پی ٹی آئی کی مرکزی رہنما کی تدفین

Image caption پی ٹی آئی کے صوبائی ترجمان کے مطابق زہرہ شاہد کو سر میں گولیاں لگیں

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں پاکستان تحریکِ انصاف کی مرکزی نائب صدر زہرہ شاہد حسین کی تدفین کردی گئی ہے۔

ان کو ہفتے کی رات فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کو اس واقعے کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا تاہم ایم کیو ایم نے یہ الزام رد کیا تھا۔

پی ٹی آئی کے صوبہ سندھ کے ترجمان دوا خان نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں پارٹی رہنماؤں سے معلوم ہوا ہے کہ عمران خان نے ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین کو زہرہ شاہد حسین کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

سنیچر کو رات گئے ایک پریس کانفرنس میں ایم کیوایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے عمران خان کے بیان کو سیاسی ناپختگی قرار دیتے ہوئے رد کر دیا تھا اور زہرہ شاہد کی ہلاکت کے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

انھوں نے کہا ہے کہ واقعے کی تفصیلات آنے سے پہلے الزام تراشی سے اس کی تحقیقات متاثر ہو سکتی ہیں۔انہوں نے اس واقعے کے ساتھ عمران خان کے بیان کی بھی مذمت کی۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت عمران خان کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ کرے گی۔

نامہ نگار احمد ولی مجیب کے مطابق یہ واقعہ کراچی کے ڈیفنس فیز فور سے متصل گیزری اوینیو کے علاقے میں سنیچر کو تقریباً رات گیارہ بجے کے قریب پیش آیا۔

پی ٹی آئی کے صوبائی ترجمان دوا خان نے بتایا کہ زہرہ شاہد حسین کو ان کے گھر کے سامنے نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کیا۔

زہرہ شاہد کی لاش کو پہلے نیشنل میڈیکل سنٹر ڈیفنس لایا گیا اور بعد میں پوسٹ مارٹم کے لیے ان کی لاش کو جناح ہسپتال منتقل کیا گیا۔

پی ٹی آئی کے صوبائی ترجمان کے مطابق ان کو سر میں گولیاں لگیں۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھے۔

زہرہ شاہد کی عمر ساٹھ سے اوپر بتائی جاتی ہے اور وہ تحریکِ انصاف کی خواتین ونگ کی مرکزی نائب صدر تھیں۔

ترجمان نے کہا کہ پارٹی رہنماؤں کے اجلاس کے بعد آئندہ کا لائحۂ عمل طے کیا جائے گا۔

کراچی میں پی ٹی آئی کے مرکزی میڈیا سیل کی طرف سے جاری بیان میں زہرہ شاہد کی ہلاکت کی مذمت کی گئی ہے اور حکومت سے اس واقعے میں ملوث افراد کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ تحریکِ انصاف اس واقعے کے خلاف بھرپور احتجاج کرے گی۔

واضح رہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے کہ کراچی کے حلقے این اے 250 کے 43 پولنگ سٹیشنز پر اتوار کو دوبارہ انتخابات ہو رہے ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ قومی اسمبلی کے اس حلقے کے 43 پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کے بائیکاٹ کا اعلان کر چکی ہے۔

یہ اعلان ایم کیو ایم کے رہنما رضا ہارون نے جمعے کی شام پریس کانفرنس میں کیا تھا۔

جمعہ کو چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے چار ارکان پر مشتمل بینچ نے اس معاملے سے متعلق فریقین ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے دلائل کو سُنا تھا اور این اے 250 کے تمام پولنگ سٹیشنز پر انتخابات کرانے کا مطالبہ مسترد کر دیا تھا۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی سنیچر کو ان پولنگ سٹیشنز پو دوبارہ انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

خیال رہے کہ اس سے پہلے الیکشن کمیشن نے کراچی کے حلقہ این اے 250 کے 43 پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ انتخابات کا حکم دیا تھا اور یہاں اتوار 19 مئی کو پولنگ ہوگی۔

اسی بارے میں