کالعدم تنظیموں کے سابق رہنما الیکشن میں ناکام

Image caption مولانا محمد احمد لدھیانوی اس وقت اہلسنت والجماعت کے سربراہ ہیں

پاکستان کے عام انتخابات میں کالعدم تنظیموں کے متعدد سابق عہدیداروں نے حصہ تو لیا لیکن ان میں کوئی بھی اسمبلی تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکا البتہ کچھ رہنماؤں نے بھاری تعداد میں ووٹ ضرور حاصل کیے۔

کالعدم تنظیموں کے جن رہنماؤں نے انتخابات میں حصہ لیا ان میں سب سے نمایاں محمد احمد لدھیانوی تھے۔

کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے سابق سربراہ نے وسطی پنجاب کے علاقے جھنگ سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر انتخابات لڑا تاہم وہ کامیاب نہ ہو سکے۔

الیکشن 2013 کے تازہ انتخابی نتائج

مولانا محمد احمد لدھیانوی اس وقت اہلسنت والجماعت کے سربراہ ہیں تاہم یہ تنظیم الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ نہیں ہے اس لیے انھیں متحدہ دینی محاذ نامی دینی جماعتوں کے اتحاد کے پلیٹ فارم سے انتخاب میں حصہ لیا۔

جھنگ سنی کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کا گڑھ رہا ہے اور اسی شہر سے مولانا محمد احمد لدھیانوی امیدوار تھے۔

مولانا محمد احمد لدھیانوی کے مدمقابل مسلم لیگ ن کے امیدوار شیخ محمد اکرم کامیاب ہوئے جنہوں نے 74324 ووٹ حاصل کیے جبکہ احمد لدھیانوی 71598 ووٹ حاصل کر سکے۔ صوبائی اسمبلی کی نشست پر بھی انہیں دو ہزار ووٹوں کے فرق سے ہی شکست ہوئی۔

مولانا محمد احمد لدھیانوی کے علاوہ کالعدم تنظیم کے رہنما مولانا ضیاء الرحمان فاروقی کے بیٹے ریحان محمود ضیا، اہلسنت والجماعت کے سیکرٹری اطلاعات اورنگ زیب فاروقی سمیت تنظیم کے 40 کے لگ بھگ اراکان نے انتخابات میں حصہ لیا۔

اورنگزیب فاروقی کراچی میں سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 128 سے امیدوار تھے اور انہیں 21332 ووٹ ملے جبکہ یہاں سے جیتنے والے متحدہ قومی موومنٹ کے امیدوار نے 23496 ووٹ حاصل کیے۔

اورنگزیب فاروقی نے اس حلقے میں دھاندلی کے الزامات بھی عائد کیے ہیں اور اہل سنت و الجماعت نے اس سلسلے میں دھرنا دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔

مبصرین کی رائے ہے کہ سنی کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں نے کراچی، جھنگ اور پشاور کے کچھ حلقوں سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں اور کیونکہ یہ تنظیمیں دینی جماعتوں کے اتحاد کی شکل میں سامنے آئی ہیں۔

تجزیہ نگار عامر رانا کہتے ہیں کہ ان تنظیموں کا انتخابی عمل میں حصہ لینے کا مقصد پارلیمنٹ تک پہنچنا نہیں بلکہ سیاسی پہچان بنانا ہے۔

عامر رانا کا کہنا ہے کہ ان تنظیموں کو ان علاقوں سے اچھا ووٹ ملا ہے جہاں پر ان کا اثرو رسوخ تھا اور باقی علاقوں کے انتخابی حلقوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عام آدمی کا رحجان فرقہ وارانہ تنظیموں یا جماعتوں کی طرف بالکل نہیں۔

مصبرین کا کہنا ہے کہ شیعہ تنظیم کی عام انتخابات میں کارکردگی سنی کالعدم تنظیموں سے مختلف نہیں ہے۔ شیعہ تنظیم مجلس وحدت المسلمین نے کوئٹہ سے بلوچستان اسمبلی کی ایک نشست جیتی ہے جب کہ باقی پورے پاکستان میں ان کے امیدوار ہار گئے ہیں۔

کالعدم تحریک جعفریہ کے تحلیل ہونے کے بعد مجلس وحدت المسلمین تنظیم منظرِ عام پر آئی تھی تاہم اس میں تحریک جعفریہ کے رہنما شامل نہیں ہیں۔

تجزیہ نگار عامر رانا کے بقول مجلس وحدت المسلمین پہلی بات انتخابات میں حصہ لے رہی تھی اور پورے ملک میں امیدوار کھڑے کیے تھے تاہم ان کے حصے میں صوبائی اسمبلی کی صرف ایک نشست آئی ہے۔

سیاسی مبصر ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کے مطابق ان تنظیموں کا انتخابات میں کامیاب نہ ہونے کی بنیادی وجہ عوام میں ان کی مقبولیت نہ ہونا ہے۔ ان کے بقول اس طرح کی تنظیم اس لیے انتخابات میں حصہ لیتی ہیں تاکہ انہیں تنگ نظر جماعت نہ سمجھا جائے اور عوام انھیں احترام کی نظر سے دیکھیں۔

ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کا کہنا ہے کہ ماضی میں اس طرح کی تنظیمیں انتخابات میں حصہ لیتی رہیں لیکن ان تنظیمیں کو کبھی ایک یا دو سے زیادہ نشستیں نہیں مل سکیں۔

مصبرین کی رائے ہے کہ انتخابات میں میں ناکامی کے باوجود یہ تنظیم کمزور نہیں ہوئیں تاہم پارلیمانی سیاست میں ان کا کردار محدود رہے گا۔

اسی بارے میں