’دہشتگرد جو عزت مانگتے ہیں دینے کو تیار ہیں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی اسمبلی کے لیے پاکستان تحریکِ انصاف کے نامزد پارلیمانی لیڈر پرویز خٹک نے کہا ہے کہ ’ہم طالبانائزیشن کی نہیں دہشت گردی کی بات کرتے ہیں‘ اور اس مسئلے کو مذاکرات سے حل کریں گے۔

خیال رہے کہ ملک میں گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات میں الیکشن کمیشن کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف نے صوبہ خبیر پختونخوا میں اکثریتی جماعت کے طور پر اْبھری ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف کی طرف خیبر پختوانخوا کی صوبائی اسمبلی میں پرویز خٹک نامزد پارلیمانی لیڈر کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

بی بی سی اُردو کو خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا ’ہم طالبانائزیشن کی بات نہیں کرتے، ہم کہتے ہیں کہ صوبے میں دہشت گردی ہے اور ہمیں معلوم نہیں کہ یہ کون کرتا ہے۔ کبھی کوئی ایک دعویٰ کرتا ہے کبھی کوئی اور۔‘

انہوں نے کہا ہے کہ انہیں ابھی تک اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے کہ دہشت گردی کون کرتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جو بھی دہشت گردی کرتے ہیں ’ہم انہیں درخواست کرتے ہیں کہ صوبے میں امن ہونا چاہیے، وہ جو عزت مانگتے ہیں ہم دینے کو تیار ہیں‘ اور ہم ان کو دوبارہ معاشرے کا حصہ بنانے کے لیے تیار ہیں۔

پرویز خٹک نے کہا ہے کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ صوبے میں امن ہو اور ہمارا ملک ترقی کرے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ وفاق میں میاں نواز شریف کے ساتھ ملک کر دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے کام کریں گے۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم اس ایجنڈے کے ساتھ آئیں ہیں کہ بات چیت کے ذریعے امن قائم کریں۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم تمام سیاسی قوتوں اور علاقہ غیر سے متعلقہ لوگوں کے ساتھ جرگہ یا جو بھی طریقہ ہو ’متعلقہ لوگوں سے بات کرنے کو تیار ہیں‘۔

تحریکِ انصاف کے رہنما نے اپنی نو منتخب ٹیم کے بارے میں کہا ہے کہ نوجوان تبدیلی کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور تجربہ کار لوگوں نے اس صوبے کو کچھ ترقی نہیں دی اور ’اسے کرپٹ و تباہ و برباد کر دیا‘۔

انہوں نے کہا ’ہمارے جتنے بھی محکمے ہیں تباہ ہوئے ہیں۔ پولیس اور تعلیم کے محکمے تباہ ہیں اور یہی نوجوان تبدیلی لائیں گے۔‘

پرویز خٹک نے درپیش چیلنجز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہمارے تو بہت سے چیلنچز ہیں۔ یہاں امن و امان کی صورتِ حال بگڑی ہوئی ہے، تعلیم تباہ ہے، ہسپتال تباہ ہے، یہاں ہماری بیوروکریسی ایک بے لگام گھوڑا بنی ہوئی ہے اور بے انتہا کرپشن ہے۔کوئی چیز ٹھیک نہیں ہے۔‘

انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی کوشش ہوگی کہ صوبے کی تاریخ میں ایک مثالی حکومت قائم کریں۔

اسی بارے میں