میاں حکومت اور چومکھی

الیکشن تو ہوگئے اب ذرا نواز شریف حکومت کے ان ایک سو دنوں کے امکانات بھی دیکھ لیں جو ابھی شروع نہیں ہوئے۔

سیّد پرویز مشرف کا مستقبل؟

بینظیر بھٹو کیس سے متعلق وکلاء اور تفتیش کاروں کی جان کے لالے پڑنے کے بعد ’عظیم تر قومی مفاد‘ میں ججز نظربندی کیس سے مدعی کی ’رضاکارانہ‘ اچانک دستبرداری، فوج کے سربراہ اور متوقع وزیرِ اعظم میں غیررسمی صلاح مشورے، شریف کیمپ کی جانب سے پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے اژدھے کو جگانے کے سوال پر ہچر مچر، حلف اٹھانے سے ذرا پہلے یا فوراً بعد نیاز مندِ سعودی عرب میاں نواز شریف کے ممکنہ رواجی و آشیروادی دورہِ ریاض سمیت اگر ضروری مصالحہ جات کو امکانی ہانڈی میں ڈالا جائے تو نتیجہ یہی نکلنا چاہیے کہ پرویز مشرف کو اسی طرح باعزت راستہ ملے جس طرح شریف خاندان کی باعزت روانگی عمل میں آئی تھی۔ منطقی اعتبار سے بھی احسان کا بدلہ احسان ہی ہوتا ہے۔

اور اس سے زیادہ بہتر بھلا کیا ہوگا کہ جو بھی ہونا ہے نواز شریف کے آئینِ پاکستان سے حلفِ وفاداری اٹھانے سے پہلے ہی ہو جائے کیونکہ پرویز مشرف کی موجودگی میں آرٹیکل چھ سمیت پورے آئین کے تحفظ کی قسم کھانا خود نئے وزیرِ اعظم کو بھی کباب میں ہڈی جیسا لگے گا۔

طالبان سے مذاکرات

اگرچہ متوقع وزیرِ اعظم اور خیبر پختون خوا کے نامزد وزیرِ اعلیٰ دو مختلف جماعتوں سے ہیں مگر دونوں طالبان کی مذاکراتی پیش کش کو سنجیدگی سے لینا چاہتے ہیں۔ اس اہم اور دلچسپ مشق میں دیکھنے کی بات یہ ہوگی کہ جو بھی مذاکراتی ٹیم بنے گی کیا وہ شریف وفاقی حکومت، خیبر پختون خوا کی انصاف حکومت اور فوج کے باہم مشورے سے تشکیل پائے گی۔

اور اس ٹیم کو طالبان دوست جمیعت علمائے اسلام اور جماعتِ اسلامی کی حمایت بھی حاصل ہوگی یا شریف حکومت تنِ تنہا طالبان سے بات چیت کا کریڈٹ لینا پسند کرے گی۔ اور یہ کہ طالبان سے غیر مشروط بات چیت ہوگی یا پھر مذاکرات آئینِ پاکستان اور موجودہ جمہوری ڈھانچے کے دائرے میں ہوں گے۔

اگر بات چیت کے نتیجے میں طالبان کو ایک غیر مسلح سیاسی قوت کی شکل میں قومی دھارے میں شامل ہونے پر آمادہ نہ کیا جا سکا تو پھر حکومت کا پلان بی کیا ہوگا اور طالبان کی جوابی حکمتِ عملی کس قدر شدید یا معتدل ہوگی؟ آیا مذاکراتی دور میں فریقین عارضی امن پر متتفق ہو پائیں گے یا جنگ اور مذاکرات ساتھ ساتھ ہوں گے؟

نتیجہ اس مشق کا جو بھی نکلے نواز شریف اور عمران خان کا طالبان کے بارے میں اور طالبان کا ان دونوں کے بارے میں نقطہِ نظر یقیناً بدلے گا اور فریقین کو ایک دوسرے کے اصل عزائم کے بارے میں لگ پتہ جائے گا۔

بلوچستان

بلوچستان میں انتخابی عمل الیکشن کمیشن کی نگاہوں کے سامنے جس طرح مینیج ہوا اور متوقع صوبائی حکومت جن اجزائے ترکیبی کے ساتھ تشکیل پا رہی ہے اس کے سبب تازہ وفاقی اور صوبائی ڈھانچہ بلوچستان کے معاملات میں اتنا ہی بااختیار ہوگا جتنا اختیار کسی بغیر انجن کی بس کے عملے کے پاس ہوتا ہے۔ آسان الفاظ میں اگلی مدت کے دوران بھی بلوچستان کی ایک گیریژن صوبے والی حیثیت برقرار دکھائی دے رہی ہے۔

کراچی

سنہ اٹھاسی کے بعد سے آنے والی ہر سویلین حکومت کی راہ میں کراچی کیلے کے چھلکے کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ میاں حکومت کب تک اور کیسے کیلے کے چھلکے سے بچتے ہوئے رواں رہے گی۔

اسی بارے میں