سے مسلم لیگ قاف کے چودھری وجاہت کے مقابلے میں ٹکٹ نہیں دیا تھا اور اسی وجہ سے انہوں نے خود آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑنے کے بجائے اپنے بھائی اور بیٹے کی انتخابی مہم چلائی جو مسلم لیگ نون کے امیدوار تھے۔

پیپلزپارٹی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کو مسلم لیگ قاف کے ساتھ اتحاد کرنے سے گجرات میں نقصان ہوا ہے اور چودھری احمد مختار کے جلسے میں کسی جماعت کے کسی بڑے نے خطاب نہیں کیا۔

چودھری احمد مختار بھی اس بات سے کسی حد تک اتفاق کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ صدر آصف زرداری عدالتی فیصلے کی وجہ سے انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکے۔

پیپلز پارٹی کے حامیوں کے گلے شکوے اپنی جگہ لیکن مسلم لیگ قاف کے جہانگیر وڑائچ کی اس بات میں وزن ہے کہ چودھری پرویز الٰہی کی کامیابی سے عزت بچ گئی کیونکہ گزشتہ انتخابات میں مسلم لیگ قاف کو گجرات سے ایک نشست ملی تھی اور اس مرتبہ بھی وہ ایک نشست لینے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

اسی بارے میں