طالبان سے مذاکرات بری آپشن نہیں ہے:نواز شریف

  • 20 مئ 2013
Image caption معیشت کی بحالی امن کے قیام اور توانائی کے بحران کے خاتمے سے مشروط ہے: نواز شریف

انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے والی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ طالبان کی جانب سے مذاکرات کی دعوت کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور ملک میں امن مذاکرات سے ہی آئے گا۔

یہ بات میاں نواز شریف نے لاہور میں اپنی جماعت کے نو منتخب ممبران پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

مسلم لیگ نواز کے صدر نے کہا کہ ’ہم نے ہزاروں جانیں دیں ہیں، کھربوں روپے کا نقصان ہوا ہے تو اگر طالبان نے مذاکرات کی دعوت دی ہے تو اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔‘

’کیوں نہ ہم بیٹھ کر بات کریں۔ کیوں نہ بیٹھ کر مذاکرات کے ذریعے اپنے ملک میں امن قائم کریں۔ یہ کوئی بری آپشن ہے؟ میں تو سمجھتا ہوں کہ یہ بہت اچھی آپشن ہے۔‘

نواز شریف نے کہا کہ معیشت کی بحالی امن کے قیام اور توانائی کے بحران کے خاتمے سے مشروط ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام نے انتخابات میں مسلم لیگ کو بھر پور مینڈیٹ دیا اور سڑکوں پر آ کر حکومت کا تختہ الٹنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔

سابقہ حکومت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت بڑی کامیابی ہے کہ ایک منتخب حکومت نے اپنی مدت مکمل کی ہے۔ ’ہم پر بہت دباؤ تھا کہ ہم پارلیمان سے استعفیٰ دیں اور حکومت چھوڑ دیں اور سڑکوں پر آجائیں۔‘

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ’وہ دور گزر گیا اور اسے گزر ہی جانا چاہیے جب سڑکوں پر آکر اقتدار کا تختہ الٹنے کا سلسلہ ختم ہو جانا چاہیے‘۔

حکومت کی مدت کے بارے میں انہوں نے کہ ’پاکستان کے عوام جو مینڈیٹ دیتے ہیں پانچ سال کا اس کو مکمل کرنے کا پورا حق ہے۔ اور قوم کے سامنے جو کارکردگی سابقہ حکومت نے پیش کی اس کا نتیجہ انتخابات میں آپ نے دیکھ لیا۔ پورے لاہور کی تیرہ نشستوں پر انہیں ایک لاکھ ووٹ ملے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کے لیے اپنا کردار ادا کیا اور سب کو یہی کردار ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم نے کبھی منفی اشتہار بازی نہیں کی اور میں نے اس مہم کے دوران کبھی کسی کو گالی نہیں دی۔ ہم نے کوئی ذاتی سطح پر قابلِ اعتراض اشتہار نہیں چلایا۔ ہمارے اشتہار مہذب اشتہار تھے۔‘

انہوں نے دوسری سیاسی جماعتوں کے مینڈیٹ کے بارے میں کہا ’سیاست ایک طرف کر دیں اب ہم نے ملک سنوارنا ہے۔ جہاں جس کی اکثریت ہے اسے وہاں حکومت بنانے کا موقع ملنا چاہیے۔‘

انہوں نے ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کو دعوت دی کہ وہ آئیں اور سندھ کے حالات بہتر بنانے کے لیے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی طرف سے انہیں جو مدد چاہیے وہ بھرپور طریقے سے ملے گی۔

’لیکن پھر اس کے بعد لاشیں وہاں نہیں گرنی چاہیے خون خرابہ نہیں ہونا چاہیے۔ خون خرابہ جہاں کہیں بھی ہو اسے بند ہونا چاہیے اور بندوق اور گولیاں کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی، مسئلے کا حل ہمیشے میز پر بیٹھ کر ہوتا ہے۔‘

نواز شریف نے کہا کہ جمہوری نظام کو چلنے دیا گیا تو پاکستان بہت جلد ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا ۔ انھوں نے کہا جمہوریت کا تسلسل اور اقتدار کی پر امن منتقلی خوش آئند ہے۔

اسی بارے میں