مالاکنڈ: دو مساجد میں دھماکے، تیرہ افراد ہلاک

فائل فوٹو، سوات میں دھماکہ
Image caption زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویش ناک ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے علاقے مالاکنڈ کے ایک قصبے بازدرہ میں نمازِ جمعہ کے وقت دو مساجد میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں تیرہ افراد ہلاک اور پینتالیس سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

مقامی انتطامیہ کا کہنا ہے کہ یہ دھماکے درگئی سے 25 کلومیٹر دور پہاڑی علاقے بازدرہ میں ہوئے۔

علاقہ دور افتادہ ہونے کی باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ زخمی افراد میں سے پندرہ کی حالت تشویشناک ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دھماکے سے ایک مسجد کی چھت گر گئی ہے جس کے نیچے لوگ دبے ہوئے ہیں۔

اسسٹنٹ کمشنر درگئی عبداللہ مشال نے دھماکوں میں تیرہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق بم پہلے سے مساجد میں نصب کیے گئے تھے۔

انہوں نے بتایا کے علاقے میں کرفیو نافذ کرنے کے بعد ملزمان کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

مالاکنڈ کے تمام ہسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے جبکہ شدید زخمیوں کو پشاور اور مردان کے ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

اس سے پہلے ملاکنڈ کے علاقے درگئی میں سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

2006 میں درگئی میں فوج کے ایک تربیتی مرکز پر خودکش حملے میں 42 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

کلعدم تحریکِ طالبان پاکستان نے ان دھماکوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

اسی بارے میں