امریکی صدر اوباما کا نواز شریف کو ٹیلی فون

Image caption امریکی صدر نے پاکستان میں پرامن انتخابات کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیا ہے

امریکہ کے صدر باراک اوباما نے عام انتخابات میں مرکز اور پنجاب میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف سے ٹیلی فون پر بات کی اور انہیں انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد دی۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جے کارنی کے مطابق صدر اوباما نے پاکستان میں دو منتخب جمہوری حکومتوں کے درمیان اقتدار کی منتقلی کے تاریخی عمل میں نواز شریف کے کردار کی بھی تعریف کی۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اور خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

ترجمان کے مطابق صدر اوباما نے پاکستان میں پر تشدد واقعات کے باوجود ووٹروں کے ٹرن آوٹ کو سراہا۔

اس سے پہلے امریکی صدر نے پاکستان میں پرامن طریقے سے انتخابات کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیا تھا۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بھی نواز شریف سے ٹیلی فون پر بات کی تھی جب کہ گذشتہ روز پاکستان میں امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے بھی رائے ونڈ جاکر مسٹر شریف سے ملاقات کی تھی اور انہیں مبارک باد دی تھی۔

امریکی سفیر سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ سمیت تمام ممالک سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں اور وہ مسائل کو بات چیت کے ذریعے خوش اسلوبی سے حل کرنا چاہیں گے۔

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات گزشتے کچھ عرصے سے اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں سے عوام میں امریکہ کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

مبصرین کے خیال میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا پاکستان کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن نے وفاق اور پنجاب میں اکثریت حاصل کی ہے۔ وفاق میں مسلم لیگ ن کی حکومت بنانے کے واضح امکان کے بعد امریکہ بھارت اور افغانستان سمیت دنیا بھر کے سربراہانِ مملکت نے نواز شریف کو مبارکباد دی ہے۔

بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ نے بھی نواز شریف کو ٹیلی فون کر کے انتخابات میں ان کی فتح پر مبارکباد دی تھی اور انہیں بھارت کا دورہ کرنے کی دعوت دی ہے۔