شمالی وزیرستان: آگ اور دھماکوں میں تین ہلاک

Image caption شمالی وزیرستان امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں کی زد میں رہا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں اسلحے کی مارکیٹ میں آگ لگنے اور دھماکوں سے تین افراد ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔

یہ واقعہ جمعرات کی صبح شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں مْسقی اسلحہ مارکیٹ میں پیش آیا۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق اسلحے کی اس مارکیٹ میں شیر محمد محسود نامی شخص کی دوکان میں آگ لگ گئی جو دوسرے دوکانوں تک پھیل گئی۔

آگ لگنے کے بعد مارکیٹ میں موجود اسلحہ کارتوس و دیگر دھماکہ خیز مواد پھٹ گیا جس کی وجہ سے جانی و مالی نقصان ہوا۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق آگ لگنے سے ایک درجن سے زیادہ دوکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔

مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔

انہوں نے مارکیٹ میں آگ لگی ہوئی دوکانوں اور محفوظ دوکانیں کے درمیان چند دوکانیں گرا کر آگ کو مزید پھیلنے سے روک لیا۔

ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد مقامی بتائے جاتے ہیں۔

خیال رہے کہ شورش زدہ علاقہ شمالی وزیرستان طالبان شدت پسندوں کا مرکز سمجھا جاتا ہے اور امریکی جاسوسی طیاروں کے حملوں کی زد میں رہتا ہے۔

گذشتہ مہنے بھی شمالی وزیر ستان میں ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں تین غیر ملکی ہلاک ہو گئے تھے۔

یہ ڈرون حملہ پاکستان افغانستان سرحد کے قریب دتہ خیل کے علاقے منظر خیل میں ایک مکان پر ہوا جس کے نتیجے میں مکان کا ایک کمرہ تباہ ہو گیا تھا۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق میران شاہ کے علاقے میں اس مکان میں یہ غیر ملکی گزشتہ کافی عرصے سے رہائش پذیر تھے۔

میران شاہ سے پینتیس کلومیٹر دور دتہ خیل کا علاقہ افغان سرحد کے بہت ہے۔

مقامی حکام کے مطابق اس مکان میں میں ان غیر ملکیوں کے علاوہ حافظ گُل بہادر گروپ اور حقانی گروپ کے ارکان بھی آتے جاتے تھے۔

اطلاعات کے مطابق سالِ رواں کے دوران اب تک تقریباً نو ڈرون حملے ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں