پیپلز پارٹی کی شکست کے بعد رہنماؤں کے استعفے

پاکستان کی سابق حکمراں جماعت پیپلز پارٹی کی گیارہ مئی کے عام انتخابات میں غیر متوقع انتخابی کارکردگی کے بعد پارٹی رہنماؤں کے مستعفی ہونے کاسلسلہ جاری ہے۔

گیارہ مئی کے اب تک غیر حتمی انتخابی نتائج کے مطابق پاکستان میں پانچ سال تک حکومت کرنے والی جماعت، پاکستان پیپلز پارٹی کی پارلیمنٹ میں موجودگی لگ بھگ ایک تہائی تک سکڑ گئی ہے اور قومی اسمبلی میں اس کی بتیس نشستیں ہیں جبکہ گزشتہ انتخاب میں97 جنرل نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔

تجزیہ کار ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے نظریات کی سیاست چھوڑ کر سیاسی لوٹوں کو اپنی جماعت میں جگہ دی اور پیپلز پارٹی کے جن سیاستدانوں نے استعفے دیے ہیں وہ اچھا اقدام ہے اور ایسے لوگ جو اب بھی استعفے نہیں دے رہے ہیں تو انہیں زبردستی ہٹا دیا جانا چاہیے۔

پیپلز پارٹی پھر اٹھے گی: اعتزاز احسن کا آڈیو انٹرویو

سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کے سینیئر وائس چیئرمین یوسف رضاگیلانی نےپارٹی کے عہدے سے، صوبہ پنجاب کے گورنر مخدوم احمد ممحود نے گورنر کے عہدے سے اور امریکہ میں پاکستان کی سفیر شیری رحمان سفیر کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے جبکہ منگل کو سینیٹر اعتزاز احسن نے سینیٹ سے مستعفی ہونے کی پیشکش کی ہے۔

اس کے علاوہ مقامی میڈیا کے مطابق پیپلز پارٹی کے وسطیٰ پنجاب کے صدر میاں منظور وٹو نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے، انہیں اوکاڑہ سے قومی اسمبلی کی دو نشستوں سے شکست ہوئی ہے۔منظور وٹو سے اس ضمن میں رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ملی۔

پیپلز پارٹی نظریات کی سیاست چھوڑ چکی ہے: ڈاکٹر مہدی حسن

سابق وزیراعظم گیلانی کا کہنا تھا کہ وزیرِاعظم کی حیثیت سے اُن کی کارکردگی کے باعث پاکستان پیپلز پارٹی کو انتخابات میں نقصان پہنچا ہے۔گورنر پنجاب کے بقول انتخابی نتائج کے بعد وہ اخلاقی طور پر مستعفی ہو رہے ہیں۔

اعتزاز احسن نے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی شکست پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس ناکامی پر خود احتسابی ہونا بہت ضروری ہے اور ہار کی وجوہات کو جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم ہونا چاہیے تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی شکست پر مایوس یا دلبراشتہ نہیں ہے اور پیپلز پارٹی میدان میں رہے گی اور دوبارہ ایک بڑی پارٹی بن کر ابھرے گی۔

پیپلز پارٹی کی انتخابات میں شکست پر تجزیہ کار ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا ہے کہ یپلز پارٹی کے جن سیاستدانوں نے استعفے دیے ہیں وہ اچھا اقدام ہے اور ایسے لوگ جو اب بھی استعفے نہیں دے رہے ہیں تو انہیں زبردستی ہٹا دیا جانا چاہیے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی پانچ سالہ کارکردگی کا دفاع کیا جا سکتا تھا لیکن کسی نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ خراب کارکردگی کا دفاع ملک میں دہشت گردی، سکیورٹی کی ابتر صورتحال کی بنیاد پر ہو سکتا تھا لیکن نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کچھ اتحادی جماعتوں کے علاوہ دوسری سیاسی جماعتوں نے دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے کےلیے حکومت کی مدد نہیں کی۔’بعض سیاسی جماعتوں نے تو دہشتگردوں کی مدد کی۔‘

انہوں نے کہا کہ جنرل ضیاالحق نے پیپلز پارٹی کے خلاف ایک مہم شروع کی تھی جس کا بینادی نکتہ تھا کہ پیپلز پارٹی سندھ کی ایک’ وطن دشمن جماعت‘ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت اس مہم کا موثر جواب نہیں دے سکی ہے اور اور پنجاب میں پیپلز پارٹی کا زوال جاری ہے۔

انہوں نے کہا پیپلز پارٹی نے نظریات کی سیاست چھوڑ کر سیاسی لوٹوں کو اپنی جماعت میں جگہ دی۔

ایک سوال کے جواب میں کہ کیا پیپلز پارٹی کی بھٹو خاندان پر مکمل انحصار پارٹی کی کمزروی نہیں بن گئی ہے، انہوں نے کہا کہ بلکل بن گئی ہے اور اب پارٹی کے حکمت عملی طے کرنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ وہ مزید کتنا عرصہ تک بھٹو خاندان پر انحصار کر سکتے ہیں۔

Image caption گورنر پنجاب نے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی کے عام کارکن کی حیثیت سے کام کریں گے

انہوں نے کہا تین چار کروڑ نئے ووٹروں نے نہ تو ذوالفقار علی بھٹو کو دیکھا ہے اور وہ نہ بینظیر بھٹو سے اس طرح جذباتی طور پر منسلک ہیں جس طرح پوری نسلیں تھیں۔انہوں نے پیپلز پارٹی کی پوری انتخابی مہم’نوحہ گری‘ تھی۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے پنجاب پارٹی قیادت ایک ایسے شخص کے حوالے کر دی جس کی ساری زندگی پیپلز پارٹی کے خلاف گزری۔

انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ منظور وٹو کو کس کے مشورے پر پیپلز پارٹی پنجاب کا صدر بنایا گیا تھا۔ انہوں نے جہانگیر بدر جو بیس سال تک پارٹی کے سیکرٹری جنرل رہے وہ ان انتخِابات میں کہیں نظر نہیں آئے اور اب پتہ چلا ہے کہ انہیں پارٹی کے عہدے سے ہٹایا جا چکا ہے اور ان کی جگہ لطیف کھوسہ کو پارٹی کا سیکرٹری جنرل بنا دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی کو نہیں معلوم یہ کب اور کیسے ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی جو پنجاب کی انتہائی مقبول جماعت تھی اس کو اسی صورت میں دوبارہ کھڑا کیا جا سکتا ہے جب پارٹی اس نظریاتی سیاست کی طرف لوٹ جائے جہاں سے اسے شروع کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں