’حکومت اکثریت سے نہیں تدبر سے چلتی ہے‘

Image caption مسلم لیگ نون کی طرف سے مثبت اقدام کے بعد مجلس عاملہ کا اجلاس طلب کیا ہے:مولانا فضل الرحمان

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اکثریت سے حکومتیں تو بن جاتی ہیں لیکن سیاسی تدبر سے ہی حکومتیں چلائی جاتی ہیں۔

انہوں نے یہ بات جمعرات کو اسلام آباد میں مسلم لیگ نواز کے رہنما میاں شہباز شریف سے بات چیت کے بعد کہی جنہوں نے حکومت سازی کے سلسلے میں ان سے ملاقات کی۔

الیکشن 2013 کے انتخابی نتائج کا نقشہ

واضح رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کا موقف ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں وہ تحریک انصاف کے بغیر حکومت بنائے گی جبکہ مسلم لیگ نون کا کہنا ہے کہ صوبے سے تحریک انصاف کو مینڈیٹ ملا ہے اور حکومت بنانے کا پہلا حق اسی کا ہے۔

مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سےگفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت کو قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل ہوگئی ہے۔

میاں شہباز شریف کے بقول اکثریت کے باوجود اُن کی جماعت تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے تاکہ اجتماعی سیاسی بصیرت سے ملک کو مشکلات سے نکالا جا سکے۔

اُنہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے بھی ملاقات اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نون کی طرف سے مثبت اقدام کے بعد اُنہوں نے مجلس عاملہ کا اجلاس طلب کیا ہے جس میں مستقبل میں مشترکہ حکمت عملی بنانے پر غور کیا جائے گا۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں گُزشتہ دس سال سے عسکریت پسندی کا سامنا ہے اور ان علاقوں میں امن قائم رکھنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

اسی موقع پر ایک سوال کے جواب میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وہ ملک میں ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں تمام سیاسی جماعتوں کو ملنے والے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو صرف اُن انتخابی حلقوں میں دھاندلی نظر آتی ہے جہاں پر اُن کی جماعت کے امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

میاں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ یورپی یونین نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ نوے فیصد انتخابات شفاف ہوئے ہیں جبکہ جہاں پر پولنگ کے دوران دھاندلی ہوئی ہے وہ علاقے صوبہ پنجاب میں شامل نہیں ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف ایک بڑی سیاسی جماعت بن کر اُبھری ہے اس لیے وہاں پر حکومت بنانے کا پہلا حق تحریک انصاف کا ہے۔

تاہم مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ وہ صوبے میں تحریک انصاف کو ملنے والے مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کرتے کیونکہ وہاں دھاندلی کے ذریعے ایک جماعت کو زیادہ سیٹیں دلوائی گئی ہیں۔

گیارہ مئی کے انتخابات کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) کو قومی اسمبلی میں دس نشستیں حاصل ہیں جبکہ خیبرپختونخوا میں اس کی تیرہ نشستوں کے ساتھ دوسری پوزیشن پر ہے اور صوبہ بلوچستان میں چھ نشستیں حاصل کر کے بھی وہ تیسری بڑی جماعت ہے۔

جے یو آئی نے اعلان کیا تھا کہ وہ صوبہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے بغیر دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائیں گے مگر مسلم لیگ نون نے اس سلسلے میں ان کی مدد سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کو مینڈیٹ ملا ہے اور حکومت بنانا اسی کا حق ہے۔

تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں حکومت سازی کے لیے جماعت اسلامی سے اتحاد کر لیا ہے اور اسے قومی وطن پارٹی کی حمایت بھی حاصل ہے۔

اسی بارے میں