’پنجاب میں خسرہ سے 100 بچے ہلاک‘

Image caption لاہور کے ہسپتالوں میں خسرے میں مبتلا مریض باقاعدگی سے داخل ہو رہے ہیں

پنجاب میں جنوری سے اب تک خسرہ کے تقریباً تیرہ ہزار کیسز سامنے آ چکے ہیں اور اس دوران ایک سو کے لگ بھگ بچے خسرے کی وبا سے زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔

حکومتی کوششوں کے باوجود ابھی تک خسرے پر قابو نہیں پایا جا سکا اور اموات کا سلسلہ جاری ہے۔

لاہور میں خسرے کی روک تھام کے لیے سرکاری سطح پر چلائی جانے والی مہم کو اب دو ہفتے ہونے کو ہیں۔ پنجاب کے محکمۂ صحت کے مطابق اس مہم کے دوران دو لاکھ سے زیادہ بچوں کو خسرے سے بچاؤ کے ٹیکے لگائے گئے لیکن اس کے باوجود خسرے سے اموات میں کوئی خاص کمی نہیں ہو سکی۔

لاہور کے ہسپتالوں میں خسرے میں مبتلا مریض باقاعدگی سے داخل ہو رہے ہیں پیر کو بھی اس وبا سے پنجاب میں تین بچے ہلاک ہوئے۔

پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ تنویر احمد شائق کا کہنا ہے ’جب بچے کو ٹیکہ لگتا ہے تو تین ہفتے میں مدافعت پیدا ہوتی ہے اور ہمیں توقع ہے کہ مئی کے آخری ہفتے میں لاہور میں خسرے کے کیسز میں کمی آنا شروع ہو جائے گی۔‘

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن خسرے سے ہونے والی اموات کا ذمہ دار محکمہ صحت کو قرار دیتی ہے۔ ایسوسی ایشن کا موقف ہے کہ خسرے کی وباء پر قابو پایا جاسکتا تھا لیکن بدانتظامی اور ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے ایسا کرنا ممکن نہ ہوسکا۔

ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر اظہار احمد چودھری کہتے ہیں ’ہمارے ہاں صحت کے منصوبوں کا اکثر بجٹ تو انتظامی اخراجات پر صرف ہوجاتا ہے یہی وجہ کہ ایسی صورتحال پیدا ہوئی۔‘

ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صوبے میں ویکسین کی مطلوبہ مقدار موجود نہ ہونے کے باعث خسرے کی وبا نے سر اٹھایا۔ تاہم محکمہ صحت کی جانب سے اس الزام کو رد کیا گیا۔

ڈی جی صحت پنجاب تنویر احمد شائق کا کہنا تھا کہ اس وقت بھی صوبے میں خسرے سے بچاؤ کی ویکیسن وافر مقدار میں موجود ہے ۔

’ہمارے پاس ابھی بھی دو لاکھ ویکسین سٹوریج میں پڑی ہوئی ہیں جو کہ ہماری ضرورت کے مطابق کافی ہیں۔ اس کے علاوہ ہم نے گذشتہ ہفتے چارسو اٹھاون ملین ڈالر یونیسف کو جمع کروائے ہیں جس سے ہمیں پندرہ لاکھ مزید ویکسینز جون کے دوسرے ہفتے تک مل جائیں گی۔ جس کے بعد ہم صوبے کے دوسرے اضلاع میں خسرہ روکنے کی مہم چلائیں گے۔‘

خسرے کی وبا چند ماہ پہلے صوبہ سندھ میں پھوٹی تھی جوکہ اب ملک بھر میں پھیل چکی ہے۔ پنجاب میں لاہور شہر اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں اب تک خسرے سے تقریباً ساٹھ بچے ہلاک ہوچکے ہیں۔

لیکن اس وبا سے ہونے والی ہلاکتوں میں والدین کی بھی کوتاہی ہے۔ صحت کے ماہرین کے مطابق خسرے سے بچاؤ کی ویکیسن بچوں کو دو بار دینا ضروری ہے۔ نو ماہ اور پھر پندرہ ماہ کی عمر میں۔ لیکن پاکستان میں والدین کی اکثریت ایک بار تو بچوں کو خسرے سے بچاؤ کے ٹیکے لگوا لیتے ہیں لیکن اس کورس کو اکثر پورا نہیں کروایا جاتا جس کے باعث بچوں میں اس بیماری کے مطلوبہ مدافعت پیدا نہیں ہوپاتی۔

پاکستان میں سکیورٹی مسائل کے باعث پہلے ہی پولیو کے خاتمے کی مہم کو بھی دھچکا لگ چکا ہے۔ پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر حملوں اور پولیو کے قطروں کے خلاف غلط فہمیوں کے باعث پاکستان کو پولیو سے پاک کرنے کا ہدف بھی پورا نہیں ہوسکا اور اب مبینہ انتظامی بےقاعدگیوں اور غیر ذمہ داری کے باعث خسرے سے ہونے والی اموات نے پاکستان کے لیے مزید مسائل پیدا کردیے ہیں۔

اگر اس صورتحال پر جلد قابو نہ پایا گیا تو خدشہ ہے کہ پاکستانیوں پر بین الاقوامی سفری پابندیاں بھی عائد کر دی جائیں۔